• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید بعد کورونا اموات 3 گنا بڑھ گئیں، کراچی لاک ڈاؤن پر سندھ اور وفاق میں اختلاف

کورونا اموات 3 گنا بڑھ گئیں، کراچی لاک ڈاؤن پر سندھ اور وفاق میں اختلاف


کراچی، اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر، جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)عید بعد کورونا اموات 3گنابڑھ گئیں،ملک میں 76مریض جاں بحق، مسلسل دوسرے روز4ہزارسے زائدکیسز،فعال کیسز 60 ہزار کے قریب، سندھ میں 44مریض چل بسے، مثبت کیسز کی شرح 14ریکارڈ کی گئی۔

ادھر کراچی لاک ڈائون پر سندھ اور وفاق میں اختلاف ، سربراہ این سی او سی اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہےکہ سال سے زائدعرصے سےہم کورونا کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں،شہر ہفتوں بند کرنا علاج نہیں،انہوں نےاحتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کےلیےسندھ حکومت کو ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کردی تاہم ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نےکہاہےکہ سخت اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، آج وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیاجائیگا۔

پاکستان میں کورونا اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 59 ہزار 707 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4497 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وائرس سے 76 افراد انتقال کر گئے، کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7.53 رہی۔

ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہزار 209 ہو گئی اور مجموعی کیسز 10 لاکھ 20 ہزار 324 تک جاپہنچے ہیں۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1612 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 9 لاکھ 37 ہزار 354 ہو گئی ہے جب کہ فعال کیسز کی تعداد 59761 ہے۔

ادھر سندھ میںکورونا وائرس سے مزید 44مریض انتقال کرگئے اور 2797 نئے کیس رپورٹ ہوئےہیں، مثبت کیسز کی شرح 14 تک پہنچ گئی، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید473 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں،صوبے میں اس وقت 39958 مریض زیر علاج ہیں،1192 مریضوں کی حالت تشویشناک اور102 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں ۔

دوسری جانب اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کی اور کہا کہ پورے پورے شہر ہفتوں بند کرنا علاج نہیں ہے ، ایک سال سے زائد ہوگیا کہ ہم کورونا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، سندھ حکومت بڑے مستعد انداز میں کورونا کو دیکھ رہی ہے لیکن وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بند نہیں کر سکتے۔

وفاقی وزیر اور سربراہ این سی او سی اسد عمرکا کہنا ہے کہ بار بار آزماچکے ہیں کہ ایس او پیز پر عمل درآمداور زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن سےہی کامیابی ملی،انہوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کےلیے سندھ حکومت کو فوج اور رینجرز کی تعیناتی سمیت ہر قسم کے تعاون کی پیشکش بھی کردی۔

اسد عمر نے کہاکہ 31اگست تک ویکسین نا لگوانے والوں کے لیے مزید سختیاں کرنے جا رہے ہیں،بچوں کو اسکول لے جانے والے ڈرائیور، کنڈیکٹر، ہوٹل اور ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے ملازمین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار 31 اگست سے پہلے کورونا ویکسین لگوائیں، پبلک ڈیلنگ والے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے بھی ویکسی نیشن کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، 18 سال سے زائد عمر کے طالب علم بھی 31 اگست تک ویکسی نیشن کروالیں۔

سربراہ این سی او سی کا کہنا تھا کہ 31 اگست تک ویکسی نیشن نا کرانے والوں کے کام کرنے پر پابندی ہو گی۔دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہےکہ کورونا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نےکہا کہ کورونا کی صورتحال کے پیشِ نظر پبلک سیکٹر اسپتالوں میں آئی سی یو کو بڑھایا جارہا ہے جب کہ پرائیوٹ سیکٹر سے بھی وزیراعلیٰ نے تعاون کی اپیل کی ہے، جو صورتحال ہے ان میں پرائیوٹ اسپتالوں کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نےجمعے کو ایک میٹنگ رکھی ہے، اس وقت جو صورتحال ہے اس میں سخت فیصلے ناگزیر ہیں لیکن وزیراعلیٰ پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت چاہتے ہیں، ہمیں بروقت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، اگر آج یہ فیصلہ کرلیا تو ہم لہر کو روک پائیں گے،جمعہ کو فیصلہ کرنے سے پہلے وفاقی حکومت کو آن بورڈ لیا جائیگا، اس معاملے پر کوئی سیاسی محاذ آرائی نہیں ہوگی اور سب مل کر کام کریں گے۔ 

اہم خبریں سے مزید