• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرخ یار کی اُردو کی پہلی طویل نظم ’کاریز‘

فرخ یار گنتی کے اُن چند محبوب نظم نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جو نئی نظم کی تہذیب بنا رہے ہیں؛جی، ایسی تہذیب جس میں تخلیقی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے زبان کو یوں برتا جاتا ہے کہ اس کا وار قاری کی حسیات پر ہوتا ہے۔تب میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ فرخ یار اُن خوش بخت نظم نگاروں میں بھی الگ اور نمایاں ہیں اور اس کا جواز میرے نزدیک یہ تھا اور ہے کہ انہوں نے اپنی نظم کے تانے بانے میں اپنے ہی وجودی کوکون کی ریشمی لغت کو برتا ہے۔

میں جب جب اس باکمال نظم نگار کا کلام پڑھتا ہوں ، مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ وجودی کوکون والاریشم شاعر اپنے ماس پر منڈھا ہوا پوست تھا جو چھل چھل کر بٹتا رہا ہے اور اب جب کہ اُن کی طویل نظم’’کاریز‘‘ میرے سامنے ہے تو مجھے یوں لگا ہے جیسے ایک ریشمیں پارچہ کھل گیا ہے اور اس میں سے انمول رتنوں کا ڈھیر پھسل کر نکلا ہے اور میرے سامنے جگمگا رہا ہے ۔

اس نظم میں معنی اور جمال کی سطح پر جس تخلیقی قرینے سے معاملہ کیا گیا ہے ، اس نے اسے طویل نظموں میں بالکل الگ چھب دِکھانے والا فن پارہ بنا دیا ہے۔ شام کے ایک معروف شاعرنزار توفیق قبانی کی ایک نظم ہے؛’’جب میں محبت کرتا ہوں‘‘۔ اس نظم کی ابتدا یوں ہوتی ہے ؛’’جب میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تو نئی زبان کا ایک چشمہ پھوٹ بہتا ہے ‘‘۔ فرخ یار کی نظم میں بھی ایک نئی زبان کا چشمہ پھوٹا ہے اور یہ اس محبت کا اعجاز ہے جس کا بے ریا چشمہ اس کے اندر سے پھوٹتا ہے۔ 

یہ محبت اُس تخلیقی عمل سے ہے، جس میں زباں سیال ہوکر نظم پیالے میں ڈھلتی ہے اور اس لفظ سے بھی جو تہذیبی امانت ہو کراس کے قلم کی نوک تک پہنچتا ہے۔ اور ہاں یہ محبت اس فضا سے بھی ہے جس میں زبان ایک نئی ساخت میں ڈھل رہی ہوتی ہے۔ اس ساحری جیسے شاعرانہ تخلیقی عمل میں متن کے اندر سے معنویت یوں موتیوں کی صورت برآمد ہوتی ہے جیسے منہ کھلنے پر بھری ہوئی چھاگل سے شفاف پانی برآمد ہواکرتا ہے۔جس معنویت کی میں بات کر رہا ہوں اس میں تخیل کی لطافت تو ہے ہی، اظہار کی ایسی تہہ داری بھی ہے جس سے گزرنے والا متن سے چھچھلتے اوراُچھلتے ہوئے نہیں گزر سکتا۔ وہ رُکے بغیر رہٹ کی خالی ٹینڈوں کی طرح ڈابک میں غوطہ زن ہوتا ہے اور اپنا آپ معنویت کے پانیوں سے لبالب کرکے اوپر اُٹھتا ہے ۔

فرخ یارجانتے ہیں کہ زندگی اور اس کے بھیدوں کو کہانی کے اندر رکھ کر ہی مختلف پہلوئوں اور مختلف سطحوں سے ڈھنگ سے سمجھا جاسکتا ہے لہٰذا ان کی نظم بھی ہڈ بیتی کہانی جیسی ہوگئی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس کا مرکزی کرداراُن کا اپنا باپ ہے۔یہاں پہنچا ہوں تو نظم کے چار ابواب(جنہیں ’’پوہڑیاں‘‘ کہا گیا ہے ) میں کہانی بھی پہلو بدلتی ہے۔ پہلی سے چوتھی پوہڑی پر ’’جنم‘‘،’’ دھج‘‘،’’ نقش گری‘‘ اور’’ سورج کا سینہ‘‘ کے عنوانات قائم کیے گئے ہیں، جس کی اپنی معنویت ہے۔

نظم کا آغاز زیتون کی اُس شاخ کے ذکر سے ہوتا ہے جو پھولوں سے نہیں بھررہی ۔ گویا جس موسم میں نظم لکھی جارہی ہے اُسے نشان زد کر دیا گیا ہے۔ جنگ اور دہشت کے زمانے کی جانب اشارہ کرنے کے بعد فوراً بعد، ایک گریز آتا ہے، نظم جیسے سانس لیتی ہے ، یا ہوکا بھرتی ہے اور کہانی کے مرکزی کردار کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے :

’’ اور میں اپنے والد

ابد کے چمکتے ہوئے چاند

سعداللہ خاں سے ملاقات کو جتنا بے چین ہوں

اس سے آگے بہت دُور کی منزلوں پر

وہ باسٹھ برس کے شب و روز

سر پہ اٹھائے ہوئے

اپنے والد سے ملنے کی جلدی میں تھے۔‘‘

جرمن ادیب جورنسٹین جورنس کی کہانی میں باپ ایک حادثے میں اپنا بیٹا کھو دیتا ہے۔ بیٹے کے ڈوب مرنے کے بعد والے موسم خزاں میں جب وہ پادری پاس آتا ہے تو یوں کہ اُس کی کمر خمیدہ ہے، جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ اور سر کے بال اُلجھے ہوئے ہیں۔ آتے ہوئے وہ سب کچھ بیچ باچ کر نقد رقم ساتھ لیتا آیا ہے کہ اَب اُس کی زندگی میں زمین ، اناج اور مال و اسباب کی کوئی قدر باقی نہیں رہی ہے۔ فرخ یار کی نظم میں باپ نے بیٹے کی نہیں ، بیٹے نے باپ کی نعش دیکھی ہے ۔ باپ جو انسانی حیات کی کہانی کے مرکز میں ہے ۔دونوں کی کہانی میں ایک حادثہ مماثلت ہو گیا ہے:

’’ایک تہوار پر

خود کلامی کے مابین

رشتوں کے پت جھڑ کو جاروب کرتے ہوئے

وہ بدلتی ہوئی زندگی کھینچتے کھینچتے

خال وخدکی لرزتی ہوئی بے قراری میں

خدشات کی دوڑتی بھاگتی

مال گاڑی سے ٹکراگئے

مال گاڑی کے چاروں طرف

خون تھا خواب تھے

خون کی سرخیاں آسماں ہوگئیں‘‘

شاعر نے اپنے بچپن میں صرف باپ کو ہی نہیں دادا کو بھی کھو دیا ہے ۔ فرخ نے نانا کے ہاں پرورش پائی، مگرلطف یہ ہے کہ انسانی ارتقا اور تسلسل کے اس لازمی باب پر ان سانحات کے بعدبھی ان کا نہ صرف ایمان قائم رہتا ہے، اس باب میں وہ بہت زیادہ حساس نظر آتے ہیں ۔ان دو اموات کے باعث انسانی تعلق کے تسلسل میں پڑنے والے رخنوں کو احساس کی جن پوروں سے انہوں نے چھواہے ، اس نے بہ طور جسم کہانی کے حاشیے کی طرف سے نکل جانے والے باپ دادا کو کہانی کے مرکز میں ایک اونچے تخت پر لا بٹھایا ہے۔ 

وہ اس پرکامل ایقان رکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ کی صبح سے لمحہ موجود تک تہذیبی زندگی کا وقار جس سے قائم ہوا، یا ہو سکتا ہے وہ اسی محترم رشتے کا تسلسل ہے ۔اور یہ بھی کہ یہ محض رشتہ نہیں ہے، خاندانی نظام کو اپنے احساس کے ریشمیںدھاگے سے جوڑ کر رکھنے والا بھی ہے جس سے کوئی معاشرہ اعلیٰ قدروں کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس دھاگے کے ریشہ ریشہ ٹوٹنے سے خود انسانیت کا وجود خطر ے سے دوچارہو رہا ہے۔

فرخ یار اپنے باپ اور اپنے دادا کے طرف دیکھتے ہوئے انسانی تہذیب کی تاریخ کو بھی دیکھتے ہیں اور پھر روشنی کی اس فراواں گھڑی میں اس حادثے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس میںایک زمانے تک گھر کی تصویر کے چار سُوایک پھیلائو کی شکل ہو جانے والاباپ ، گردشی راستوں کی اساطیر میں سب سے الگ نظر آنے والا رحیم اور حکیم باپ اور بہ قول شاعر وہ شخص جس کے کھاتوں میں سورج کی نسبت اور جانشینی تھی اور جو ایسے سبق کی طرح تھا، جسے عشاق دہراتے ہوئے تھکتے نہ تھے، آج بھولا ہوا خواب بن گیا ہے۔ایک ایسا نوشتہ ء دل جس کے قاری سمٹنے لگے ہیں۔ چاہے اِدھر کے قاری ہوں یا اُدھر کے:

’’بال و پر کی دوا، خاکساری کی تجدید میں

باپ معدوم ہوتا چلاجارہا ہے برابر کی رفتار سے

اُس طرف بھی جہاں اور کوئی نہیں

ایسے معمورے میں جو ہوا کے دبائو سے خالی ہے

جس کی فضا میں تکلف ہے، ایذا کے آثار ہیں

وہ فضا جو سراسیمہ ہے

اِس طرف بھی جدھر خود فریبی کے انبوہ میں

وصل کا پیچ ہے درد کی تاب ہے‘‘

آسودہ خاک ہو چکنے کے بعد بھی فرخ یار کی نظم کے جمالیاتی اور معنیاتی منظر نامے میں حکایت اور حقیقت بن کر پلٹ آنے والے باپ سعداللہ خاں کو اَبد کے چمکتے ہوئے ایسے چاند سے تعبیر دی گئی ہے جس کی ٹھنڈی روشنی میں آگے بڑھا جاسکتا ہے اور جس سے احساس کی سطح پر جڑ کر کٹھن سے کٹھن دن کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

