• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیکریٹری لاہور بار کا الزام، فروغ نسیم کی وضاحت


سیکریٹری لاہور ہائی کورٹ بار نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت قانون کی جانب سے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، مطالبہ نہ ماننے پر بار کی گرانٹ کم کردی گئی ہے۔

سیکریٹری لاہورہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن خواجہ محسن عباس نے کہا ہے دباؤ ڈالا گیا کہ بار کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف قرارداد منظور کریں۔

خواجہ محسن عباس نےمزید کہا کہ انہیں وزارت قانون کی جانب سے بالواسطہ اور بلا واسطہ کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بیان دیں گے تو گرانٹ ملے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر بار نے وزارت قانون پر واضح کردیا کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے۔

سیکریٹری لاہور ہائیکورٹ بار کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بیان دینے سے انکار پر بار کو 40 لاکھ روپے کی گرانٹ کا چیک دیا جا رہا تھا، جسے لینے سے ہم نے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ 43 ہزار ممبران کے لیے بار کو اس سے پہلے کروڑوں میں گرانٹ ملا کرتی تھی۔

اس الزام پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ محسن عباس کے عائد کردہ الزامات بے بنیاد اور لغو ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بار کو گرانٹس غیر مشروط طور پر برابری کی بنیاد پر دی جاتی، بار کو دی جانے والی گرانٹس میں کسی قسم کا کوئی سیاسی امتیاز نہیں برتا جاتا۔

قومی خبریں سے مزید