• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مذہبی تنظیموں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کی رپورٹوں کو مس ہینڈل کیا گیا، IICSA

بریڈ فورڈ(محمد رجاسب مغل )ڈسٹرکٹ بریڈفورڈ کے مذہبی رہنماؤں نے ایک قومی انکوائری پر اپنا رد عمل دیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہبی تنظیموں نے بچوں کے جنسی استحصال کی رپورٹوں کو ہینڈل کرنے کے طریقے میں حیران کن ناکامیاں پائی گئی ہیں، بچوں کی جنسی زیادتی کی آزادانہ انکوائری کی تنظیم (آئی آئی سی ایس اے) نے کہا کہ انگلینڈ اور ویلز میں کچھ مذہبی گروہ متاثرین پر الزام تراشی کے مرتکب ہیں اور وہ اپنی عزت کی حفاظت کے باعث ہمیشہ بدسلوکی کی اطلاع نہیں دیتے تھے یہ رپورٹ جو اس مہینے کے شروع میں شائع ہوئی تھی بدسلوکی کے متاثرین کی جانب سے گزشتہ سال منعقد ہونے والی عوامی سماعتوں کے سلسلے میں بات کرنے کے بعد سامنے آئی ہےاس میں مختلف عقائد کے گروہوں کی تشویش ہے ۔جن میں اسلام ، جیہواز وٹنس ، باپٹسٹ ، میتھوڈسٹ ، اسلام ، یہودیت ، سکھ مذہب ، ہندو مت ، بدھ مت اور غیر موافق عیسائی فرقے شامل ہیں۔مذہبی رہنماؤں نے کسی بھی قسم کی چائلڈ زیادتی اور اسے چھپانے کی کسی بھی کوشش یا مناسب طریقے سے اس سے نمٹنے کی کوشش نہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر مذہبی تنظیم کو حفاظتی پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرح کی پالیسیوں کا متعلقہ حکام کو باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ مسجد قبا کے امتیاز کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جنہیں بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ اسے چھپانے کی بجائے سامنے لائیں، اس طرح کی چیزوں کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کوئی بھی بچہ چاہے وہ کسی بھی رنگ یا مسلک کا ہو ، مدرسے کا طالب علم ہو یا مذہبی اورسپلیمنٹری اسکول کا ہر عقیدے کے بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔ رپورٹ کافی چونکا دینے والی ہے، ہم کسی بھی قسم کی زیادتی کی مذمت کرتے ہیں اور مجرموں کامحاسبہ کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام عملے کو ڈی بی ایس چیک کیا گیا ہے اور ان کو ملازمت دینے سے پہلے حفاظت کے کورسز میں بھی شرکت کرنی چاہیے،ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ اگر آپ کو کسی قسم کی زیادتی نظر آتی ہے تو آپ کو اس کی اطلاع ضرور دینی چاہیے، جی بی ایم چرچز کے ریورینڈ ناتھن جاوید نے کہا کہ مذہبی تنظیموں کو جنسی زیادتی کے کسی بھی الزام کو "چھپانے یا وائٹ واش" کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کسی بھی قسم کی زیادتی ناقابل قبول ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج حیران کن ہیں ، اور میں ان تنظیموں کے رویے کی مذمت کرتا ہوں، گرجا گھروں کا مقصد بچوں کے ساتھ مثبت سلوک کرنا ہے۔ بچے کمزور ہیں اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم ان کی صحیح حفاظت کریں، ہم ہر اس شخص کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں جسے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس طرح کے الزامات سے نمٹنے کے لیے کمیٹیاں بننی چاہئیں۔ ٹیم ورک ہونا ضروری ہے اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو پورے چرچ کو اپنے خدشات کا خیال رکھنا چاہیے، میرے خیال میں اس رپورٹ کی روشنی میں ہمیں اپنی کوتاہیوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کو سنجیدگی سے لیں، بریڈ فورڈ ہندو کونسل کے نائب چیئرمین رویندر دھرنی نے کہا کہ یہ رپورٹ ہر ایک کے لیے پریشان کن ہے۔ بریڈ فورڈ ہندو کونسل کی 20 سے زیادہ تنظیمیں ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ سب مناسب ہدایات پر عمل کریں اور ضابطہ اخلاق اور پالیسیاں رکھیں نہ صرف جنسی زیادتی کے لیے ، بلکہ بدسلوکی کے تمام پہلوؤں کے لیے جیسے کہ بُلنگ یا صنفی امتیاز بھی ہمیں آگے بڑھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہر مذہبی ادارے کے پاس پالیسی موجود ہو اور اس کی پیروی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ناکہ ان پالیسیوں کو محض کاغذی کارروائی کے طور پر فائلوں میں بند کر دیا جائے، مقامی کونسلوں کو بھی عبادت گاہوں اور سکولوں میں کاغذی کارروائی کی جانچ کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹر جاوید بشیر جو بچوں کی سیف گارڈنگ تنظیم کے سربراہ ہیں یہ ادارہ بچوں اور اداروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہر مذہبی ادارے کے ساتھ انفرادی طور پر ایک جامع حفاظتی حل تیار کرنے کے لیے کام کرتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کا بنیادی طریقہ فیتھ تنظیموں میں لوگوں کو تربیت دینا ہے کہ کس طرح بھرتی کے مضبوط طریقہ کار ، رضاکارانہ انتظام اور تازہ ترین ڈی بی ایس چیک کے ذریعے بدسلوکی کو روکا جائے ، نیز حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرنے کا عزم تربیت یافتہ نامزد کے ذریعے ممکنہ زیادتی کو پہچانا جائے اس حوالے سے کیتھلے کے حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ رابی مور نے بھی ویسٹ یارکشائر میں بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں بریڈفورڈ کونسل سے رادھرم طرز پر ایک کمیشن کا مطالبہ کیا ہے جو گزشتہ بیس سال سے بچوں کے جنسی استحصال اور حفاظت کے طریقوں کی رپورٹ کے حوالے آزادانہ تحقیقات کرائے، انکوائری کا مقصد بریڈ فورڈ کونسل ، ویسٹ یارکشائر پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کی رپورٹوں کا جائزہ لینا ہے اور ان جرائم کو دوبارہ ہونے سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، بریڈفورڈ کونسل لیڈر سوزن ہینچکلف نے کہاکہ بچوں کا جنسی استحصال ایک خوفناک جرم ہے ، جس سے ہم سب کو مل کر روکنا ہوگا ۔

یورپ سے سے مزید