’’اور میں اپنے والدابد کے چمکتے ہوئے چاند

سعدللہ خاں سے ملاقات کی آرزو میں شرر بار پانی کے

چشمے پہ آکر رُکا ہوں

مرے سامنے شاخِ زیتون ہے

اِک کٹھن دن کا آغاز ہے

ابتری سے بھرا دن مگر دن تو ہے ‘‘

نظم میں انسان کی جو ارتقائی اور ارتفاعی تصویر بنتی ہے اس میں ارتقا کا وہ تصور قدرے پیچھے رہ جاتا جس میں حیاتیاتی وجود اپنی بقا کے لیے ماحول کے مطابق تبدیلیوں کو قبول کرنے کا پابند ہوجایا کرتا تھا۔نظم سجھاتی ہے کہ درمیانی زمانوں میں جو بھید اور رَمزیں ہیں اُن میں ایسی پرتیں بھی ہیں جو ہستی کے سرگرم دھارے کی کامل ترسیل سے معذور ہیںلہٰذا ارتقا کے تصور سے انسان کو سمجھنے کا حیلہ ناقص ہے ۔ نظم کا دعویٰ ہے کہ یہ ارتقا خامشی کی طوالت میں قُرقی سے بچنے کا اعلامیہ ہے اور کچھ نہیں ؛ آغاز و انجام سے بے خبر اَن دِیکھا راستہ۔ اور یہ بھی کہ ’’یہ وہ رستہ نہیں/پائوں جس پہ پڑیں/اور مسافت سمٹنے لگے‘‘۔

اگر ارتقاء آہنی راستوں سے نکلنے کی دُھن اوردُور تک دیکھنے، جاگنے، سرسرانے کی خُوکا نام ہے جس سے آدم کی اولاد آج بھی سرشار ہے، تونظم اسے تعلق کے تسلسل اور تعلق کے شعور سے سجھاتی ہے اور اس باب میں ہم نشینی کے رشتوں کے تہہ و بالا ہونے کو ایک قبیح رخنہ قرار دیتی ہے ۔ وقت کی سرسراہٹ سے نکلی ہوئی اس زندگی میں باپ تخلیقی ، ارتقائی اور ارتفاعی تعلق کی علامت بن کر ظاہر ہورہا ہے ۔’’باپ میرے لیے حسن بھی عشق بھی/اپنی وضع میں معنی کا پھیلائو بھی۔‘‘

وقت کیسا بھی ہو ، حالات جیسے بھی ہوں زندگی کی عمارت کا ڈھانچہ اسی ماند نہ پڑنے والے حسن، اسی لافانی عشق اور معنیاتی پھیلائو سے تعلق کی اسی زمین پر اُٹھایا جاسکتا ہے ۔ جسم کے اَن گنت روگ ہوتے ہیں اور اَن گنت روگ ہیں، لہٰذا باپ محض جسم نہیں ہے، ایسی ذات ہے جو بے حجاب ہونے کی منتظر ہے اپنی اس معنیاتی توسیع کے ساتھ جس میں زندگی کا طلائی برادہ جھاڑتے سورج کے نیچے، نسل انسانی کا بھیدوں بھرا تسلسل بہہ رہا ہے۔

حیات ِانسانی کی گنجھلوں اور گردشی راہوں کی اساطیر ہو جانے والی فرخ یار کی یہ طویل نظم میرے لیے ایک تخلیقی کرشمے سے کم نہیں ہے ۔ تصنع اور تکلف سے پاک ایسا کرشمہ ، جس میں رنگوں ، روشنیوں ، خوشبو ئوں، سرسراہٹوں اورگزرتے یا گزر چکے وقت کی آہٹوں سے اِنسانی حسیات کے کینوس پر جذبوں ،اُمنگوں، خوابوں، حسرتوں اور اُمیدوں کی متحرک اور بامعنی تصویریں متشکل ہوتی ہیں ۔

 کہیں کوئی اُلجھن نہیں ، کہیں لفظی بازی گری نہیںاور متن میں معنی کا بہائو اور شعری جمال کا لپکا ایسا کہ پڑھنے والا گرفتار ہو کر آگے بڑھتا ہے کہیں رُکتا نہیں، رُک سکتا ہی نہیں ۔ مجھے ایک بار پھر کہہ لینے دیجئے کہ فرخ یار کی یہ طویل نظم، محض نظم نہیں معاصر زندگی کی مختلف جہتوں سے تفہیم اور تعبیر ہو جانے والا کرشمہ ہے۔ تصنع اور تکلف سے پاک خالص تخلیقی کرشمہ۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی