• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنقید عربی زبان کے لفظ نقد سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ہیں پرکھنا، کھرے اور کھوٹے کا فرق معلوم کرنا۔ اصطلاح میں کسی ادیب یا شاعر کی تخلیقی کاوش کے محاسن اور معائب کا صحیح اندازہ کرنا اور اس پر اپنی رائے قائم کرنا تنقید کہلاتا ہے۔ کوئی بھی تخلیقی کارنامہ تنقیدی شعور کے بغیر وجو میں نہیں آسکتا۔ بقول آسکر وائلڈ ’’جس دور میں اچھی تنقید نہ ہو اس عہد میں اچھا ادب جنم نہیں لے سکتا‘‘۔ کسی ادب پارے کے عیوب و محاسن تلاش کرنا اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لیکن نقاد کا یہ کام تخلیق کار کے لئے مشعل راہ کا فریضہ انجام دیتا ہے جس کی روشنی میں اعلیٰ ادب کی تخلیق کرسکتا ہے۔ تنقیدی عمل وسیع النظری، بالغ نظری، گہرے شعور، تدبر، بصیرت اور فہم و فراست کا متقاضی ہوتا ہے ورنہ وہ ادب پارے کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کرسکتا۔

تنقید کو عام طور پر ایسی صلاحیت سمجھا جاتا ہے جو تخلیق سے مختلف ہوتی ہے۔ فنون کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں کسی شے کے حسن و قبح یا محاسن و معائب جاننے کے لئے اس فن کے ماہرین کی جانب رجوع کیا جانا جیسے کسی عمارت کے بارے میں جاننے کے لئے ماہر تعمیرات کی رائے طلب کی جاتی ہے۔ لیکن فنون خاص طور پر تخلیقی ادب کا معاملہ مختلف ہے۔ کسی تخلیقی فن پارے کے نقاد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو خود تخلیق کار نہ ہوں مگر اپنے ذوق، بصیرت اور تربیت سے اس قابل ہوگئے ہوں کہ کسی تخلیق کا تنقیدی جائزہ لے سکیں۔

اس بات میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ تنقید اور تخلیق کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اچھے نقاد کے لئے اچھا تخلیق کار ہونا ضروری نہیں اورہم انہیں یہ کہہ کر نظرانداز نہیں کرسکتے کہ ’’بگڑا شاعر نقاد‘‘ گوکہ انگریزی کے مشہور شاعر، ڈراما نگار اور نقاد بن جانسن کا دعویٰ یہی ہے کہ شاعروں کی پرکھ اچھے شاعر ہی کرسکتے ہیں۔ لیکن اس دعوے کو درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ 

تاریخ ادب کا معمولی طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ عظیم یونانی نقاد ارسطو خود شاعر نہیں تھا، اس کی تنقید کی بنیاد ان اصولوں پر تھی جو اس نے عظیم یونانی شعراء کے کلام سے اخذ کئے تھے۔ انگریزی زبان کے اکثر شعراء نقادوں کی علیحدہ حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔ پوپ کے خیال میں تخلیقی فن کار اور نقاد دونوں کی صلاحیتیں فطری ہوتی ہیں۔ ایک لکھنے کے لئے پیدا ہوتا ہے اور دوسرا تنقید کے لئے۔

یہ حقیقت ہے کہ تنقید تخلیق الگ اپنی ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ، اچھے نقاد یا تو خود اچھے تخلیق کارہوتے یا پھر اعلیٰ ذوق اور فنی تربیت کے باعث وہ مقام حاصل کرلیتے ہیں کہ ان کے فن پارے کے بارے میں اپنی رائے دے کر اس کی قدر و قیمت کا تعین کر سکیں۔ نقاد اور تخلیق کار میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ تخلیق کار پہلے اپنے فن پارے پر تنقیدی نظر ڈالتا ہے، اس کا تجزیہ کرتا ہے، محاسن و معائب کے تناظر میں اس میں تبدیلی کرتا ہے پھر منتخب احساسات، تجربات اور تاثرات کو ایک خاص ترکیب میں حل کرتا ہے۔ اس کے برعکس نقاد پہلے کسی فن پارے کو اپنے احساسات، تجربات اور تاثرات کا حصہ بناتا ہے پھر اس کا تجزیہ کرتا ہے۔

تنقیدی اصول ہمیشہ عظیم فن پاروں سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ جب یہ اصول وضع کرلئے جاتے ہیں تو آئندہ یہ تخلیقی عمل میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ارسطو نے اپنی کتاب ’’بوطیقا‘‘ میں تنقید کے جو اصول پیش کئے وہ اس نے یونان کے عظیم ڈراما نگاروں کے فن پاروں کو سامنے رکھ کر وضع کئے تھے۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور ’’اچھی تنقید محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ وہ سب کام کرتی ہے جو ایک مورخ، ماہر نفسیات اور ایک شاعر کرتا ہے‘‘۔

اردو تنقید کا آغاز تذکروں سے ہوتا ہے۔ ابتدائی تذکروں میں تنقیدی شعور کم ہے لیکن ان میں تنقید کے اولین نقوش تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ’’آب حیات‘‘ گوکہ ایک تذکرہ ہے لیکن اسے اردو تنقید میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ’’دیوان ذوق‘‘ کا مقدمہ بھی مولانا آزاد کے تنقیدی شعور کا پتا دیتا ہے۔ مولانا آزاد کے بعد الطاف حسین حالی ایک عملی نقاد اور نظریہ ساز کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ 

ان کا مقدمہ شعر و شاعری اردو تنقید کے حوالے سے ایک مستند حوالہ ہے، جس میں انہوں نے شعری اصول بھی مرتب کئے اور ان کے لئے عربی اور فارسی کے علاوہ انگریزی کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا، گوکہ مولانا آزاد، حالی کے پیش رو تھے لیکن حالی کا تنقیدی شعور آزاد پر فوقیت رکھتا ہے۔ اسی دور کے ایک اور اہم نقاد علامہ شبلی نعمانی ہیں۔ ان کی تصانیف موازنہ انیس و دبیر، شعر العجم اور مقالات شبلی میں نہ صرف ان کے تنقیدی شعور کا پتا چلتا ہے بلکہ عملی تنقید کے نمونے بھی سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کے خیال میں، شبلی اصول بند نقاد سے زیادہ عملی نقاد ہیں۔ مہدی حسن کی رائے میں شعرالعجم تنقید عالی کا بہترین نمونہ ہے۔ شعرالعجم میں شبلی نے مغربی اصولوں سے بھی فائدہ اٹھایا ہے مگر اس کی ساری وضع قطع مشرقی ہے۔

حالی اور شبلی کے بعد ترقی پسند نقادوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن میں اختر حسین رائے پوری، سجاد ظہیر، احتشام حسین، فراق گورکھ وپری، کلیم الدین، آل محمد سرور وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ میرا جی نے اردو میں نفسیاتی تنقید کا دروازہ کھولا۔ قیام پاکستان کے بعد تنقیدی ادب میں بہت سے نام نمایاں ہیں۔جن میں حسن عسکری، وزیرآغا، جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبداللہ، سجاد باقر رضوی، فرمان فتح پوری اور گوپی چند نارنگ وغیر ہ کے نام قابل ذکر ہیں۔