• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: وقار ملک۔۔۔ کوونٹری
میرا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں اور نہ ہی کبھی کسی کی حمایت کی حق اور سچ کو دیکھنے پرکھنے کا جب موقع ملاتو آواز بھی اٹھائی اور قلم کے ذریعے اجاگر بھی کرنے کی کوشش کی بالخصوص جب بعض اورسیز پاکستانی اپنی سیاست چمکانے کی غرض سے قانون ہاتھ میں لیتے ہیں یا پھر پاکستان کا وقار روندنے کی کوشش کرتے ہیں تو دل بوجھل اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جس کی وجہ پاکستان سے ہماری محبت اور انس ہے جیسا کہ گزشتہ چند روز قبل عیدالاضحی کے دن پاکستان کے سابق وفاقی وزیر کے ساتھ ہتک آمیز اقدام ہوا بھرے ریسورنٹ میں گالی گلوچ کے ذریعے تماشا لگا کسی صورت بھلایا نہیں جا سکتا ہوٹل انتظامیہ کے مطابق عابد شیر علی کی بکنگ تھی جو انھوں نے دو روز پہلے کرائی تاکہ عید کی خوشی کے موقع پر اہل خانہ کے ہمراہ کھانا کھا سکیں اصولی طور پر بکنگ کرانے والا دیر سے بھی پہنچے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ باہر لگی قطار کی پروا کیے بغیر داخل ہو سکتا ہے لیکن یہاں عابد شیر علی اپنی فیملی کے افراد کے ساتھ وقت مقررہ پر ہی داخل ہو ئے جن کا دل بہلانے کے لیے ہی انھیں زبردستی لایا گیا کیونکہ عابدشیرعلی کی اہلیہ اور ماموں کی وفات پر سخت صدمے سے دو چار تھے جبکہ دوسری پارٹی نے اپنے جھوٹ کا آغاز ہی اسی سے کیا کہ عابد شیر علی اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد قطار کو پھلانک کر اندر داخل ہوئے ہیں اسی طرح انھوں نے دوسرا بڑا جھوٹ بولا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق بھی نہیں پھر انھوں نے ہی عابد شیر علی کے ٹیبل کا گھیراؤ کیا مرد خواتین کو ہراساں کیا اور عیدالاضحی کے دن وہ تماشا لگایا جس سے شخصیات نہیں صرف اور صرف پاکستان کا نام بدنام کیا گیا جوکچھ عابد شیر علی نے کہا وہ ری ایکشن تھا جسے سیلف پروٹکشن کہا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اس خاندان نے خوب شہرت پائی جگہ جگہ اس خاندان کے افراد کے انٹرویوز ہوئے فوٹوز شیئر ہوئیں دنیا میں مقیم پی ٹی آئی کے بیشتر افراد نے انھیں تھمزاپ کیےان کی حوصلہ افزائی کی یہاں تک بھی سنا گیا کہ وزیراعظم نے بھی فون کر کے داد دی اور انھیں برطانیہ میں اہم عہدہ دینے کی بھی پیش کش کی گئی جس کے لیے وہ عرصہ دراز سے متمنی اور کوشاں تھے حتیٰ کہ پاکستان میں ہونے والے ڈی چوک دھرنے میں بھی شرکت کی لیکن کبھی آگے نہ آسکے بلکہ عمران خان سے ملاقات بھی نہ کر سکے اس لیے شارٹ کٹ کا طریقہ اپنایا جس سے ان کی اپنی پارٹی کے اندر بلے بلے لیکن پیارے پاکستان کی تضحیک ہوئی جس کا کسی نے تذکرہ نہیں کیا لیکن اس خاندان کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچا زبردست پذیرائی ملی یہ وہی فائدہ ہے جو بیشتر ورکرز نے اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پارٹی میں جگہ بنائی داد وصول کی اور شہرت پائی لیکن افسوس ان کی پارٹی کے قائدین نے اپنے کارکنان کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی جس طرح پی ٹی آئی نے الیکشن سے قبل مینار پاکستان اور بعد میں ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت کی اسی طرز پر نوجوان نسل تیار ہو رہی ہے جس کا اثر درمیانے طبقے کے لوگوں پر بھی پڑا اب اگر ایسے لوگوں کو یہ کہا جائے کہ آپ کا کان کتا لے گیا تو ایسے افراد کتے کے پیچھے بھاگیںگے کہ اپنا کان دیکھیں گے جبکہ وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ شریف خاندان نے شوکت خانم اسپتال کے لیے 1985 میں 50 کروڑ اپنی جیب سے دیا جس کا اظہار عمران خان بزات خود کر چکے ہیں جو شخص 1985 میں اتنی بڑی رقم دے سکتا ہے وہ لندن میں 10 فلیٹ بھی خرید سکتا ہے لیکن میں نہ جانوں اور میں نہ سمجھوں کی پالیسی اپنائے ایسے لوگ لندن میں بھی تماشا لگا کر پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت و تکریم خاک میں ملانے کے درپے ہیں۔ لندن کی سڑکوں پر سب سے پہلے پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کے خلاف مظاہرے کیے اور خوب شور شرابا کیا جسے دیکھ اور سن کر غیر ملکی حیران بھی اور پشیمان بھی ہوئے جواب میں ن لیگ نے مظاہرہ کیا جو بعدازاں میاں نواز شریف کی مداخلت پر روک دیا گیا جس کی وضاحت مقامی راہنما اقبال سندھو نے کی کہ میاں نواز شریف کے حکم پر پی ٹی آئی کے خلاف مظاہرہ روک دیا گیا ہے تاکہ بیرون ممالک میں اپنی سوہنی دھرتی کا مذاق نہ آڑایا جائے لیکن دوسری طرف مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرون ممالک میں صرف اور صرف پاکستانی بن کر رہا جائے بیرون ممالک میں ہم سب ایک ہیں ہمیں متحد منظم ہو کر اپنے ملک پاکستان کا نام اور مقام بلند کرنا ہے پاکستان کی سیاست پاکستان میں ہی رہنے دیں ۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ آپ کی اپنی جماعتیں ہیں انھیں پاکستان میں پروان چڑھائیں ان کے لیے کام کریں نہ کہ دیار غیر میں تماشا بنائیں۔ عابد شیر علی کے ساتھ ہونے والی زیادتی اپنی جگہ لیکن یہاں پاکستان کا مذاق اڑایا گیا پاکستان کی تضحیک کی گئی جنھوں نے یہ سارا کھیل کھیلا انھیں ریسورنٹ سے باہر نکالا گیا اور انھیں کہا گیا کہ آئندہ ہمارے ریسورنٹ میں مت آئیں انھوں نے عابد شیر علی کی کلاس لینے کی کوشش کی لیکن ریسورنٹ سے انھیں ہی نکالا گیا کیونکہ ریسورنٹ والے جانتے تھے کہ غل غپاڑا کرنے والے دس میز چھوڑ کر عابد شیر علی کی ٹیبل کے اردگرد گھومتے اور چیختے چلاتے رہے حالات خراب کیے ریسٹورنٹ کا ماحول برباد کیا جو کسی صورت قابل قبول نہیں تھا جبکہ چند روز قبل ہی عابد شیر علی کے ماموں اور اہلیہ کا انتقال ہوا ان کا اچانک جہان فانی سے کوچ کر جانا عابد شیر علی کے خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا ان گھمبیر حالات میں کسی کے سر پر کھڑے ہو کر شور شرابا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ۔یہ سنگدلی کا مظاہرہ کیا گیا اور پھر ویڈیو وائرل کی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں گالیاں دینا کسی کا گریبان پکڑنا بھرے بازار میں کسی کے خاندان کے افراد کو برا بھلا کہنا قانون ہاتھ میں لینا ملکی خدمت نہیں بلکہ ناقابل برداشت عمل ہے۔ ایک مخلص محب وطن پارٹی اور قائدین کا چاہئے کہ وہ اپنے کارکنان کو ازسرنو تیار کریں انھیں بتائیں کہ بڑوں کی عزت کسی طرح کرنی ہے مخالفت کا جواب گالی گلوچ سے نہیں دلیل اور ثبوت سے دینا ہے ملک کے اندر اور باہر اپنے مثبت کردار سے اپنا اپنے خاندان اور ملک کا نام بلند کرنا ہے اپنے ملک کے وقار کی سربلندی کے لیے کردار ادا کرنا ہے بیرون ممالک میں متحد منظم اور یکجا ہونا ہو گا لندن میں آج تک جتنے مظاہرے ن لیگ کے خلاف ہوئے اس کا نقصان ملک پاکستان اور کمیونٹی ہی کو ہوا مسلم لیگ ن یورپ برطانیہ اور پاکستان میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی اس لیے ہمیں عقل کے ناخن لینے چاہیے اور ایسی حرکات و سکنات سے گریز کرنا چائیے جس سے ہمارا نام اور مقام تباہ ہوں ہمیں ایک دوسرے کو سمجھانا ہو گا منفی سیاست کو دفن کرنا ہو گا ۔ ایسے شخص کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو ایسی نازیباحرکات میں ملوث ہو جس سے انسانیت کی توہین ہو اور پاکستان کا نام خراب ہو جو اپنی سیاست کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہو اس کے لیے تھمزاپ نہیں بلکہ تھمز ڈاؤن کرنا ہوں گے اس کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ آئندہ کسی کو کسی کی تضحیک کرنے کی جرأت نہ ہو ۔یاد رکھیے ایسے ہتھکنڈوں سے ہم پاکستان اور کمیونٹی کی کسی صورت خدمت نہیں کر رہے بلکہ تباہی کا عنصر پروان چڑھا رہے ہیں آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ہمیں اسے روکنا ہے اپنوں کو سمجھانا ہے ایک لڑی میں پرونا ہے غلط فہمیوں کو ختم کرنا ہے یک جاں بننا ہے اور اپنے ملک کی خدمت کرنا ہے۔ آئیے آج عہد کریں کہ دیار غیر میں صرف اور صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ ہو گا کسی شخصیت کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کریں گے ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ پاکستانی ہو کر پاکستان کا نام اور ساکھ خراب کریں اور بیرون ممالک میں ایسے لوگوں کا احتساب کریں ہمارے سفارت خانوں کو بھی چا ہئے کہ وہ ایسے عناصر کا محاسبہ کریں انھیں لیکچر دیں ان کی کونسلنگ کریں انھیں سمجھائیں تاکہ کوئی بلاوجہ نعرے لگا کر اپنا اور اپنے ملک کا نام خراب نہ کرے ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی لازمی ہے تاکہ ایسے عناصر کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے تاکہ اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جاسکے۔
یورپ سے سے مزید