• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والٹ ڈزنی کے بیان پر اسکارلیٹ جوہانسن کو انڈسٹری کی حمایت حاصل

امریکی اداکارہ اسکارلیٹ جوہانسن کی جانب سے کیے گئے عدالتی مقدمے پر والٹ ڈزنی کمپنی کا بیان سامنے آنے کے بعد اداکارہ کو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی حمایت حاصل ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مختلف ایڈووکیسی تنظیموں نے والٹ ڈزنی کمپنی کے بیان کو اداکارہ پر ’صنفی کردار کا حملہ‘ قراردیا ہے۔

ایڈووکیسی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ ہم اسکارلٹ جوہانسن اور والٹ ڈزنی کمپنی کے مابین قانونی چارہ جوئی میں کسی کی بھی طرف داری نہیں کریں گے، تاہم ڈزنی کمپنی کے حالیہ بیان کے خلاف ہیں جس میں جوہانسن کو معاہدے پر کاروباری حقوق کے دفاع کے لیے بےحس یا خود غرض قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ صنفی بنیادوں پر حملہ کرنا کاروباری تنازع میں کوئی جگہ نہیں رکھتا اور ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں عورتوں اور لڑکیوں کو مردوں کے مقابلے میں قابلیت کے اعتبار سے کم سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ اشتہاراتی تنقید کا سامنا کیے بغیر اپنے مفادات کی حفاظت کر سکیں۔‘

واضح رہے کہ فلم ’بلیک وڈو‘ کی سینما گھروں میں نمائش کے ساتھ ہی فلم کی اسٹریمنگ سروس ’ڈزنی پلس‘ پر بھی ریلیز کرنے پر مایوس ہونے والی اداکارہ اسکارلیٹ جوہانسن نے ڈزنی کمپنی کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اداکارہ اسکارلیٹ جوہانسن کی جانب سے دائر مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’مس جوہانسن نے ڈزنی اور مارویل کو ہر موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی اس غلطی کو درست کریں اور مارویل اسٹوڈیوز اپنے کیے گئے وعدے پر عمل کرے۔‘

اداکارہ نے لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں جمع کروائی گئی شکایت میں معاشی نقصانات کو پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

جس کے جواب میں ڈزنی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ معاہدے کا حصہ تھا اور ایکٹریس کو اس کی اضافی رقم بھی ادا کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ والٹ ڈزنی کمپنی کو اپنے بیان میں ہالی ووڈ کی سینئر اداکارہ کی تنخواہ کے بارے میں بتانے اور ان کےکردار کے بارے میں بات کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید