• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جلسے ،پریس کانفرنسوں، احتجاج ،اور کنٹونمنٹ کے انتخابات کی وجہ سے شہر بھر میں سیاسی پرچموں کے لہرائے جانے سے انتخابی ماحول سا بن گیا ہے تقریبا" ڈھائی ماہ کی خاموشی کے بعد پی ڈی ایم نے سندھ کے دل اور ملک کے معاشی حب کراچی سے شاندار احتجاجی آغاز فراہم کیا ہے کراچی کے سب سے وسیع وعریض گرائونڈ مزار قائد کے سامنے باغ جناح گرائونڈ پر کامیاب جلسہ کر کے اپنے آئندہ کے عزائم کا پتہ دے دیا ہے جلسہ کی کامیابی کا سہرا تمام تر جمعت علما اسلام کے سر بندھتا ہے جنکے رہنماوں علامہ راشد محمود سومرو قاری محمد عثمان اسلم غوری ،مولانا عبدالکریم عابد اور انکے رفقا کار نے شبینہ روز محنت اور سندہ بھر کے اضلاع سمیت کراچی کے کونے کونے کا دورہ کر کے کارکنوں اور عوام کو جلسے کی اہمیت سے آگاہ و متحرک کیا۔

جلسے سے قبل شہر بھر میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے جبکہ تشہری مہم بھی چلائی گئی جلسے میں مولانا فضل الرحمن، نواز شریف ،اویس نورانی ثنابلوچ ،،ڈاکٹر جہانزیب جمالدین ،اویس نورانی میپ کے رہنما عبدالرحیم زیارت وال نیشنل پارٹی کے کبیر محمد شاہی کا خطاب جارحانہ تھا جبکہ مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف اور اہلحدیث کے ساجد میر قدرے نرم بولے جلسے میں لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت کراچی کی محرومیوں اور ان سے روا رکھی جانی والی زیادتیوں پر وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو مقررین نے ہدف تنقید بنایا مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی خارجہ پالیسی سمیت دیگرپالیسوں پر بھی کھل کر تنقید کی جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کی راہ میں روڑ ے نہ اٹکائے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم یزید کے ہاتھوں بیعت نہیں کریں گے ۔ لوگوں اٹھواور انقلاب لاو ۔ انقلاب کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ، اب ملک میں صرف جلسے نہیں ہوں گے روڈ کاروان چلیں گے اور اسلام آباد کی طرف مارچ ہو گا ۔ 

آج ہم ایک مرتبہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت ناجائز ہے ۔ جو جبر کے طبقے اس طرح کے حکمرانوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ہم ان کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کشمیر کو بیچ دیا ہے ۔ گلگت بلتستان کو کوئی مستقبل نہیں۔ پاکستانیوں اب تو ذرا سوچ لو ہم نے قربانی دے کر پاکستان کو بچانا ہے ۔ قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا گیا آج وہی پاکستان اپنی بقاء کے لیے آپ سے قربانی مانگ رہا ہے۔ 

میاں نواز شریف نے لندن سے وڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ فیصلہ کریں آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں، ہم لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کر سکتے ہیں ۔ یہ ہم سب کا پاکستان ہے ، یہ پورے بائیس کروڑ لوگوں کا پاکستان ہے ، ادھر پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیانی سیاسی چپقلش عروج پر ہے ۔ بلدیاتی انتخاب کو لیکر دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر لفظوں کی تیر اندازی میں مصروف ہے۔ 

جبکہ بعض مبصرین کی بھی یہ رائے ہے کہ پی پی نے کراچی کے سیاسی ایڈمنسٹریٹر کے بعد دیگر اضلاع کے ایڈ منسٹریٹر وں کا تقرر کر کے سگنل دے دیا ہے کہ مستقبل قریب میں بلدیاتی انتخاب کا کوئی ارادہ نہیں جبکہ سندھ حکومت بلدیاتی قوانین میں تبدیلیوں کی بھی خواہاں ہے جس کے لیے لامحالہ وقت درکار ہے اور یہی بات ایم یو ایم کو کھٹک رہی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی پی پی کی حکومت مختلف حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخاب کو ٹال رہی ہے۔ 

سندھ حکومت نے بلدیاتی انتخاب سے قبل مردم شماری کا مدعا کھڑا کر رکھا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے پارلمنٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں سندھ حکومت نے مئی میں پارلمنٹ کو ریفرنس بھجوایا تھاتاہم اس جانب کوئی ہل جل نہیں ہوئی اب وزیر اعلی سندھ اسپیکر کو ایک چٹھی لکھیں گے واضع رہے کہ مردم شماری کے نتائج پر اعتراض کی وجہ حلقہ بندیاں اور بلدیاتی انتخاب زیر التوا ہیں اس ضمن میں ایم کیو ایم کے رہنماوں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر نے گذشتہ ہفتے پریس کانفرنس میں کہا کہ نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کروانے کے بجائے فیتہ کلچر کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ 

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1998کی مردم شماری کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں سندھ کے شہری عوام کو مزاحمت پر مجبور کیا جارہا ہے ۔جنوبی سندھ میں انتظامی بنیادوں پر صوبہ شہری سندھ کے عوام کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس میں صوبے کے مطالبے پر سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے ردعمل کا اظہار کیا سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ و سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سید جلال محمود شاہ نے ایم کیو ایم کے سندھ کو تقسیم کے بیان کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ میں رہنے والوں کے خلاف سازش قراردیا اور کہا کہ ایم کو ایم کی قیادت سندھ کی وحدت اور سلامتی کے خلاف سازش کر رہی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انتخابات قریب آنے پر ایم کیو ایم کے اس مطالبے میں شدت پیدا ہوتی جائے گی کیونکہ اس کے پلے اس مطالبے کے سوا اور کچھ نہیں ،دوسری جانب گذشتہ ہفتے پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور سیاسی شخصیات پیر پگاڑا ،امیر بخش بٹھو،سید جلال محمدد شاہ ڈاکٹر عاصم حسین سے انکے والدہ ،والد ،بیوٰ ی اور عزیزوں کے انتقال پر تعزیت بھی کی وہ شہر کے مختلف علاقوں میں گئے اور عوام سے گھل مل گئے اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لئے ہدایات بھی جاری کیں۔ 

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ کراچی کے عوام اب پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو پہچان چکے ہیں، شہر ِ قائد کے لوگ اب پی پی پی کو موقع دینے کے لیئے تیار ہیں۔ ہم محدود وسائل اور وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود کراچی کو ایسا شہر بنانے کے لیئے محنت کریں گے، جو عالمی سطح کے اسٹینڈرڈز کا مقابلہ کرسکے۔ 

ادھر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی نے سانحہ موچھ گوٹھ کے شہدا کے لواحقین سے تعزیت کے بعد ملیر میں ایک تعزیتی رفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر پشتونوں کو خون بہایا جارہا ہے۔ ہمیں تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر اپنی قوم کے تحفظ کیلئے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آج طے کرلیں کہ اپنے لوگوں کو کس طریقے سے تحفظ دینا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید