• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دن میں آفس سے گھر لوٹا تو گھر کی حالت دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ میرے تینوں بچے کیچڑ میں لت پت اپنے رات کے کپڑوں میں ملبوس گھر کے لان میں اچھل کود کر رہے تھے۔ پورا لان کچرے سے بھرا پڑا تھا۔ کہیں کھلونوں کے خالی ڈبے، کہیں جوتوں کے تو کہیں پیزے کے۔ کولڈڈرنکس کے کین بھی خالی پڑے تھے۔ میں چپ چاپ پریشان ہو کر گھر کے اندر داخل ہو گیا، وہاں لان سے بھی برا حال تھا۔ ٹی وی لاؤنج میں ٹی وی پوری آواز میں لگا ہوا تھا ۔فرش پر کپڑے بکھرے پڑے تھے۔ 

اگر میں نے اپنے بچوں کو بے فکر باہر کھیلتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو یہی سمجھتا کہ گھر میں کوئی ڈاکہ پڑا ہے۔ ساتھ والے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ ایک عدد لیمپ ٹوٹا ہوا زمین پر گرا پڑا ہے۔ میں کچن میں اپنی بیوی کو دیکھنے گیا تو حیران رہ گیا کہ کچن میں سارے گندے برتن سنک میں ہیں۔ اتنا گند مچا ہوا تھا کہ میں دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا۔ بچوں کے ناشتے کی ڈبل روٹی اور سیریل بھی بکھرے ہوئے تھے۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، کیوں کہ میں نے آج تک اپنا گھر اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ پریشان ہو گیا مجھے لگا کہ ضرور میری بیوی کو کچھ ہو گیا ہے ،تب ہی گھر آج ایسا منظر پیش کر رہا ہے کہ جیسے یہاں نہ کوئی انسان رہتے ہیں اور نہ ہی کوئی سلیقہ شعار عورت۔ میں بھاگ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ مجھے سخت بے چینی ہو رہی تھی کہ کہیں میری بیوی بیمار تو نہیں ہو گئی۔ اوپر کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹی ناول پڑھ رہی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہو گیا ہے؟ 

گھر ، بچوں اور اپنا حلیہ تو دیکھو؟؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے پورا گھر بکھرا پڑا ہے۔ اس نے ناول نیچے رکھا اور بڑے سکون سے بولی کہ، دس سال سے تم روز گھر آکر پوچھتے ہو کہ میں تو اتنا کام کر کے آیا ہوں، میں تو اتنی محنت کرتا ہوں۔ تم بھلا کیا کرتی ہو؟۔میں نے سوچا کہ آج تمہیں بتا دوں کہ جب تم اتنی محنت کر رہے ہوتے ہو تو میں اس وقت کیا کر رہی ہوتی ہوں۔ آج تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا۔ مجھے سمجھ آگیا کہ میری بیوی ہر روز گھر کے کتنے کام کرتی ہے ۔ کتنا کچھ سنبھالتی ہے۔ تب ہی تو روز اپنے صاف ستھرے گھر اور بچوں کے ساتھ میں اچھا وقت گزار تا ہوں۔ بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو دس منٹ میں پورے گھر کی درگت بنا ڈالتے ہیں اور ان کو منع کر کے ان کی حوصلہ شکنی کرنا بھی بہت غلط ہے۔

یہ عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنا گھر، بچے ، اپنا آپ اور اپنے شوہر کی ساری ضروریات کا خیال رکھے اور اگر عورت سست پڑ جائے اور گھر کاخیال نہ کریں تو مرد پریشان ہو جاتا ہے اور اگر یہ روز روز کی روٹین بن جائے ، اس کو خود صفائی کرنی پڑے یا ہر چیز کو سنبھالنا پڑے تو وہ چڑ جاتا ہے ۔ مانا کہ آدمی کا فرض پیسے کمانا ہوتا ہے اور اس میں بہت محنت ہوتی ہے لیکن عورت کا کام بھی کوئی آسان نہیں ہوتا۔ 

بچوں کو سنبھالنا، ان کو کھلانا پلانا،ان کا خیال رکھنا، ان کے ساتھ کھیلنا کودنا، ان کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت پھرکی کی طرح گھومنا اور ان کی ضدیں سارا دن برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ عورت کے فرائض مختلف ضرور ہیں، مگر آسان نہیں ہیں۔ کھی کبھی تو عورت کا کام مرد سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب کوئی بچہ بیمار پڑ جائے یا وہ امتحان میں فیل ہو جائے۔ آج کی بیوی نے ایک دن میں شوہرکو سکھا دیا کہ عورت کا گھر بنانے اور چلانے میں کتنا اہم کردار ہوتا ہے۔