• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید علی گیلانی نے قید و بند کی حالت میں جان دے کر آنیوالی نسلوں کو جینا سکھایا، رہنما مرکزی جماعت اہلسنت، کمیونٹی شخصیات

لندن/بر منگھم/ بریڈ فورڈ(آصف محمود براہٹلوی /محمد رجاسب مغل/پ ر )سید علی گیلانی نے قیدوبند کی حالت میں اپنی جان دے کر آنے والی نسلوں کو جیناسکھادیا۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا شاید کبھی بھی پُر نہ ہوسکے گا وہ ایک عظیم عالم دین اورعاشق رسول ،مجاہد اسلام اور روحانیت میں مرتبہ کمال پر تھے، آپ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے سکون قلب اور امیدسحر تھے آپ نے ہمیشہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سر زمین کو اللہ تعالی کے ذکر کی صداوئٔں اور فکر جہاد اور وطن کی محبت سے آباد کیے رکھا، آپ نے اپنے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی صورت میں لاکھوں سوگواروں اور مجاہدین کو اشک بار آنکھوں اور ذکرخدا کی صداؤں میں سفر آخرت فرمایا، ان کے انتقال پر انڈین آرمی کا مقبوضہ کشمیر کو لاک ڈاؤن کرنا اور کرفیو لگانا قابل مذمت ہے ۔لاکھوں انڈین آرمی کے افراد کا ان کے گھر کا گھراؤ کرنااس بات کا پتہ دے رہا ہے کہ مجاہد اسلام کا خوف ان کی وفات کے بعد بھی دشمن پر طاری و بھاری ہے، اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب کریم تمام حریت رہنماؤں اور ہزاروں مجاہدین کشمیر اور حضرت کے بیٹوں سمیت ان کے تمام خاندان ومتعلقین کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرکے صبر کی توفیق عطا فرمائے آمین آپ کی پوری زندگی نبی اکرمﷺ وسلم کی سیرت اور سنت کے مطابق صرف اور صرف جہاد اور وطن کی آزادی کے لیے جہد مسلسل میں گزری اللہ تعالی ان کی دینی اور مجاہدانہ خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ فرمائے ،ان خیالات کا اظہار جماعت اہلسنت بر طانیہ کے قائدین علامہ مفتی گل رحمان قادری ،علامہ خلیل احمد حقانی ،علامہ پیر مصباح المالک لقمانوی ، علامہ الشیخ غلام ربانی افغانی ، علامہ مفتی محمد نصیر اللہ نقشبندی ، پیرمحمد طیب الرحمان قادری ،علامہ رسول بخش سعیدی ،علامہ حافظ محمد سعید مکی ،علامہ مفتی یار محمد قادری ، علامہ قاری محمد حنیف الحسنی ،علامہ پیر ظہیر الدین صدیقی ،علامہ مفتی محبوب الرحمان قادری ،علامہ ڈاکٹر انوار المالک لقمانوی ،علامہ حافظ عنایت علی ، علامہ صاحبزادہ محمد حمّاد ظہیرصديقي ،علامہ قاری فرحان صدیقی ، علامہ حامد قدوس ہاشمی ، علامہ شاہجہان مدنی،علامہ مفتی خورشید عالم صابری ،علامہ پیر محمد عمران ابدالی ،علامہ مفتی عبد الکریم جماعتی ،علامہ مفتی فیض رسول نقشبندی ،علامہ حافظ خرم شہزاد ،علامہ صاحبزادہ محمد شعیب چشتی ،علامہ مفتی فضل قیوم سبحانی قادری ،علامہ قاری فخر الزماں نقشبندی،مولانا مطلوب الرحمان قادری ،علامہ اعجاز احمد شامی ، علامہ حافظ غلام رسول نقشبندی ،علامہ نیاز احمد صدیقی ،علامہ صاحبزادہ حسنین رضا صدیقی ، علامہ پیرزادہ اسد خان لقمانوی ،علامہ صاحبزادہ پیر غلام جیلانی نقشبندی ،علامہ محمد عبد اللہ سلطانی ،علامہ قاری اللہ بخش سعیدی علامہ قاری محمد اکرم نقشبندی ،علامہ حافظ محمد زاہدعلی ،علامہ حافظ محمد آزاد نقشبندی علامہ حافظ محمد شفیق نقشبندی ، علامہ مفتی ڈاکٹر منور عتیق نعیمیی ،علامہ سید ریاض حسین شاہ برائر فیلڈ ،علامہ سید عبد الشکور قادری علامہ قاری محمد یونس نقشبندی، مولانا حاجی عبدالمجید نقشبندی ،علامہ حافظ محمد جاوید نقشبندی ،حافظ محمد قاسم صدیق چشتی ،حافظ محمد بلال نو شاہی سہروردی ،علامہ منظور احمد ربانی ، ،قاری تنویر اقبال قادری ،علامہ مظہر اقبال نقشبندی ،صاحبزادہ حسن ظہیر صدیقی ،علامہ اعجاز احمد نیروی ،علامہ ریاض احمد صمدانی ،علامہ قاری شبیر سعیدی ،علامہ حافظ تصدق حسین صدیقی ،علامہ محمدعلی ،علامہ حافظ زاہدعلی ،علامہ ضیا الاسلام ہزاروی ،علامہ قاری زاھد شریف علامہ محمد نواز ھزاروی ، مولانا محمد یوسف قمر ، علامہ عاطف جبار حیدری ،علامہ محمد جمشید سعیدی ،علامہ پیراحمد زمان جماعتی ،علامہ ثنا الله سیٹھی ،علامہ قاری شاہ محمد نوری اور دیگر علما ومشائخ سمیت زعمائے جماعت اہلسنت برطانیہ نےمقبوضہ جموں و کشمیر سرینگر میں عظیم مجاہد اسلام ،حریت رہنما تحریک آزادی کشمیر میں جہد مسلسل کا نشان سید علی شاہ گیلانی رحمۃ ﷲ علیہ انتقال پُر ملال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً دنیائے اسلام ایک مجاہد اسلام سے محروم ہو گئی اورکشمیر کی آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے جانباز، نڈر اور مخلص کشمیری حریت رہنما تحریک آزادی کشمیر کا نشان سید علی گیلانی کا قید وبند کے دوران سانحہ ارتحال قیامت تک کی انسانیت کو جینے اور وطن پر مر مٹنے کا جزبہ سیکھا گیا ہے ۔ اللہ کریم بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے ۔معروف سماجی اور مذہبی شخصیت الحاج چوہدری طالب حسین نے بھارتی حکام کی جانب سے کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی میت ان کے خاندان سے چھیننے کے وحشیانہ فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے تمام اخلاقی حدوں کو روند کر دنیا کے سامنے اپنا منہ کالا کیا ہے مودی سرکار نے پورے کشمیر کو بند کر کے پوری دنیا کو اپنی بزدلی دکھائی ہے کشمیر رہنما سید علی گیلانی جنہوں نے ساری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ان کا مشن ہمیشہ زندہ رہے گا وہ وقت دور نہیں جب سید علی گیلانی کے کشمیر کی آزادی کا خواب جلد پورا ہو گا انہوں نے امید کا اظہار کیا آزادکشمیر جسے بیس کیمپ کہا جاتا موجودہ بننے والی تحریک انصاف کی حکومت بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور وزیراعظم سردار محمد عبدالقیوم خان نیازی تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سید علی گیلانی مرحوم سمیت تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں نومنتخب وزیراعظم سردار محمد عبدالقیوم خان نیازی کی سربراہی قائم ہونیوالی تحریک انصاف کی حکومت سے آزاد کشمیر کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں مساہل حل کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں ظلم کرنے والوں کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچائیں گے ۔ پاک سرزمین پارٹی برطانیہ کے سینئر نائب صدر مرزا فیصل محمود نے کہا عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کے جنازے میں کشمیری عوام کو شرکت نہ کرنے دینے سے بھارت کی نام نہادبڑی جمہوریت کا جنازہ نکل گیاہے۔74 سال سے بھارت کشمیری عوام کی نسل کشی کرتا ریا گذشتہ 2 سال سے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنانے کے بعد سید علی گیلانی سمیت دیگر لیڈروں کو قید وپابند سلاسل رکھنے کے بعد سید علی گیلانی کی میت کا کشمیری عوام کو ان کا جنازہ نا پڑھنے دینا ہندو بنیے کی ذہنی پست سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ہندو بنیا ان کی میت سے بھی خوف کھاتا ہے کہ اب کشمیر کی آزادی کی تحریک ذور پکڑ جائے گی جو انءشااللہ ضرور ہوگی اب ہر بچہ بوڑھا جوان علی گیلانی کی تصویر نہیں بلکہ تصور بن کر اپنا کردار ادا کرے گا۔علی گیلانی تو فوت ہو گیے مگر پاکستان سے محبت اور پاکستانی ہونے کا ایسا نظریہ دے گئے ھیں اور ان کا کفن بھی پاکستان کا پرچم بنا ہے اور ہندو بنیا اب سمجہ چکا ہے مقبوضہ کشمیر کی جنگ آزادی اب ایک ایک کشمیری اورہر ایک پاکستانی لڑے گا۔ ہندو بنیے نے مقبوضہ کشمیر کی کشمیری عوام کو جنازے سے شرکت میں روکا مگر آج پوری دنیا میں سید علی گیلانی مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جا رہی ھیں ۔انڈین حکومت کے لئے بہتر یہی ہے کہ اب مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لے اور کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق جینے کا حق دے۔

تازہ ترین