• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اختیارات کا ناجائز استعمال، وفاقی پولیس کے 2 افسر عہدوں سے الگ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد پولیس کے 2 سی ایس پی افسروں کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں عہدوں سے الگ کر کے ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ کو واپس کر دی گئی ہیں، ان افسران میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی فاروق بٹر اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس عثمان منیر شامل ہیں، تفتیش کے مطابق پشاور کے مترا تھانے سے ایک ٹیم اسلام آباد آئی تھی جس نے 12 اگست کو گولڑہ پولیس کی مدد سے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں مطلوب دو افراد کو گرفتار کیا، انہیں گولڑہ تھانے لے جایا گیا اور پشاور منتقلی کیلئے راہداری ریمانڈ حاصل کرنے تک سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ،تاہم رات گئے گولڑہ تھانے کے کچھ اہلکار دونوں ملزمان کو سیکٹر ای-11 میں واقع انکے گھر لے گئے جہاں پہنچنے کے بعد ملزمان پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے،ملزمان کو تھانے سے باہر لے کر جانے والے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ اس واقعے کے بعد سٹیشن ہاؤس آفیسر نعیم کو معطل کر دیا گیا ،ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی آپریشن کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تو انکشاف ہوا کہ ایس پی نے ایس ایچ او گولڑہ کو ہدایت کی تھی کہ دونوں ملزمان کو انکے گھر لے کر جائیں تاکہ وہ اپنی والدہ اور دیگر اہلخانہ سے مل سکیں،چنانچہ ایس پی کی ہدایت پر ایس ایچ او نے اپنے ماتحت دو اہلکاروں کو ملزمان کو انکے گھر لے جانے کا کہا،ملزموں کے ‎گھر پہنچنے کے بعد پولیس اہلکار باہر ہی موجود رہے، پولیس اہلکاروں نے ملزمان کو تھانے لے جانے کیلئے دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ فرار ہوچکے تھے،تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایس پی نے ایک پارلیمنٹیرین کی مداخلت پر ایس ایچ او کو یہ ہدایت جاری کی تھی، ،ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز) کی ہدایات پر ایس ایس پی آپریشنز نے پولیس کی حراست سے 2 افراد کے فرار ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیں جسکی روشنی میں ایس پی کو فارغ کیا گیا ،پولیس نے مقدمہ درج کر کے ضابطہ کی کارروائی شروع کر دی ہے ،ایک دوسرے واقعہ میں ذرائع کے مطابق 14 جولائی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک سیکشن افسر کو پولیس نے ریپ کے الزام میں گرفتار کیا ،مقدمے کے اندراج کے بعد کچھ سینئر افسران نے پولیس سے ملزم کے ساتھ رعایت کرنے کا کہا تھا تاہم ایس ایچ او نے انکار کر دیا تھا کیونکہ مقدمہ درج ہو چکا تھا جس میں ملزم کو اسکے نام کے ساتھ نامزد کیا گیا تھا،بعد ازاں اے ایس پی نے ایس پی کی ہدایت پر شکایت گزار پر دباؤ ڈالا کہ وہ ملزم سے سمجھوتہ کرلے،اس سلسلے میں مدعیہ اور ملزم کے درمیان اے ایس پی کے دفتر میں ایک ملاقات کا بھی انتظام کیا گیا جہاں پولیس افسر نے خاتون کو یقین دہانی کروائی کہ اسے معاوضہ دیا جائے گا،بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے اپنے بیان میں متاثرہ خاتون نے اپنا الزام واپس لے لیا تھا اور عدالت میں بھی اپنے الزامات سے انکار کردیا تھا،جنگ سے گفتگو کرتے ڈی آئی جی آپریشن افضال احمد کوثر نے تصدیق کی کہ آپریشن ڈویژن میں کام کرنے والے ایس پی کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اوراسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اس کی خدمات واپس کردی گئی ہیں۔دفتر میں حاضر نہ ہونے اور سرکاری کام میں کوئی دلچسپی نہ دکھانے پر اے ایس پی کو بھی عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خدمات واپس کردی گئی ہیں۔

تازہ ترین