• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند دن قبل کی بات ہے، میں بستر پر لیٹے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ،ایک بیٹی جو سالوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، شادی کے بعد اب کہاں ایک انجانے شخص کے سا تھ جو اس کا شوہر ہوتا ہے، زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ اور اس شخص کے لیے اس نے اپنا گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے ساتھ رہ رہی ہے ،جس کی عادت واطوار، چال چلن تک سے ناواقف ہوتی ہے ۔ 

اس کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا…کیسے ہوتے ہیں کچھ شوہر، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مارتے ہیں… بلکہ کچھ تو دھکے دے کر اپنے گھر سے بھی نکال دیتے ہیں، اسے واپس اپنے ماں باپ کے اُس گھر بھیج دیتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی …کیسے ہوتے ہیں کچھ شوہر، جو بیویوں کو گھر میں چھوڑ کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ 

ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں، جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا…کیسے ہوتے ہیں کچھ شوہر جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کے لیے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، انہیں کبھی باہر لے کرجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں…کیسے ہوتے ہیں کچھ شوہر، جو اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنسو لانے کی وجہ بنتے ہیں …کیسے ہوتے ہیں کچھ شوہر جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کے لیےگھر چھوڑ کر دیار غیر چلے جاتے ہیں۔ 

پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزری …کیسے ہوتے ہیں کچھ وہ شوہر، جو اپنی اُس ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں ،جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی …معزز حضرات !اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بے پناہ عزت دو، اس لیے کہ ایک تمہیں دنیا میں لائی اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی۔