• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

’’حج‘‘ اسلام کا اہم ترین رکن اوردین کا بنیادی ستون ہے، جس پر دین اسلام کی عمارت قائم ہے، گویا حج کے بغیر اسلام کی عمارت ناقص و نا مکمل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر اس مسلمان عاقل وبالغ شخص پر،جو بیت اللہ شریف تک پہنچنے کی استطاعت و قدرت رکھتا ہو،زندگی میں کم ازکم ایک مرتبہ حج بیت اللہ کو لازم و ضروری قرار دیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: :حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طورپر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے ، جو لوگ بیت اللہ تک آنے کی استطاعت رکھتے ہوں ،ان پر اللہ تعالیٰ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے ۔(سورۂ آل عمران :۹۶؍۹۷)

اس آ یت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین عظام نے لکھا ہے ،جو شخص صاحب استطاعت ہو یعنی اپنے اہل وعیال اور زیر کفالت اشخاص کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے بعد سفر بیت اللہ کامتحمل ہو اُس پر لازم ہے کہ وہ ایام حج میں اللہ تعالیٰ کے گھر جا کر متعلقہ مناسک اداکرے ۔ حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے کے ہیں اور شریعت کی روشنی میں حج اُس عبادت کو کہتے ہیں جس میں بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی مال ، صحت اور حج کرنے کی طاقت رکھتاہے تو وہ صاحب استطاعت ہے ،ضرور حج کرے۔

صاحب استطاعت کے مفہوم میں کون کون سے امور داخل ہیں تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ فریضۂ حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھنے والے شخص کے پاس ضروریات اصلیہ سے فاضل اتنا مال ہو جس سے بیت اللہ شریف تک آنے جانے اور وہاں کے قیام کا خرچ برداشت کر سکے اور اپنی واپسی تک ان اہل و عیال کے اخراجات کا بھی انتظام کرسکے جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے، نیز معذور نہ ہو ، کیونکہ ایسے معذور شخص کو تو اپنے وطن میں چلنا پھرنا مشکل ہوتا ہے، وہاں جانے اور ارکان حج ادا کرنے پر قدرت کیسے ہوگی،البتہ ایسا شخص اپنی جانب سے ایک صحت مند اور تندرست شخص کو اپنا نائب بنا کر اپنے خرچے سے سفرِ حج کے لئے روانہ کرےگا۔

اسی طرح عورت کے لئے چونکہ بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں، اس لئے وہ حج پر قادر اس وقت سمجھی جائےگی ،جبکہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم یا شوہر حج کرنے والا ہو، خواہ محرم اپنے خرچ سے حج کر رہا ہو یا یہ عورت اس کا خرچ بھی برداشت کرے، اسی طرح استطاعت کا ایک جزء یہ بھی ہے کہ راستہ پرامن اور محفوظ ہو، اگر راستے میں بدامنی ہو، جان و مال کا قوی خطرہ ہو تو حج کی استطاعت نہیں سمجھی جائےگی۔دوسری بات اس آیت میں صاحبِ استطاعت لوگوں پرحج کے فرض ہو نے کا اعلان فرمانے کے بعد یہ بیان کی گئی ہے کہ جو شخص حج کا انکار کرنے والا ہو، تو اللہ تعالیٰ تمام جہاں والوں سے بے نیاز ہے،یعنی اللہ کو ایسے ناشکرے اور احسان فراموش شخص کی عبادت کی چنداں ضرورت نہیں۔

مفسرین عظام نے لکھاہے کہ اس آیت میں ان لوگوں کے لئے بھی سخت وعید ہے، جو عقیدے کے طور پر حج کو فرض تو سمجھتے ہوں، لیکن استطاعت و قدرت ہوتے ہوئے بھی حج کی ادائیگی سے پہلوتہی کررہے ہوں، حج کرنے کو نیکی سمجھ رہے ہوں اور نہ اس کے ترک کو گناہ جان رہے ہوں، کیوں کہ ایسے لوگ اپنے عمل سے حج کے منکر بن رہے ہیں، گویا وہ اپنے اس عمل سے کافروں کی طرح ہوگئے، چنانچہ مفسرِ قرآن سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی جوکوئی حج کا انکار کردے،پس حج کو نیکی نہ سمجھے اور نہ اس کے ترک کو گناہ جانے،۔(السنن الصغير للبيہقی، کتاب المناسک: 1451) اسی طرح مشہور تابعی حضرت مجاہد ؒسے منقول ہے: حج کرے بھی تو اسے نیکی نہ جانے اور اگر حج کرنے سےرہ جائے(حج نہ کرے) تو اسے گناہ نہ سمجھے-(تفسير طبری) یہ کتنی بڑی وعید ہے کہ استطاعت ہوتے ہوئے حج میں تاخیر کرنے سے انسان کفر کے قریب جا پہنچتاہے، ایمان کی دولت تک کے چھن جانے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کی سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اسے پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے ، تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ــ”اللہ تعالیٰ کے لئے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں‘‘۔(ترمذی)

مطلب یہ ہے کہ حج کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود جو لوگ حج نہ کریں ان کا اس حالت میں مرنا اور یہودی یا عیسائی ہوکر مرنا گویا برابر ہے ۔ حج نہ کرنے والوں کو یہو د ونصاریٰ کے مشابہ قرار دینے میںراز یہ ہے کہ عیسائی اور یہودی حج نہیں کیا کرتے تھے ، بہر حال آیت کریمہ اور حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ بغیر حج کیے مرنے والے بڑے ناشکرے اور نافرمان بندے ہیں ، ان کی اللہ تعالیٰ کوکوئی پروا نہیں ۔اس میں شک نہیں کہ حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنا کافرانہ طرزِ عمل ہے جو سخت گناہ ہے ، جس سے توبہ کرنا واجب ہے اور حج فرض اداکرنے کی فکر کرنا لازم ہے ۔

حضرت ابن عباسؓفرماتے ہیں : جس شخص کے پاس اتنا مال ہو کہ حج کرسکے لیکن وہ حج نہ کرے ، یا اتنا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہو، لیکن زکوٰۃ ادانہ کرے ، وہ مرتے وقت دنیا میں واپس آنے کی تمنا کرے گا۔(کنزالعمال)اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث میںاستطاعت کے باوجود حج ادانہ کرنے پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، اس لئے جس مسلمان مرد وعورت پر حج فرض ہو، اسے جلد از جلد اس فرض کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے ، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں کہ کب موت آجائے اور آدمی ان خطرناک وعیدوں کا مستحق بن جائے ۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ حج فرض ہونے کے باوجود حج اداکرنے سے بڑی غفلت کرتے ہیں اور مختلف قسم کی تاویلیں اور بہانے پیش کرتے ہیں۔بعض لوگوں کوجب توجہ دلائی جائے کہ آپ پر حج فرض ہے ،اسے جلدی اداکریں تو وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے گھر میں ماحول نہیںہے اور ہمارے یہاں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں ، یہ سراسر بہانہ ہے جو آخرت میںہرگز نہیں چلے گا۔

بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ پہلے ہم نماز ، روزہ وغیرہ کے تو پابند ہوجائیں، پھر ہم حج بھی کرلیں گے ، اور اسی میںساری زندگی گزرجاتی ہے ، نہ حج کرتے ہیں اور نہ نماز ، روزہ کے پابند ہوتے ہیں۔حالانکہ حج کا فرض ہونا نماز روزہ کی پابندی پر موقوف نہیں ہے ، نماز الگ فریضہ ہے ، حج ایک الگ فریضہ ہے ، دونوں کو اپنی اپنی جگہ انجام دینا ضروری ہے، ایک کی وجہ سے دوسرے کو چھوڑنا اپنے آپ کو دوہرے گناہ میں مبتلا کرنا ہے اور اگر دیکھا جائے تو ایک آدمی جو نمازوں کا پابند نہ ہو اور دیگر عبادتوں میں دل نہ لگتا ہواور وہ حج کے لئے چلا جائے تو اس کی اچھی تربیت ہوسکتی ہے ، کیونکہ عبادت کے ماحول میں انسان عبادتوں کا عادی بن سکتا ہے ۔

بعض لوگ جوانی کے زمانے میں یہ سوچ کر حج نہیں کرتے کہ حج کے بعد کوئی گناہ نہیں کرنا ، لہٰذا آخری عمر میں حج کریں گے ،تاکہ اس کے بعد پھر کوئی گناہ نہ کریں ۔یہ بھی محض ایک بہانہ ہے ، کیونکہ موت کا وقت تو کسی کو معلوم نہیں ، اور کیامعلوم حج کا موقع بھی ملے یانہ ملے ، اس وقت صحت وہمت ہو یا نہ ہو ، مال ہو یانہ ہو ۔کچھ لوگ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ پہلے بچیوں کی شادی کرکے اس فرض سے فارغ ہوجائیں ،پھر حج کریں گے ، یہ تاویل بھی شرعاً قابلِ قبول نہیں ، حج فرض ہونے کے بعد بچیوں کی شادی کی وجہ سے تاخیر کرنا جائز نہیں ۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اولاد اپنے ماں باپ کو حج نہ کرائے اور والدین حج نہ کرلیں ،اس وقت تک اولاد حج نہیں کرسکتی ، اس لئے پہلے وہ والدین کو حج کرانے کی فکرمیں رہتے ہیں ، جبکہ والدین پر حج فرض نہیں ہوتا، اور وہ اپنے اعذار کی وجہ سے حج کے لئے تیار بھی نہیں ہوتے ، نتیجہ یہ کہ اولاد اپنا حجِ فرض ادانہیں کرتی ۔ یہ بھی سراسر غلط ہے ۔ ماں باپ کو حج کرانا اولاد پرفرض نہیں ہے ، لہٰذا اگر اولادپر حج فرض ہوتو پہلے اپنا حج کرنا چاہئے ، پھر اگر اللہ پاک مزید استطاعت دیں تو والدین کو بھی حج کرادیں ۔یہ غلط تاویلات اور حج سے جی چرانے کے محض بہانے ہیں ، ان کی وجہ سے حجِ فرض میں تاخیر کرنا جائز نہیں ، بلکہ حج فرض ہونے کے بعد جلد از جلد اداکرنے کی فکر کرنی چاہئے، ایک حدیث شریف میں آتا ہے : حج میں جلدی کرو، کسی کو کیا خبر کہ بعد میں کوئی مرض پیش آجائے یا کوئی اور ضرورت درمیان میں لاحق ہوجائے ۔ (کنز العمال)

معقول عذر کے بغیر ترکِ حج اور تاخیر پر وعید کی مذکورہ تفصیلات کے بعد یہ فیصلہ کرنا دشوار نہیں کہ جو حضرات مال کی فراوانی کے باوجود حج کو ترک کردیتے ہیں یا بڑھاپا تک ٹالتے ہیں یا دوسری گھریلو ذمہ داری کو مقدم سمجھتے ہیں ،وہ اپنی محرومی اور بربادی کا سامان فراہم کررہے ہیں، کیا یہ محرومی نہیں کہ خود اللہ فرمادیں مجھے ایسے ناشکرے اور احسان فراموشوں کی عبادت کی کوئی ضروت نہیں، واقعی بڑی جرأت کی بات ہے کہ جس پروردگا نے مال کی فروانی اور صحت و تندرستی سے نوازا ہے، اس کے گھر کی زیارت کے لئے اس کی دعوت پر لبیک نہ کہا جا ئے، چنانچہ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں بندے کو صحت اور مال عطاکروں اور اس پر پانچ سال گزرجائیں اور وہ میری طرف نہ آئے تو وہ محروم ہے، (صحیح ابن حبان) پھر یہ کہ خدا نخواستہ اگر فریضۂ حج کی ادائیگی سے پہلے موت آگئی تو سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے، ہو سکتاہے کہ اسلام کے بجائے یہودیت یا نصرانیت پر موت واقع ہوئی ہو، ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑھ کر محرومی کی کوئی بات ہوسکتی ہے؛ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم پہلی فرصت میں اپنے مال کا تجزیہ کریں، اور فراوانی ہونے کی صورت میں حج کےلئے ترجیحی طور پر فکر کریں اور جلد از جلد حج کی سعادت حاصل کریں،کیونکہ اللہ کے نبی ﷺکا پاک ارشاد ہے:جو حج کا ارادہ کرے، اسے چاہئے کہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرے،( سنن ابوداؤد شریف، کتاب المناسک) دعاہے کہ اللہ ہمیں دین کی اور بطور خاص فریضۂ حج کی صحیح فکر عطا فرمائے، نیز ہم سب کو حجِ بیت اللہ کی دولت سے سرفرازفرمائے ۔(آمین)