• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائے سندھ جسے قدیم دور میں باکڑو اور سرسوتی کے نام سے پکارا جاتا تھا، سندھ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ غیرملکی دانش وروں نے سندھ کی وادی کو مصر سے تشبیہ دی تھی ۔ جس طرح دریائے نیل مصر کی سرزمین کی شہ رگ ہے، وادی سندھ کے سندھو، باکڑو یا سرسوتی کے ناموں سے بہنے والے دریا کو بھی یہی حیثیت حاصل ہے۔ 

وادی سندھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خطہ اسی دریا کی لائی ہوئی مٹی سے وجود میں آیا تھا۔ سندھ دھرتی کی زرخیزی کا دارومدار دریائے سندھ پرہی رہا ہے۔ اس تہذیب کے آغاز سے ہی اس خطے کو بارشوں کی کمی کا سامنا رہا ہے۔ لیکن دریائے سندھ جو کوہ ہندو کش، قراقرم اور ہمالیہ پہاڑ سے بہتا ہوا آتا ہے، سندھ کے نشیبی علاقے میں آکر اس کا بہاؤ تیز ہوجاتا ہے۔

طلاطم کی وجہ سے اس کا پانی کنارں کی مٹی کو کاٹتا ہوا سندھ دھرتی کی ہزاروں ایکڑ اراضی کی آبیاری کرتا ہےجس کی وجہ سے یہاں زراعت کو فروغ حاصل ہوا۔ اُس دورمیں دریائے سندھ کے کنارے الور، منصورہ، بکھر، برہمن آباد، دیبل، لاہری بندر، سہون، نصر پور اور ٹھٹھہ جیسے عظیم الشان شہر وجود میں آئے، جہاں زرعی کلچر کو فروغ ملا۔ 

کلہوڑا دور میں سندھ کی معیشت بہتر بنانے کے لیے صنعت کاری پر توجہ دی گئی۔ یار محمد خان اور نور محمد خان کلہوڑو کو زیادہ تر اندرونی و بیرونی شورشوں کا سامنا رہا لیکن ان سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی سلطنت کے نظم و نسق اور رعایا کی اقتصادی حالت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ اپنی سلطنت کی حدود سے باہر مختلف علاقے’’ اجارے‘‘ پر لے کر ان کی حالت بھی بہتر بنائی۔ میاں نور محمد کلہوڑو نے دریائے سندھ سے نہریں نکال کر نہری نظام کی ابتدا کی۔ اس نے نہروں کے ذریعے زرعی اراضی کی آبیاری کے لیے کھیتوں تک پانی پہنچانے کا نظام متعارف کرایا۔ اس کے دورحکومت میں سندھ کی زرعی پیداوارعروج پر پہنچ گئی تھی۔

نور محمد کلہوڑو نے ابتدا میں بالائی سندھ کے علاقے میںنہریں کھدوائیں جن کا آبی منبع ، دریائے سندھ تھا۔ اس سلسلے میں نظام گھاٹ کی تین بڑی نہریںتعمیر کرائیں، جن میں سے’’نور واہ ‘‘اس کے نام سے منسوب کی گئی۔نور محمد کلہوڑو کی تقلید میں اس کے وزراء اور مشیروں نے بھی قدم بڑھایا۔، ’دشاہ جی کور ‘‘ شاہ بہارو نے بنوائی جو میاں صاحب کا ایک ذہین سپہ سالار اور قابل اعتماد وزیر تھا، ’’چانڈوکا‘‘ (موجودہ لاڑکانہ) میں اس نے متعدد نہریں کھدوائیں۔’’دائے جی کور‘‘ اس کے دوسرے وزیر’’داتو کہاور ‘‘نے بنوائی تھی۔

نوشہرو فیروز تعلقہ میں اس کے مقرر کردہ حاکم نصرت خان چانڈیو نے ’’ نصرت واہ ‘‘ تعمیر کرائی جسے اسی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ’’مراد واہ ‘‘ مراد کلیری نے ’’باگ واہ ‘‘ باگو سیال نے اور ’’ہیروز واہ ‘‘ پیروز وبروڈ نے بنوائی، یہ تینوں کلہوڑا دربار کے امیر تھے۔ ان نہروں کی تعمیر کے بعد سندھ میں آب پاشی کا جدید نظا م وجود میں آیاجس سے آج ڈھائی سو سال بعد بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔

کلہوڑا حکم رانوں نے سندھ کے دیگر شہروں میں بھی نہریں تعمیر کرائیں جن میں نیرون کوٹ یعنی ضلع حیدرآباد کی سرفراز واہ ‘‘قابل ذکر ہے۔ یہ نہر، کلہوڑا خاندان کے آخری حکم راں ، میاں سرفراز خان کلہوڑا المعروف خدایار خان کے نام سے منسوب ہے۔ نہری نظام کی کامیابی کے بعد سندھ کا شمار دنیا کے بڑے زرعی ملک کے طور پر ہونے لگا۔ زراعت کی ترقی کے بعد خطے کے لوگ خوش حال ہوتے گئے جب کہ زرعی پیداوار بیرونی ممالک کو برآمد ہونے لگیں۔

برطانوی محقق مسٹرچیلانی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’’سندھ میں نہروں کی صفائی ، بحالی اور توسیع میں کلہوڑوں نےفقید المثال کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مد میں سرکاری خزانے سے خاصی رقم خرچ کی‘‘۔جرمن مؤرخ مسٹر لیمبرک نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا کہ ’’ 1739ء میں ایران کے بادشاہ، نادر شاہ نے سندھ پر قبضے کے بعد میاں نور محمد کلہوڑو کو حق حکمرانی تفویض کرنے کے عوض بیس لاکھ روپے سالانہ کا خراج ادا کرنےکا پابند کیا تھا اور احمد شاہ ابدالی بھی طویل مدت تک کلہوڑہ بادشاہوں سے خراج وصول کرتا رہا۔ 

میاں غلام شاہ اور اس کے جاں نشین اندرونی و بیرونی معرکہ آرائیوں میں الجھے رہے جن پر خطیر رقم صرف ہوئی، لیکن زرعی پیداوار سے ہونے والی آمدنی اتنی تھی کہ ملکی خزانے پر زیادہ بوجھ نہیں پڑا بلکہ جنگوں سے ہونے والی تباہی و بربادی کے باوجود سندھ کا شمار مالیاتی طورپر خوش حال خطے میں ہوتا تھا ‘‘۔:مسٹر لیمبرک نے مزید لکھا ہے کہ ’’نادر شاہ کم وبیش ایک کروڑ روپے کی رقم اور جواہرات سندھ سے لوٹ کر لے گیاجب کہ اس نے کلہوڑا حکم راں پراکیس لاکھ روپے سالانہ کا تاوان عائد کیا‘‘ ۔کچھ عرصے بعد افغانوں نے یورش کی اورکلہوڑوں کی شکست خوردہ حکومت سے لاکھوں روپے سالانہ خراج کے علاوہ تحائف وصول کیے جاتے تھے‘‘۔

میاں نور محمد خان کی وفات کے بعد محمد مراد یاب خان نے محلاتی سازشوں سے گھبرا کر سندھ چھوڑ کر مسقط جانے کا فیصلہ کیا۔ مسند اقتدار پر تین سال تک بیٹھنے کے دوران اس نے بے پناہ دولت جمع کرلی تھی ۔ اس نے اپنا تمام مال و اسباب کشتیوں میں بھر کر مسقط بھیج دیا ، میاں غلام شاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے واپس منگوایا۔ اس دور میں’’ سند حکم رانی ‘‘ افغان دربار کی طرف سے عطا کی جاتی تھی۔ افغانستان کے بادشاہ نے میاں غلام شاہ خان کو حق حکم رانی دینے سے قبل سندھ میں دو مرتبہ فوج کشی کی ، ایک مرتبہ محمد عطر خان کیلئے ، دوسری مرتبہ احمد یار خان کےخلاف۔ 

کلہوڑا خاندان کے تینوں بھائیوں، غلام شاہ، محمد عطر خان اور احمد یار خان کے درمیان جنگ و جدل روکنے کے لیے خاندان کے اکابرین نے یہ حل نکالا کہ سندھ کو ان تینوں میں تقسیم کردیا گیا۔ باایں ہمہ میاں غلام شاہ خان نے چودہ برس کی حکمرانی کے دوران صنعت و زراعت کی ترقی کے منصوبوں پر کام کیا جس سے سندھ کی خوش حالی برقرار رہی۔اس نے خداآباد سمیت کئی نئے شہربسائے، مقبرے اور قلعے تعمیر کرائے اور یہ سب زرعی ترقی کی بدولت ممکن ہوا۔

(تاریخ سندھ سے ماخوذ ایک باب، مصنف ، غلام رسول مہرؔ)