• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں زمین کے تنازع میں قتل کی وارداتوں میں ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کے نہ ہونے اور بااثر افراد کی آشیر باد کے باعث مظلوم کو انصاف کی عدم فراہمی اور عدالت میں وکیلوں کے تاخیری حربوں اور پولیس کی جانب سے کمزور کیس بنانے اور شہادتوں کو ضائع کرنے سے بھی مقتول کا خون ناحق ضائع اور مظلوم کے اہل خانہ عمر بھر اپنے پیاروں کی جدائی اور قاتلوں کے فاتحانہ جملوں کے نشتر سہتے رہ جاتے ہیں، اسی طرح کا ایک واقعہ نواب شاہ کے قریب پھل شہر میں پیش آیا، جس میں گاؤں ہاشم پھل میں مسلح ملزمان نے گاڑی پر فائرنگ کر کے وگن برادری کے تین افراد عطا محمد ،صدام اور امید علی وگن، جب کہ ٹیکسی کار کے ڈرائیور لیاقت لغاری کو جوکہ انہیں لے جارہا تھا، ہلاک کردیا گیا۔ 

اس سلسلے میں علاقہ مکینوں کے مطابق بیس سال قبل گوٹھ کنڈا مری اور گاؤں حسین بخش کی وگن برادری کے درمیاں بارہ ایکڑ زمین، جس کا قبضہ وگن برادری کے پاس ہے، چل رہا تھا، جب کہ اس جھگڑے میں مری برادری کے جان محمد اور جعفر مری، کچھ ماہ قبل عدالت سے واپسی پر بلاول مری کو گھات لگاکر قتل کردیا گیا ، اس کے جواب میں وگن برادری کے ٹیچر ننگر خان وگن اور ایک اور شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اسی بارہ ایکڑ زمین کی ملکیت کے تنازع نے مزید چار افراد اس طرح نو افراد کو لقمہ عمل بنادیا گیا ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ زمین کی قیمت بھی اتنی نہیں جنتی فریقین اس کے حصول کے لیے عدالتی چارہ جوئی میں خرچ کرچکے ہیں۔ 

جب کہ قتل ہونے والوں کے بیوی بچے ماں باپ بہن بھائی اپنے پیاروں کی عمر بھر کی جدائی کا روگ لیے انتقام کی بھٹی میں سلگتے رہنے ہیں جبکہ اس کہانی کا دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ حالیہ تین وگن برادری کے تین افراد کے ساتھ قتل ہونے والا ٹیکسی ڈرائیور جو کہ دیہاڑی مزدور اور ٹیکسی چلاکر اپنے بیوی بچوں کی گزربسر کرتا تھا بے گناہ مارا گیا ۔اب اس کی بیوی اور بچوں کو کیس ختم نہ ہونے تک عدالت کے چکر کاٹنے کے علاوہ خرچ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ 

سندھ میں سول سوسائٹی کی جانب سےقبائلی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے بنائے گئے منت میڑ قافلوں کو نہ تو مری اور نہ ہی وگن برادری نے عزت دی اور بارہ ایکڑ زمین نو انسانی جانوں کا خون پینے کے باوجود اب بھی خون کی پیاسی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس قتل وغارت گری کو روکنے میں پولیس کی جانب سے بھی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔

دوڑ کے گاؤں نظیر احمد میں کمبوہ برادری کے دو گروپوں کے درمیان رشتے کے تنازع پر دو بھائیوں کے قتل اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف ورثاء نے لاش سمیت دھرنا دے کرٹریفک بلاک کردی ۔ اس سلسلے میں مقتولین کے رشتے دارعبدالخالق کمبوہ نے جنگ کو بتایا کہ گاؤں نظیر احمد میں رشتہ کے تنازع پر فائرنگ کرکے ہلاک کئے جانے والے دو سگے بھائیوں اصغر اور ارشد کمبوہ کے قتل سے قبل مقتول پارٹی کےافراد نے عدالت سے پرو ٹیکشن لی اور اس بارے میں پولیس کو آگاہ بھی کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت سے پروٹیکشن لینے کے بعد مخالفین میں مزید شدت آگئی اور دھمکیوں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ اس بارے میں پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا، لیکن پولیس نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جب اطلاع ملی کہ مخالفین لڑائی کے لیے آرہے ہیں، تو پولیس کو 15 پر اطلاع دی گئی اور علاقہ ایس ایچ او مقصود احمد چنا کو بھی بروقت اطلاع دی، لیکن پولیس کی غفلت ان کے پیاروں کو ان سے جدا کرنے کا سبب بنی ۔

دو جواں سال لاشے گرے تو مقتولوں کے رشتے دار بھی آپے سے باہر ہوگئے اور وہاں ہجوم میں شامل افراد نے ایک ٹرک اور دودوکانوں کو آگ لگادی جبکہ مقتول کے اہل خانہ اور رشتے داروں نے مہران ہائی وے پر لاش سمیت دھرنا دے کر سندھ پنجاب ٹریفک بلاک کردیا، جس کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور شدید گرمی میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس سلسلے میں ایس ایچ او دوڑ مقصود چنا کا کہنا تھا کہ تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا گیا ہے تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی تعیناتی کے بعد اس طرح کے واقعات ان کے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید