• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر، 261 آزاد امیدواروں کی غیر معمولی تعداد کو شکست

اسلام آباد (طارق بٹ) آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی (اے جے کے ایل اے) کے اتوار کے عام انتخابات میں 261آزاد امیدواروں کی غیر معمولی تعداد کو شکست دینے سے یہ ثابت ہوا کہ رائے دہندگان سیاسی جماعتوں کو منتخب کرنا ترجیح دیتے ہیں۔ ناصرف پاکستان کی پارلیمانی تاریخ بلکہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی آزاد امیدواروں کی اچھی تعداد فتح حاصل کرتی رہی اور بدلے میں بعد کی کابینہ میں اپنے حصے لیتے ہوئے حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آزاد امیدواروں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا، ان میں سے کچھ نے ووٹوں کی تقسیم کرکے چند امیدواروں کی شکست کو کافی حد تک متاثر کیا۔ اس عنصر اور حریفوں کی کثرت کی وجہ ہی تھی کہ بعض حلقوں میں جیت کا فرق برائے نام ہی تھا۔ آزاد امیدواروں کی جانب سے حاصل کئے گئے ووٹوں پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی معاملات میں انہوں نے نصف درجن سے بھی کم ووٹ حاصل کئے جبکہ ان میں سے بعض نے مخصوص حلقوں میں ایک ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی قسمت بھی آزاد امیدواروں سے مختلف نہیں تھی۔ وہ آزاد کشمیر میں کوئی نشست حاصل نہیں کر پائی۔ جہاں تک امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا تعلق ہے تو اس نے بڑی فاتح جماعتوں کی طرح تمام نشستوں کیلئے اپنے کارڈ ہولڈرز کو اسپانسر کیا۔ تاہم اس کے نمائندوں نے بھی 4.94 فیصد ووٹ یا 94,487 ووٹ حاصل کرکے کچھ چیلنجرز کی شکست میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگرچہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت ٹی ایل پی کالعدم کی گئی، وفاقی حکومت نے اب تک الیکشن کمیشن آف پاکستان یا اے جے کے انتخابی فورم سے اسے بطور سیاسی جماعت باہر کرنے اور اس کا انتخابی نشان منسوخ کرنے کیلئے رجوع نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے اے جے کے باب نے غیر معمولی طور پر آزاد امیدواروں اور ٹی ایل پی کی طرح کارکردگی دکھائی۔ اگرچہ وہ اے جے کے یا پاکستان میں کسی بھی انتخابات میں انتخابی میدان سے کبھی بھی امتیازی حیثیت سے باہر نہیں آئی، اس کے پاس ایک یا دو نشستیں رہی ہیں۔ اس مرتبہ وہ ایک بھی نشست حاصل نہیں کرسکی۔ سردار عتیق کی مسلم کانفرنس جو اے جے کے پر کئی مرتبہ حکمران رہی اس مرتبہ ایک نشست جماعت تک کم ہوگئی اگرچہ اسے 8.4فیصد کے153,861 ووٹ ملے۔ اس نے بھی تقریباً تمام حلقوں میں اپنے نمائندوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد اتاری۔

اہم خبریں سے مزید