• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحت زباں: اردو املا اور قواعد اور’’ہی‘‘

قواعد کی رو سے ’’ہی‘‘ حروف ِ تخصیص و حصر میں شامل ہے۔لفظ حصر کے معنی ہیں احاطہ باندھنا، گھیرنا، محاصرہ کرنا۔ لفظ حصار (یعنی گھیرا یا احاطہ ) اسی مادے (ح۔ص۔ر)سے ہے۔ جب ہم لفظ ’’ہی‘‘ استعمال کرتے ہیں تومفہوم میں تخصیص ہوجاتی ہے اور اسے گویا کسی خاص بات یا چیز یا فرد تک محدود کردیا جاتا ہے۔

لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’ہی ‘‘ بعض الفاظ کے ساتھ جڑ کر بالکل ایک ہوجاتاہے ۔باباے اردو مولوی عبدالحق ’’قواعدِ اردو ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ہی‘‘ بعض اسما، ضمائر اور حروف کے ساتھ مل کر مرکب لفظ کا جزو بن جاتا ہے ، اور انھوں نے اس سلسلے میں ایک طویل فہرست بھی دی کہ’’ہی‘‘ کس طرح بعض دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر یک جان ہوجاتا ہے ، مثلاً:

کب، ہی کے ساتھ مل کر’’ کبھی ‘‘ہوا ۔

جب ، ہی کے ساتھ مل کر’’ جبھی ‘‘ہوا ۔

اس،اب ، تب، سب ’’ہی‘‘ سے مل کراسی،ابھی، تبھی، سبھی بن گئے۔

یہ شعر دیکھیے :

سبھی کو جان تھی پیاری ،سبھی تھے لب بستہ

بس اک فراز تھا ، ظالم سے چپ رہا نہ گیا

یہاں’’ سبھی‘‘ کو’’ سب ہی‘‘ پڑھنا علم ِعروض سے ناواقفیت کا ثبوت دینا ہے۔

اسی طرح ’’وہ‘‘ اور’’ ہی‘‘ مل گئے اور ’’وہی ‘‘بنا ۔’’ یہ‘‘ اور ’’ہی‘‘ مل گئے اور’’ یہی ‘‘بنا ۔مولوی عبدالحق صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ مجھ‘‘ اور’’ ہی‘‘ مل کر مجھی اور’’ تجھ ‘‘اور’’ ہی‘‘ مل کر تجھی بن جاتے ہیں۔

اکبر الہٰ آبادی کا شعر ہے :

مجھی سے سب یہ کہتے ہیں کہ نیچی رکھ نظر اپنی

کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہوکر

یہاں’’ مجھی ‘‘ کی بجاے ’’مجھ ہی‘‘ پڑھنے سے مصرع بحر سے خارج ہوجائے گا۔البتہ شعر کے وزن سے قطع نظر، ’’ مجھ ہی‘‘ اور’’ تجھ ہی‘‘ میں ’’ہی ‘‘کو مقدم یا مؤخر کرنا بھی درست ہے ، مثلاً :

مجھ کو ہی سہنا پڑا(درست)

مجھ ہی کو سہنا پڑا(درست)

تجھ ہی سے پوچھتا ہوں(درست)

تجھ سے ہی پوچھتا ہوں(درست)

گویادونوں طرح درست ہے۔

لیکن ایک خاص بات ’’ہی‘‘ کے استعمال سے متعلق یہ ہے کہ ’’ہی‘‘ اس لفظ کے فوراً بعد آنا چاہیے جس پر زور دینا یا جس کی تخصیص کرنا مقصود ہو ، جیسے :

وہ لاہور سے ہی آیا تھا(غیر فصیح)

وہ لاہور ہی سے آیا تھا( فصیح ) ۔

’’اس نے آنکھ سے ہی اشارہ کیا‘‘ کی بجاے ’’اس نے آنکھ ہی سے اشارہ کیا‘‘ کہنا چاہیے۔ اگرچہ آج کل بعض لوگ اس پر غور نہیں کرتے لیکن غالب نے کہا تھا کہ :

