• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعجاز اسلم مافوق الفطرت ایکشن تھرلر فلم میں مرکزی کردار نبھائیں گے

مافوق الفطرت عناصر پر مبنی ایکشن تھرلر فلم ’فیوچر اِمپرفیکٹ‘ میں اداکار اعجاز اسلم ذہنی انتشار کے شکار زاہد نامی ایک میڈیکل رِپریزنٹیٹو کا کردار نبھا رہے ہیں۔

فلم میں اس کردار کو اپنے ہی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک ڈائری ملتی ہے لیکن اسے یہ یاد نہیں کہ اس نے یہ ڈائری کب لکھی تھی۔ ڈائری میں لکھا گیا مواد زاہد کو حیران کر رہا ہے کیونکہ اس میں زاہد کی زندگی کے آئندہ 24 گھنٹوں کی تفصیلات واضح طور پر درج ہیں۔

ڈائری کے مطابق زاہد کے لیے زندگی کا صرف ایک ہی اصول ہے کہ بغیر کوئی سوال کیے جو لکھا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ یہ احکامات زاہد کو کچھ ایسا کرنے پر مجبور کریں گے جو اس کے مستقبل کو اس کی مرضی کے خلاف بدل دیں گے۔

اس فلم کو پروڈکشن کمپنی ’واکس وژن‘ کے بینر تلے زید عزیز کی جانب سے پروڈیوس کیا گیا ہے۔ 

فلم کے ڈائریکٹر کامران جاوید کا کہنا ہے کہ ’مجھے ہمیشہ ہی ٹوائی لائٹ زون اور بلیک مرر جیسے مافوق الفطرت اور لاجواب شوز میں دلچسپی رہی ہے، اس لیے جب پروڈیوسر زید عزیز نے مجھے اس پراجیکٹ کے بارے میں بتایا تو مجھے لگا کہ یہ ایک بڑا فیصلہ لینے کا یہ صحیح وقت ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک پروڈیوسر کے طور پر مجھے ہمیشہ ہی کچھ نیا کرنے میں دلچسپی رہی ہے۔‘

زید عزیز اس سے قبل بھی ’دی اَرلی ڈیز‘ اور ’عورت اور مرد‘ جیسے پراجیکٹس پروڈیوس کر چکے ہیں۔

زید عزیز نے مزید کہا کہ ’فلم فیوچر امپرفیکٹ کو میسر کردہ سہولیات میں پایہ تکمیل تک پہنچانا ہم سب کے لیے ایک چیلنج تھا‘۔

 ڈائریکٹر کامران جاوید کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فلم میکرز نے جب بھی معمول سے ہٹ کر کوئی کام کیا ہے، انہیں ہمیشہ تنقید کا سامنا رہا۔ ایکشن پر مبنی فلمیں بنانے کے لیے کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے اور ایک ٹیلی فلم کے دائرہِ کار میں رہ کر یہ کام کرنا اور بھی مشکل ہے، فلم بنانے کا اصل مقصد بھی اسی نکتے کو ثابت کرنا ہے۔‘

اداکار اعجاز اسلم نے کہا کہ ’یہ فلم ان عام موضوعات کی طرح نہیں ہے جو ہم ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں۔ یہ کہانی اور شوٹنگ کا انداز دیکھنے والوں کو پسند آئے گا‘۔

اعجاز اسلم کا کہنا ہے کہ ’کامران جاوید کی ہدایت کاری میں کام کر کے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ اُن کی پہلی فلم ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کامران جاوید نے فلم کے حوالے سے مکمل تحقیق کی تھی اور انہیں بہت اچھی طرح اندازہ تھا کہ ہم اداکاروں سے بہتر طریقے سے کیسے کام کروانا ہےـ

اعجاز اسلم نے یہ بھی کہا کہ ان کا اسکرین پلے انتہائی جامع تھا اور محدود وسائل میں تیار کیے گئے اس تھرلر کو ایک تھیٹر فلم کے انداز سے تیار کیا گیا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید