• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وفاق، سندھ تعلقات : 3 سال شکوے شکایتوں میں ہی گزر گئے

وفاق، سندھ تعلقات؟ 3سال شکوے شکایتوں میں گزر گئے،حکومت کے قیام کے تین سال مکمل ہونے کے باوجود وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن قائم نہیں ہو سکی تین سال شکوے شکایتوں میں گزر گئے۔ گزشتہ ہفتے بھی کئی معاملات پر وفاقی اور صوبائی حکومت ایک پیج پر نظر نہیں آئے۔ پانی کی کمی ،یکساں نظام تعلیم سمیت تعلیمی اداروں کے کھولنے یا نہ کھولنے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہیں۔ 

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں یکساں تعلیم کے نفاذ کی بات کی تو سند ھ نے اس سے اختلاف کیا وزیر اعلی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تعلیمی نظام بہتر ہے یکساں نظام تعلیم قبول نہیں۔ وفاقی حکومت نے سندھ کو اعتماد میں نہیں لیا یہ پی ٹی آئی کا اپنا تعلیمی نظام ہے ۔دوسری جانب کورونا وائرس کی بڑھتی شرح کی بنیاد پر سندھ حکومت نے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، صرف وہ ادارے کھولے جا سکیں گے جن میں سو فیصد ویکسنیشن کی گئی ہو۔ اس ضمن میں پی پی پی کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور پی ایس پی کا موقف ہے کہ سندھ حکومت سندھ کی تعلیم برباد کرنا چاہتی ہے۔ 

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کورونا ایس او پیز کی آڑ میں نااہل اور متعصب سندھ حکومت نے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی پر کاری وار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کا مستقبل تاریک کرنے میں اب کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بچوں کی تعلیم کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تعلیم کی وزارت پر ایک بار پھر سردار شاہ کو مسلط کردیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کی جانب سے کورونا وبا کے حوالے سے کراچی سمیت سندھ بھر میں اسکولوں کو پہلے ایک ہفتہ بند کرنے اور پھر تاحکم ثانی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی آڑ میں اسکولوں کی مسلسل بندش قوم کے مستقبل کے ساتھ مذاق اورکھلواڑ ہے، اسکولوں کی بندش کا فیصلہ فی الفور واپس لے دوسری جانب پی ٹی آئی سندھ حکومت کے خلاف مضبوط اتحاد بنانے اور پارٹی کو منظم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے اس ضمن میں پی ٹی آئی کے مقرر کردہ نمائندے ارباب رحیم کو کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ملا ان کے دعوے اب تک زبانی جمع خرچ ہی ثابت ہو رہے ہیں۔ گھوٹکی میں گفتگو کرتےہوئے ارباب رحیم نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وہ پی پی پی کو ٹف ٹائم دینگے اور پارٹی کو منظم ومضبوط کر رہے ہیں۔ 

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی تعصب زدہ حکومت نے سندھ کے وسائل کو بری طرح سے لوٹ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں میں ڈبونے کی سازش کی ہے۔ محرم الحرام کے بعد اب صوبہ سندھ میں یزیدی حکومت کے خلاف کراچی سے کشمور تک احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کررہے ہیں تاہم پی پی پی کو تاحال کسی پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں ۔ ادھر حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے ان تین سالوں کووزیر اعظم عمران خان کی کامیابی قرار دیا ہے تو دوسری جانب پی پی پی کا کہنا ہے کہ یہ تین سال عوام پر بڑے بھاری رہے، ان تین سالوں میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کو خارجہ محاذ پر بھی ناکامی ہوئی تو دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا۔ جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو ایک ایک وزارت دے کر بہلایا گیا۔ 

خصوصاََ ایم کیو ایم کارکنوں سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کر پائی حکومت سے بار بار مطالبے کے باوجود ایم کیو ایم نا صرف اپنے دفاتر حاصل نہیں کر پائی تو دوسری جانب کارکنوں پر قائم مبینہ جھوٹے مقدمات کا خاتمہ بھی نہیں کر پائی۔ یہی نہیں وہ کراچی کی ترقی کے لیے وفاق سے ایک پیسہ بھی نہیں حاصل کرپائی۔ 

یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آئندہ کسی بھی چنائو میں ایم کیو ایم کس کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں جائے گی ادھر طویل خاموشی کے بعد پی ڈی ایم نے حکومت کو کراچی جلسے سے للکارنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جلسے کی تیاریوں میں وہ جوش وخروش نہیں پایا جاتا جو جے یو آئی کا خاصہ ہے۔ پی پی پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد سندھ میں ایسی کوئی سیاسی جماعت نہیں جو جے یو آئی کا سیاسی بوجھ ہلکا کر سکے ادھر امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے وفاقی وصوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 14اگست کو یوم آزادی اور خوشی کے دن ہونے والے سانحہ مواچھ گوٹھ کے 13شہداء کے قاتلوں اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے۔ 

صدر مملکت اور وزیر اعظم شہید ہونے والے معصوم بچوں اور خواتین کا غم اور درد محسوس کرتے اور ان کو اگر اپنے گھر والوں کی طرح سمجھتے تو وہ ضرور شیر پاؤ کالونی آکر تسلی دیتے،سانحہ مواچھ گوٹھ کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، شہد اء کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آواز بلند کریں گے،صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن سید عبد الرشید تحریک التواء جمع کرواچکے ہیں، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیر پاؤ کالونی میں جماعت اسلامی ضلع ملیر کے ڈپٹی سکریٹری معراج خان سواتی اور اے این پی کے ضلعی رہنما فرمان خان کے خاندان کے بچوں اور خواتین سمیت 13افراد کی المناک شہادت پر ان سے اور ان کے خاندان سے تعزیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید