• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’لکھی در‘‘ ماضی کا خوب صورت قصبہ جو بدحالی کا شکار ہے

شکارپور کی چار سو سالہ تاریخ کے مطابق جب داؤد پوتہ قوم نے یہاں پر موجود جنگلات کے گھنے اور تناور درختوں کو کَٹواکر ایک شہر آباد کیا تو انہوں نے اسے ایک دائرے میں سمیٹتے ہوئے یہاں پر ایک فصیل بنوا کر قلعہ تعمیر کرایا جس کا نام’’ اشک عظیم ‘‘تھا، اس میں آٹھ دروازے اور ایک کھڑکی نصب کی گئی۔ ان دروازوں کے نام کچھ اس طرح رکھے گئے ، لَکھی در، ہَزاری در، ہَاتھی در، خَانپُوری در، سِوی در، واگنو در، نوشہرو در اور کَرن در جبکہ کھڑکی کو صدیق ماڑی کہا جاتا ہے۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی حالات بھی بدلتے گئے اور بادشاہی دورکا خاتمہ کرکےانگریز سرکار نےیہاں اپنا تسلط قائم کرلیا، جس کے بعد ان دروازوں کے نام ان سے متعلقہ علاقوں پر پڑگئےجوکہ تاحال قائم و دائم ہیں۔ لیکن اُس وقت سے لے کر آج تک اِن دروازوں میںَ’’لکھی در‘‘ انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اُس زمانے میں یہاں اس کی سڑکوں اور گلیوں میں روزانہ عرق گلاب سے چھڑکاؤ کیا جاتا تھا، جس کے باعث یہاں کی ہر گلی، محلہ اور ان سے ملحقہ راستے خوشبو سے مہکتے تھے جس کی وجہ سے شکارپور شہر کا موازنہ رنگ و بو کے شہر پیرس سے کیا جاتا تھا۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک اس شہر کا ہر شخص اپنےمعمول کے کاموں سے فراغت ہونے کے بعد چند گھڑیاں سکون حاصل کرنے کے لئے لکھی درکا رُخ کرتا ہے۔ 

 ماضی میں یہاں چاروں اطراف کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں سجی رہتی تھیں اور یہاں ہر وقت گاہکوں کی گہما گہمی دیکھی جاتی تھی۔ یہاں چوڑی اور صاف ستھری سڑکیں ہوا کرتی تھیں جن پر نہ تو مشینی سواریاں چلتی تھیں، نہ یہاں فضائی اور ماحولیاتی آلودگی تھی۔ سڑکوں پرخوبصورت و خوش رنگ سجے سجائے تانگوں کی قطاریں نظر آتی تھیں جن پر بیٹھ کر لوگ شہر کی سیر کیا کرتے تھے۔

لکھی در کی فوڈاسٹریٹ بھی کمال کی ہوا کرتی تھی جہاں لوگ ’’رادھے مل‘‘ کی ذائقہ دار قیمہ بھری آلو کی ٹکیہ، دَم والی دال مونگ، چھولے ڈبل روٹی، دیسی گھی میں بنی حلوہ پوری، ’’لَلن بھائی‘‘ کے کوفتے ، نہاری اور اس سمیت کئی ایسے کھانے جن کا نام سنتے ہی منہ میں پانی بھر آئے۔ ان سے شکم سیری کے بعد ’’موتی رام‘‘ کی خالص دودھ سے بنی بادام پستہ کاجو والی قلفی، فالودہ اس کے ساتھ دیوان ’’تلوکچند’’ کی مختلف ذائقوں والی لِملیٹ جسے کنچے والی بوتل بھی کہا جاتا تھا۔ ’’ہولو حلوائی‘‘ کی دیسی گھی اور مکھن سے تیار کردہ لذیذ و معیاری مٹھائیوں کی تو کیا بات تھی۔

ذائقہ دار کھانوں کے بعد اگر بات کی جائے لکھی در کی ان عظیم الشان عمارتوں اور تفریح گاہوں کی، جو اُس دور میں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں ، آج خستہ حالی کے ماضی کانوحہ پڑھتی محسوس ہوتی ہیں۔۔ ان عمارتوں میں سے ایک’’ گنیش باغ‘‘ ہے، جو وسیع وعریض رقبے پر قائم انتہائی خوب صورت تفریحی مقام تھا۔ اس میں گھاس کے قطعات کے ساتھ بھینی بھینی خوشبو والے پھولوں کی کیاریاں تھیں، جن سے آگے رسیلے پھلوں والے گھنے درخت لگے ہوئے تھے۔ 

ان کے سائے میں دوپہر کے وقت مسافر حضرات آرام کیا کرتے تھے۔ گنیش باغ کے ساتھ واقع 1937ء میں تعمیر کی گئی ’’نارائن نواس‘‘ بلڈنگ لکھی در کی پر شکوہ عمارتوں میں شمار کی جاتی تھی۔ اس عمارت میں لکڑی کانفیس کام ’’بابلانی ‘‘دست کاروں کی ہنرمندی کا منہ بولتاشاہ کار ہے۔ اس میں دیدہ زیب ڈیزائن سے بنائی گئی ساگوان کی ایک سیڑھی انتہائی خوبصورت اور قابلِ دید ہے۔

شکار پور کی معروف کاروباری شخصیت ،، سیٹھ شری ہیرانند نندرام داس بجاج کی یادگار کے طور پر ان کے دو بیٹوں سیٹھ کنہیا لعل بجاج اور سیٹھ ریجھا رام بجاج نے ایک گھنٹہ گھر تعمیر کرایا تھا، جو آج بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس قدیم گھڑیال کی سوئیاں ساکت ہیں۔ یک ہندو سیٹھ نے تفریح طبع کی خاطر ایک سینما گھر بھی تعمیر کرایا تھاجس کا نام پہلےپہل ’’کیپیٹل ٹاکیز‘‘رکھا گیا،بعد ازاں یہ ’’ ناز سنیما‘‘کے نام سےمعروف ہوا۔ 

آج سنیما کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔ گھنٹہ گھر سے قریب لوہے کے تاجر سیٹھ تورمل مُولچند چھابڑیہ نے ایک عالی شان عمارت تعمیر کرائی جو آج بھی کسی موجود ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تتک مذکورہ عمارت متروکہ وقف املاک کے قبضے میں ہے۔ اس عمارت کے حوالے سے دو آراء سامنے آئی ہیں ، کچھ لوگوں کا کہنا ہےکہ اسے بڈھا منڈلی (اولڈ ایج ہوم) کے طور پر سماج سیوا کے لئے بنایا گیا تھا۔ 

دوسری رائے کے مطابق شہرکے وسط میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے رہائشی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی افسران کی خواہش پر سیٹھ تورمل مول چند نے اسے سرائے کے طور پر تعمیر کرایا تھا۔ کچھ عرصہ قبل تک اس عمارت کو سرکاری دفتر اور کمرشل کالج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا، لیکن آج یہ عمارت ویران پڑی ہے۔ گھنٹہ گھر کے بالکل قریب شاہی بازار کی طرف جانے والے راستے پراسلامی فن تعمیر کا شاہ کار’’ جامع مسجد لکھی در‘‘ واقع ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ مسجد325 سال قبل شہزادہ معزالدین نے اپنے دورہ سندھ کے دوران تعمیر کرائی تھی۔ سندھ کے سابق حکم رانوں کے دور میں تعمیر کرائی گئی تمام مساجد کا طرز تعمیر یکساں ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار انمازیوںکی گنجائش موجود ہے۔

لکھی در جس کا شمار ایک عظیم الشان شہر میں ہوتا تھا، جسے خوب صورت تفریح گاہ کی حیثیت حاصل تھی، لوگ ذہنی سکون کے لیے یہاں کا رخ کرتے تھے قصہ پارینہ بن چکا ہے۔آج یہاں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر،گٹر کا بدبودار پانی، تجاوزات، ٹریفک کا شور اور دھواں اس شہر کے حسن کو متاثر کررہا ہے۔