• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکنیکل کمپنیوں نے دہشت گردوں کی شناخت مشکل بنادی، کریسیڈا ڈک

لندن(پی اے ) میٹرو پولیٹن پولیس کمشنرکریسیڈا ڈک نےالزام عاید کیا ہے کہ ٹیکنیکل کمپنیوں نے دہشت گردوں کی شناخت مشکل بنادی،انھوں نے کہا کہ بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں نے براہ راست خفیہ پیغام رسانی پر توجہ مرکوز کردی ہےجس کی وجہ سے کوئی دوسرا کسی کا بھیجا ہوا میسیج اب نہیں پڑھ سکتا ،سنڈے ٹیلی گراف میں اپنے مضمون میں انھوں نے دہشت گردوں کی شناخت میں دشواری کے حوالے سے اپنے مضمون میں ٹیکنیکل کمپنیوں کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ،دوسری جانب وزیر داخلہ پریٹی پٹیل نے بچوں کو محفوظ رکھنے کی ٹیکنالوجی کیلئے ایک نیا فنڈ جاری کیاہے اور ٹیکنیکل کمپنیوں پر زور دیاہے کہ وہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے کے تحفظ کو منافع پر ترجیح دیں۔جبکہ سائبر سیکورٹی کے ماہرین کا کہناہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حکومت جس طرح مسئلے کاحل چاہتی ہے وہ ہوسکتاہے ،ڈیم کریسیڈا نے کہاکہ کمیونی کیشن کی ٹیکنالوجیزکی ترقی کی بدولت دہشت گرد اب کسی بھی وقت دنیا میں کہیں سے بھی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ لوگوں کو بھرتی کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ موجودہ صورت حال میں دہشت گردوں کو ٹیکنالوجی سے غلط فائدہ اٹھانے سے روکنے کیلئے برطانیہ کو اپنی ڈیجیٹل صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔پریٹی پٹیل نے G7 کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں سیفٹی ٹیک چیلنج فنڈ جاری کیا ہے جس کے تحت بچوںسے آن لائن جنسی زیادتی کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے 5 ماہرین کو85,000پونڈ فی کس فنڈ فراہم کیاجائے گا، فیس بک جیسی بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں کا کہنا ہے اس ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے کی پرائویسی کا تحفظ ہوگا جبکہ امریکہ،برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک 2019ایپل کی جانب سے سائبر سیکورٹی پلان پر اعتراض کررہے ہیں،خیال کیاجاتاہے کہ پریٹی پٹیل اور ڈیم کریسیڈا کے خیالات اپنے آئی فون کو اسکین کرنے کے پروگرام کوموخر کرنےکے فیصلے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ فیس بک میسنجر کیلئے پیغامات کو خفیہ رکھنے والی ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کوبتایا کہ ڈیٹا ٹیک کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے استعمال کرنےکیلئے دولت کے استعمال کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہےوہ ذاتی نوعیت کے اشتہارات کیلئے استعمال کرنے والے کے رویے اور دلچسپیوںکا پتہ چلانے کیلئے مستقل کوششیں کررہے ہیں۔انھوں نے اس بات پرزور دیا کہ ٹیکنیکل فرمز کے پاس استعمال کرنے کے رویئےکے ذریعے اب بھی پائیڈوفائل اوردہشت گردوں کا پتہ چلانے کی ٹیکنالوجی موجود ہےماہرین کاکہنا ہے کہ آپ ملک کاقانون سائنس کا قانون تبدیل نہیں کرسکتے اور لوگوں کے خفیہ میسیجز کوپامال کئے بغیر آپ بڑے پیمانے پر ڈیوائس کو اسکین نہیں کرسکتے۔سائبر سیکورٹی کے ایک اور سربراہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ معلوم ہوتاہے کہ حکومت فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کی تنظیموں کو انھیں مزید رسائی دینے کیلئے بیان دے رہی ہے اگر آپ بین السطور پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ پریٹی پٹیل کہہ رہی ہیں کہ وہ ہیکرز بھرتی کرنا چاہتی ہیں لیکن اس سے پرائیویسی کے حوالے سے سوال اٹھیں گے۔انھوں نے کہا کہ کیا ہم اقتدار میں بیٹھے لوگوں پر یہ بھروسہ کرسکتے ہیں کہ وہ ان اختیارات کا غلط استعمال نہیں کریں گے ۔محفوظ بچپن سے متعلق ٹرسٹ ایلیویٹ کے بانی ڈاکٹر راکیل او کونیل نے کہا کہ جہاں تک ڈیٹا کے تحفظ کے ماہر پیٹ والش کا تعلق ہے تو ایپل سلوشن قانونی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ انھوں بڑی ٹیکنیکل کمپنی سے سوال کیاہے کہ یورپ میں اسے کس طرح نصب یا استعمال کیاجائے گا جس کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے ،یورپی عدالت انصاف کاکہناہے کہ موبائل فون ہماری نجی زندگی کا ایک حصہ ہے اور موبائل فون ہو یا نجی زندگی سے متعلق کوئی اور چیز یامعلومات حقوق انسانی کے یورپی منشور کے مطابق اس کاتحفظ کرنا ضروری ہے۔حکومت اور قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مذاکرات میں موبائل آپریٹر کی ٹیم کی قیادت کرنے والے والش نے بھی ٹیکنیکل فنڈ کی تجویز پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے اورکہاہے کہ اس سے خلوت کے بارے میں کئی سوال پیداہوں گے۔انھوں نے کہاکہ اس کے بجائے زیادہ اوربہتربراہ راست رپورٹنگ چینلز کی ضرورت ہے جوشہریوں اورکمیونی کیشن پرووائیڈر دونوں کی رپورٹ یا ٹیکنیکل فرمز یاقانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے سکیں اور ان رپورٹس کو ڈیل کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تربیت میں بہت زیادہ اضافہ کرنے ان کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے اور فنڈز کی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ میں ہمیں ہمہ وقت محفوظ رکھنے والی ٹیکنالوجی کو توڑنے کے بجائے اس پر زیادہ توجہ دیکھنا چاہتاہوں۔

یورپ سے سے مزید