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

یہاں ’’ہی‘‘ لفظ آنکھ کے فوراً بعد آیا ہے کیونکہ زور آنکھ پر ہے۔اگرچہ آج کل ایسے موقعے پر اکثر ’’آنکھ سے ہی ‘‘ بولا جاتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں صاحب نے جامع القواعد میں لکھا ہے کہ ’’ہی ‘‘ جب حروف ِ جار (مثلاً سے، میں، نے، کو وغیرہ) سے مل کر آئے تو جملے میں یہ الفاظ بعد میں آتے ہیں اور ’’ہی‘‘ پہلے آتا ہے اور انھوں نے مثال کے طور پر یہ جملے لکھے ہیں: ناخن ہی سے کھرچا تھا (نہ کہ ناخن سے ہی ۔۔۔)، صندوق ہی میں رکھا ہے، حامد ہی نے کہا تھا، دروازے ہی کو توڑا ہے، آپ ہی کو بلایا ہے۔

البتہ جب مزید تخصیص اور مزید حصر منظور ہو توبعض صورتوں میں ’’ہی ‘‘ کی ترتیب کو بدلا جاسکتا ہے ۔ مثلاً ’’آپ ہی کو بلایا ہے ‘‘میں ’’آپ ‘‘پر زور دینا مقصود ہے ،یعنی یہ نہ سمجھیں کہ کسی اور کو بلایا ہے بلکہ آپ کو بلایا ہے۔ لیکن اگر ’’ہی ‘‘ کو مؤخر کردیا جائے اور یوں کہا جائے کہ ’’ آپ کو ہی بلایا ہے ‘‘تو اس کا مطلب ہوگا’’ صرف ‘‘آپ کو بلایا ہے کسی اور کو نہیں بلایا، کیونکہ ’’ہی ‘‘ کا ایک مطلب صرف، محض ، فقط بھی ہے۔

البتہ ضمیر ِشخصی ’’ تُو‘‘ اور’’ مَیں‘‘ جب حالت ِ فاعلی میں استعمال ہوں تو علامت ِ فاعل یعنی ’’نے ‘‘ سے پہلے ’’ہی‘‘ کا لفظ نہیں آسکتا بلکہ ’’نے ‘‘ کے بعد ’’ہی‘‘ آئے گا، جیسے :میں نے ہی لکھا ہے (یوں نہیں کہیں گے کہ میں ہی نے ۔۔۔) ،تو نے ہی یہ کام بگاڑا ہے ( یوں نہیں کہیں گے کہ تو ہی نے ۔۔۔)۔

اوپر کچھ الفاظ مثلاً اسی، وہی ، مجھی،تجھی اور یہی کا ذکر آیا ۔ ان میں دراصل ’’ہی‘‘ کی ’’ہ‘‘ کو حذف کردیتے ہیں اورصرف یاے معروف (یعنی چھوٹی ی) سے کام لیتے ہیں، جیسے اس ہی کی بجاے اسی اور تجھ ہی ی بجاے تجھی۔ لیکن بعض الفاظ مثلاً تم اور ہم کے ساتھ معاملہ ذرا سا مختلف ہے ۔ ان الفاظ کے ساتھ ’’ہی ‘‘ کوالگ بھی لکھا جاتا ہے ، مثلاً تم ہی، ہم ہی۔ لیکن ’’تم‘‘کو’’ہی‘‘ سے ملاکر بھی بولتے ہیں اور اس صورت میں چونکہ آواز ہائیہ ہوجاتی ہے لہٰذاہاے دوچشمی (ھ) سے لکھتے ہیں اور آخر میں نون غنے کا اضافہ کرتے ہیں یعنی ’’تمھِیں‘‘ لکھتے ہیں ۔ غالب نے کہا کہ :

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے

تمھِیں کہو کہ یہ انداز ِ گفتگو کیا ہے

اسی طرح ہم ہی، اُن ہی اور اِن ہی کو ملا کر علی الترتیب ہمِیں، اُنھِیں اور اِنھِیں لکھا جاتا ہے۔

بہرحال ، اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ:

(۱) لفظ ’’سبھی‘‘ غلط نہیں ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات’’ سب ہی‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے ۔

(۲) تم ہی اور ہم ہی کو تمھِیں اور ہمِیں لکھتے اور بولتے ہیں لیکن بعض اوقات شعر میں تم ہی اور ہم ہی کو برقرار رکھتے ہیں ۔

(۳) جس لفظ پر زور دینا مقصود ہو ’’ہی ‘‘ اس کے فورا ً بعد لانا فصیح ہے، مثلاً جب آنکھ ہی سے۔۔۔

(۴) بعض اوقات ضرورت ِ شعری کے تحت یا مزید زور دینے کے لیے جملے میں ’’ہی‘‘ کو مقدم یا مؤخر بھی کیا جاسکتا ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی