• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید (ٹی کے) کا نام کون نہیں جانتا ۔ایک وقت تھا کہ اہم بیوروکریٹس کے نام صرف سول سروس میں ہی جانے جاتے تھے لیکن ٹی کے ایسے افسر ہیں جن کا نام افسر شاہی کے علاوہ اب پنجاب کے عوام بھی بخوبی جانتے ہیں ۔طاہر خورشید (ٹی کے) وزیر اعلیٰ کے دست راست رہے ہیں اور وفاقی حکومت کی نظر میں بھی (DOER) کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان پر میڈیا اور دیگر حلقوں میں کرپشن کے الزامات کے باوجود وفاقی حکومت نے بطور پرنسپل سیکرٹری انکے معاملات پر چشم پوشی اختیار کی۔ان کے پرنسپل سیکرٹری بننے سے قبل حکومت پنجاب کو اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا تھا، ہر وقت رولز اور ریگولیشنز کی باتیں ہوتی تھیں لیکن ان کے آنے سے کام ہونا شروع ہو گئے ۔حکومت نے یہی بہتر سمجھا کہ بجائے پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں بدنامی سے بہتر ہے کہ طاہر خورشید کے حوالے سے سرکار پر ہونے و الی تنقید کو برداشت کرلیا جائے۔پنجاب کی افسر شاہی میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ طاہر خورشید جیسے (BLUE EYED)افسر کا وفاق میں تبادلہ کہیں ان پر نیب میں چلنے والی انکوائریوں سے بچ بچائو کرانے کیلئے محفوظ راستہ دینا تو نہیں ؟اگر دیکھا جائے تو طاہر خورشید پنجاب میں پچھلے 15سال سے تعینات تھے ان سمیت دیگر کئی افسران کے ڈھائی سال قبل اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تبادلوں کے احکامات جاری ہوئے تھے ۔میجر(ر) اعظم سلیمان نے بطور چیف سیکرٹری عہدہ سنبھالنے کے بعد ان افسران کو سرنڈر بھی کیا تھا لیکن عثمان معظم، عامر جان جو موجودہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ ہیں نبیل اعوان سابق سیکرٹری سپیشلائز ڈ ہیلتھ سمیت 10افسران دوبارہ پنجاب آ گئے تھے ۔طاہر خورشید 11ماہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ رہے۔اس دوران انہوں نے بیوروکریسی میں اپنے ہم خیال لوگوں کا ایک مضبوط ٹی کے گروپ بنایا جس میں شامل افسران صوبائی سطح سے لیکر ضلعی سطح تک کلیدی انتظامی عہدوں پر فائز ہیں، نئے پرنسپل سیکرٹری عامر جان، جوایک قابل افسر سمجھے جاتے ہیں، کا شمار بھی ٹی کے گروپ میں ہی ہوتا ہے ۔پنجاب کی افسر شاہی میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اگر طاہر خورشد کے وفاقی حکومت میں تبادلے کے بعد انہیں فوری کہیں تعینات کر دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گریڈ 22میں ترقی کے بعد انہیں بطور چیف سیکرٹری پنجاب بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت نے طاہر خورشید کو ایڈیشنل سیکرٹری فوڈ سیکورٹی تعینات کر دیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سال دو سال کیلئے کھڈے لائن نہیں لگایا گیا ورنہ تو کئی افسروں کو وفاق میں جانےکے بعد کئی سال تک کسی بھی محکمے میں تعینات ہی نہیں کیا جاتا ۔انکے دوست افسرانہیں آئے دن فون کرکے اذیت دیتے رہتے ہیں کہ بھئی کوئی پوسٹنگ ہی لے لو۔طاہر خورشید کی فوری تعیناتی پر افسر شاہی کے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ انہیں پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کی اہم ترین جگہ سے ہٹا کر وفاق میں لے جانا ان کے لئے سزا کی بجائے کل کلاں جزا کا موجب بن سکتا ہے ۔افسران کی گریڈ22میں ترقیوں کیلئے وزیر اعظم کی سربراہی میں ہائی پاورڈبورڈ کا اجلاس بھی کسی وقت ہو سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے چند روز قبل اپنے ٹویٹ میں ہائی پاورڈ بورڈ کے اجلاس میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ازخود گریڈ22 میں ترقی کے منتظر افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں اس لئے بورڈ کا اجلاس 2ماہ کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ کارکردگی کے معمول کے تجزیوں سے ہٹ کر ان افسران کی حقیقی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں ۔میرے ایک دوست، جو سینئر افسر ہیں، نے ایک تجربے کی بات بتائی جسے میں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ترقیوں کیلئے ہونے والے بورڈ میں کسی افسر کی ترقی کے امکانات اس وقت زیادہ روشن ہوتے ہیں جب یا تو اسے بورڈ کا کوئی ممبر جانتا ہی نہ ہو اور یا پھر اسے سب جانتے ہوں۔ طاہر خورشید کو اسلام آباد تعیناتی کا ایک فائدہ ضرور ہو گا کہ وہ اب سب سے ملیں گے۔پاور کوریڈورز میں نظر آنے کے بھی بڑے فوائد ہوتے ہیں کیونکہ لابنگ کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔انہیں پنجاب کی اب فکر نہیں کیونکہ نئے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عامر جان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ارم بخاری، کمشنر راولپنڈی گلزار شاہ، ڈ ی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز صالحہ سعید سمیت دیگر کئی اہم ترین عہدوں پر تعینات افسر طاہر خورشید کے دست راست ہیں ۔افسر شاہی میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ طاہر خورشید کو نیب سے نمٹنے کیلئے وقت اور محفوظ راستہ فراہم کر دیا گیا ہے ۔اب وہ اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور نیب تحقیقات سے بخوبی نبردآزما ہو سکیں گے۔ویسے کئی افسر طاہر خورشید کے اسلام آباد تبادلے کو (BUSINESS AS USUAL)ہی سمجھتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ پہلے کونسی ان پر آفت آئی ہوئی تھی جو ٹل گئی ہے۔ ان کی 11ماہ تک بطور پرنسپل سیکرٹری شپ میں وزیر اعظم کو ایک بات کا پتہ چل گیا ہے کہ انہیں کام آتا ہے ۔ نئے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عامر جان کا تعلق گجربرادری سے ہے ۔یہ مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے مائزہ حمید کے قریبی عزیز ہیں۔میںنے ان کی کارکردگی بطور ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دیکھ رکھی ہے۔ دبنگ افسر ہیں اور معاملات پر سٹینڈ لے جاتے ہیں ۔گجر برادری کی ایک اور خاصیت ہے کہ ان کی برادری ان کا ایمان ہوتا ہے۔ عامر جان کے پہلے کمشنر لاہور تعینات ہونے کا چرچا رہا لیکن اس دوران موجودہ کمشنر گوجرانوالہ ذوالفقار گھمن کمشنر لاہور لگ گئے ۔ کورونا کے شروع ہوتے ہی موجودہ کمشنر لاہور کیپٹن (ر) عثمان کو سیکرٹری پرائمری ہیلتھ لگایا گیا ۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ انہیں کمشنر لاہور لگایا جائے جو بالآخر پوری ہو گئی اور ان کی جگہ سارہ اسلم کو سیکرٹری پرائمری ہیلتھ تعینات کیا گیا۔ سیکرٹری سپیشلائز ڈ ہیلتھ بیرسٹر نبیل اعوان کے وفاق میں تبادلے کے بعد عامر جان کو ان کی جگہ تعینات کر دیا گیا‘ جس کے بعد اب انہیں سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ لگایا گیا ہے ۔اس سے قبل وہ سیکرٹری انرجی رہے اور جہاں بھی سیکرٹری تعینات ہوئے سیکرٹری انرجی کا چارج ان کے پاس ہی رہا۔ اب وہ پرنسپل سیکرٹری ہیں اور سیکرٹری انرجی کا چارج انہی کے پاس ہے ۔ عامر جان کا فی ایکٹو افسر ہیں امید ہے معاملات بخوبی چلالیں گے۔

تازہ ترین