• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاطمہ خان

نوجوان وہ دولت ہی ہے جو کسی بھی ملک کی معیشت کو چار چاند لگا سکتی ہے، مگر ساتھ ہی ایسا سرمایہ ہیں جو کہ ملک کو تباہ و برباد بھی کر سکتا ہے۔ اسی لیے تمام ممالک اپنی نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے لیے اہداف متعین کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین تعلیمی ادارے بناتے ہیں۔ معاشرے کو صحت مند معاشرہ بنانے کے لیے وہ نو جوانوں پر انحصار کرتے ہوئے معاشرے میں ان کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق اقدامات اٹھاتے ہیں۔ 

ان کو ان کے مستقبل کے معاملات میں بہترین مشاوراتی ٹیمیں اور ادارے مہیا کیے جاتے ہیں۔ امن و سکون کا ماحول نوجوانوں کو خود میں صحت مند رویے اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن آج کے دور میں نوجوان نسل کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، جس نے نسلِ نو کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ چیلنجز کیا ہیں ان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔

ففتھ جنریشن وار

نسل نو کو درپیش چیلنجز میں سب سے اہم ففتھ جنریشن وار ہے۔ پہلے جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں، مگر اب جنگ لڑنے کے لیے نا تو فوجی قوت کی ضرورت ہے، نہ جنگی آلات کی اور نہ ہی میدانوں کی۔ اپنی نشست پہ بیٹھ کر ملک بلکہ دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ جنگ دماغ سے کھیلی جاتی ہے، اسی لیے دشمن عناصر نے نوجوانوں کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ 

معاشرے کے صحت مند رویوں کو غلط راہ پہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس سے نوجوان نسل اپنے مقصد سے ہٹ کر غیر ارادی سرگرمیوں میں شامل ہوگئ۔ ملک وملت کے لیے کچھ کرنے اور پانے کی جدوجہد بھول کر وہ ففتھ جنریش وار کا شکار ہے۔ اپنی خودی کو فراموش کر کے دشمن کے آلہٕ کار بن گئ۔ نتیجتاً اُن میں آگے بڑھنے کے جذبے کا فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے فیشن اور ٹیکنالوجی کی رنگین دنیا دیکھ کر اپنے آباواجداد کی دی گئی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

تعلیمی فقدان

پچھلے دو برس سے پوری دنیا ایک ایسی مشکل سے دوچار ہے جس نے معیشت کے ساتھ ساتھ تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ کرونا وبا نے دنیا کو محدود کر دیا۔ معیشت کا پہیہ تقریباََ رک گیا ۔ صحت کی سہولیات کم ہیں جب کہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو اس وبا سے اتنا زیادہ نقصان نہیں ہو جتنا ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک۔ 

اسکول، کالج، یونیورسٹیز سب بند ہیں یا برائے نام کھلے ہیں، جس سے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنا ناممکن لگ رہا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے لیکن تعلیمی اداروں کی بندش سے نوجوان نسل افراتفری کا شکار ہے۔ اس وقت جب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ اس وبا نے تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنےکے سب ہی راستے بند کر دیے ہیں۔

غربت

موجودہ وقت روٹی، کپڑا، مکان کی ضروریات سے بہت آگے نکل گیا ہے، فی کس آمدنی کم ہوتی جارہی ہے، جبکہ خواہشات اپنی حد سے نکل کر تعیشات تک جا پہنچی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم ہو، ان کو قومی آمدنی میں بھی کمی کا سامنا ہوتا ہے، مگر ہماری نوجوان نسل اس بات سے قطع نظر اپنی خواہشات کے بے لگام گھوڑے دوڑانے میں مگن ہے۔ وہ فیشن، حسن پرستی اور دکھاوے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ ضروریات کی قید سے آزاد ہے۔ زندگی کے معاملات میں وہ مغرب کی پیروی کو اپنا احسن قدم سمجھتے ہیں۔ اپنے وسائل کو ناکافی سمجھتے ہوئےے مغرب کا حصہ بنناا ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ 

بیرون ملک جانے کا خواب دیکھنے والی فہرست کافی طویل ہے ،جہاں جا کر اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے اکثر غلط راستوں کا استعمال کرتے ہیں اور پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔ ہر سال سیکڑوں نوجوان اعلی تعلیم کے بعد غیر قانونی طریقوں کو اپناتے ہوئےا سملنگ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر باقی ماندہ زندگی اس ملک کی جیل میں گزار دیتے ہیں۔ جو شاذونادر ان دو مراحل سے بچ جائیں وہ کسی ریستوراں میں بیرہ گیری کرتے نظر آتے ہیں۔ مغربیت کے سحر میں مبتلا ہو کر نوجوان نسل اپنی سمت کا صحیح تعین بھی نہیں کر پاتے۔

سوشل میڈیا

آج کےنوجوان اپنی تمام تر توجہ جس چیز پہ رکھے ہوئے ہیں، وہ ہے ’’سوشل میڈیا‘‘۔ کسی کا ساتھ دینا ہو، کسی کی مخالفت کرنی ہو، کوئی لین دین، کسی خبرکی تشہیر کر، کوئی سنسنی پھیلانی ہو، یہ تمام کام سوشل میڈیا کے توسط سے ہی ممکن ہو سکتے ہیں۔ آج کا نوجوان موجودہ دور کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس سے منسلک ہے، کیونکہ وہ دنیا میں ہونے والے ہر واقعے سے باخبر رہنا چاہتا ہے، چونکہ یہ موجودہ دور کا تقاضا ہے لہذ وہ ا اسے زندگی کی تمام تر مصروفیات سے بڑھ کراپناتا ہے۔ اس کی تعلیم، گھر، کاروبار سب اس کے لیے ڈی گریڈ ہو چکے ہیں۔وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا بھی چاہے تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

صحیح سمت کا تعین

نوجوان نسل کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اپنے شوق کے مطابق تعلیم کا حصول ہے، بعدازاں اپنی تعلیم سے متعلق نوکری یا کاروبار کا انتخاب ہے۔ دراصل ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں بچے کی پیدائش کے فوراََ بعد یا چند سال بعد ہی فیصلے کرلیےجاتے ہیں کہ آیا بچہ ڈاکٹر بنے گا یا انجینئر۔ بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اس کے شوق کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ خاندانی دباو ٔکی وجہ سے وہ اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل نہیں کر پاتا، یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔

سیاسی وابستگیاں

نسلِ نو کو درپیش چیلنجز میں ایک سیاسی وابستگی بھی ہے۔ اسکول، کالج کے طلباءکو سیاسی پارٹیاں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کی برین واشنگ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم چھوڑ کر سیاسی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں۔ اپنے اہداف اور مقاصد پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کے لیے ملکی سالمیت کی اہمیت کم جبکہ اپنی سیاسی پارٹی اور سیاسی لیڈر کا مینڈیٹ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ دینےقائداعظم نے طلبہ کو اپنی تعلیم پہ توجہ کا پیغام دیا تھا۔ انہیں دورِ طالبعلمی میں سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا، تاکہ تعلیم مکمل کر کے اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں۔

یہ وہ بےحسی کا دور ہے جس میں کشمیر، فلسطین سمیت اب کرونا وبا کا سامنا ہے۔ ان تمام چیلنجزنے امت مسلمہ کو افراتفری کا شکار بنا دیا ہے۔ ہر ملک کی خارجہ پالیسی اس کی معیشت پہ بلواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اثر انداز ہوتی ہے، جس کا اثر نوجوان نسل پربھی پڑ تاہے۔ وہ ان معاملات کو لے کر شکوک وشبہات میں مبتلا رہتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی شعبے میں دلجمعی سے کام نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً نوجوان نسل کسی بھی معاملے میں اپنا کردار ادا نہیں کرپاتی۔ آخر ان چیلنجز کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ یہ سوچنا اور کچھ کرنا والدین اور اساتذہ ہی کی ذمہ داری نہیں خود نوجوانوں اور حکمرانوں کی بھی ہے۔