آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے دو نعرے لگا کر 2013ء کا عام الیکشن جیتا، ان کا پہلا نعرہ تھا
اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو، پرواز میں کوتاہی
دوسرے لفظوں میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بھیک نہیں مانگیں گے، کشکول توڑ دیں گے، مگر الیکشن کے بعد کے حالات نے ثابت کیا ہے کہ سیاست دان ”طائر لاہوتی“ نہیں، بندہ خاکی ہوتا ہے، جسے اپنی ہی کہی بات، اپنے ہی لگائے ہوئے نعرے سے واپس پھرنے میں کسی لمبی چوڑی دشواری یا شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، زیادہ سے زیادہ وہ ٹیلیویژن پر آ کر یہ کہہ دیتا ہے کہ ”میں نے کوئی قرآن یا حدیث نہیں بیان کی تھی صرف ایک پولیٹیکل Statement دی تھی“ یا پھر وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ”یہ بات میں جذبات میں آ کر کہہ گیا تھا!“ اللہ اللہ خیرسلا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کو 5 ارب 30 کروڑ کا قرضہ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، اس خوشی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جو پریس کانفرنس کی اس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ ارشاد بھی فرمایا کہ ”اچھے مستقبل کے لئے آج مشکلات برداشت کرنا پڑیں گی“۔ یقین کیجئے آنے والے وقت میں صرف مشکلات نہیں ہو نگی، مہنگائی کے طوفان ہوں گے، بے روز گاری کے زلزلے ہوں گے اور غربت کا سونامی ہو گا، جو شاید ہم سب کو بہا لے جائے… اب سرکاری اثاثے بکیں گے، خصوصاً بجلی

اور توانائی کے شعبے کے اثاثے… ”انرجی کنگ“ سب کچھ خریدنے کے لئے تیار کھڑا ہے، اس نے اپنا ہوم ورک چھ ماہ پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔
مجھے آج کے کالم میں آئی ایم ایف کی ڈیل پر کچھ زیادہ نہیں کہنا… یہ ذلتوں کی قسط وار کہانی ہے یہ داستان ہر دفعہ ایک نیا دھماکہ لے کر آئے گی آج مجھے میاں نواز شریف کے ایک اور انتخابی نعرے پر بات کرنا ہے!
میاں صاحب نے گڈ گورننس، کارپوریٹ گورننس، سرکاری اداروں کو بہتر چلانے اور Transprancy شفافیت کا نعرہ لگایا تھا!!
مگر پنجابی میں ایک صدیوں پرانا محاورہ بھی ہے کہ ”کر سیوا تے کھا میوہ“ میاں صاحب کے نعرے سے زیادہ یہ نعرہ سچا ثابت ہوا۔
آصف علی زرداری کی حکومت کو کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ گالی پڑی، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری اداروں میں لوٹ مار کی انتہا کر دی جن اداروں کے حوالے سے، یہ الزامات لگے، ان میں پاکستان سٹیل ملز، ریلوے اور پی آئی اے شامل تھے ، اپنی حکومت کے پانچویں ہفتے میں میاں نواز شریف نے ”اصلاح“ کا آغاز PIA سے کیا ہے۔
مگر ذرا رکئے… اصلاح کی یہ کہانی، آج سے نہیں تقریباً بائیس تئیس سال پہلے سے شروع ہوئی ہے!!
میاں نواز شریف، جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں معزول ہو کر عدالتوں میں در بدر ہو رہے ہیں، ہائی جیکنگ کے مقدمے میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے، فوجی جرنیل میاں نواز شریف، کو ”نشان عبرت“ بنانے پر تلے ہوئے ہیں کہ خفیہ ہاتھ حرکت میں آتے ہیں کوئی امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کا نام لیتا ہے تو کوئی سعودی عرب کے فرمان روا شاہ عبداللہ کا، مگر ان غیر ملکی رہنماؤں اور پاکستان کے فوجی حکمران کے درمیان ”وچولڑے“ کا کردار ادا کیا، لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری اور ان کے بیٹے سعد الحریری نے۔ لبنان کا الحریری خاندان سعودی عرب کے شاہی خاندان سے بہت قربت رکھتا تھا۔ الحریری کے پرائیویٹ ہوائی جہاز کا کپتان ایک پاکستانی شخص تھا جس کا نام تھا شجاعت عظیم! جس نے سعد الحریری کے ساتھ مل کر میاں صاحب کو پاکستانی جیل سے رہائی دلانے اور جدہ کے سرور پیلس پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
2013ء میں میاں نواز شریف نے الیکشن جیتا، وزارت عظمیٰ سنبھالی تو شجاعت عظیم کو اپنا مشیر برائے شہری ہوا بازی (Civil Aviation) بنادیا… یوں وہ عملاً PIA کے Defacto وزیر بن گئے۔
ان کا کاروبار بھی Aviation سے وابستہ ہے ان کا ایک ادارہ ہوائی اڈوں پر فضائی کمپنیوں کو گراؤنڈ سپورٹ مہیا کرتا ہے جبکہ مواصلات سے متعلق ان کے ایک ادارے نے حال ہی میں پی آئی اے کو ملتان اور فیصل آباد کے لئے دو ٹیلی فون ایکسچینج بھی فروخت کئے ہیں بہرحال یہ "Conflict of interest" کا کیس ہے!
یہی صاحب ”ہنر فاؤنڈیشن“ کے نام سے ایک این جی اور بھی چلاتے ہیں تین روز پیشتران کی اس این جی او کے تین ارکان کو PIA کے بورڈ آف گورنرز میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے سب سے بوڑھے صاحب کو جو ساری عمر ایک سگریٹ کمپنی میں ملازمت کرتے رہے، پی آئی اے کا چیئرمین بنادیا گیا ہے!
ایک صاحب کا تعلق ایک مشروبات ساز ادارے سے ہے! سنا یہ گیا ہے کہ اب PIA میں ان کے تیار کردہ مشروبات کے سوا کوئی اور خریداری نہیں ہوتی۔
تیسرے صاحب کے بارے میں بھی یہی اطلاع ہے کہ وہ PIA میں سپلائر ہیں!!
بات ”گڈ گورننس، کارپوریٹ گورننس اور شفافیت“ سے شروع ہوئی تھی۔ اگر میاں نواز شریف PIA جیسے ادارے کو مالی بحران سے نکالنے کے خواہشمند ہیں تو ایسی تقرریاں، چہ معنی؟ باقی بچے، عوام تو ان کا حال ہرنام سنگھ جیسا ہے، جس کی شادی ہو رہی تھی…
شادی کی رسومات مکمل ہو گئیں تو سکھ گرنتھی نے غریب ہرنام سنگھ سے کہا
”اب تم اپنی دلہن کے سامنے، با آواز بلند عہد کرو کہ تمہارا جو کچھ بھی ہے، وہ تمہاری بیوی کا ہوا!“
یہ سن کر باراتیوں کے مجمعے میں سے آواز آئی
”لو بھیا… آج غریب ہرنام سنگھ کی سائیکل بھی گئی!!“

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں