• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس کیا کررہی ہے، ایس ایچ او کس لئے بیٹھا ہے ، اگر کوئی کام نہیں کرتا تواس کو تبدیل کریں، ریمارکس

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے وزیرباغ میں نشئی افراد کی موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرباغ میں نشئی افراد بیٹھے ہوتے ہیں پولیس کیا کررہی ہے ِ ایس ایچ او کس لئے بیٹھا ہے، اگر کوئی کام نہیں کرتا تواس کو تبدیل کریں۔ پارک کو نشئی افراد کا آماجگاہ بنا دیا ہے،فاضل چیف جسٹس نے پارک میں ایک ماہ کیلئے لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے فریقین سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی جبکہ سماعت 27اکتوبر تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس قیصررشید خان کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے پارکوں کی بہتری کےلئے دائر کیس پر سماعت شروع کی توایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندرحیات شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر فارسٹ طارق شاہ، ٹی ایم او،ایس پی کینٹ زنیرچیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیرباغ میں نشئی افراد بیٹھے ہوتے ہیں ، اس حوالے سے پولیس کیا کررہی ہے۔ اگر کوئی پولیس افسرکام نہیں کرتا تو اسکو تبدیل کریں۔ اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات نے بتایا کہ پارک میں نئے پودے لگائے ہیں اگر کچھ وقت کےلئے پارک کو بند کیا جائے تو پودوں کی صحیح طور پر نشونما ہوسکے گی۔ر چیف جسٹس نے کہا کہ پارک میں نئے پودے لگائے ہیں تو پھر ایک مہینے کےلئے پارک میں جانے پر پابندی ہوگی، پولیس اس کو یقینی بنائے۔ عدالت نے قراردیا کہ پارک میں ایک ماہ کیلئے لوگوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔، عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات کو لاہور کے پارک کا دورہ کرنے کابھی حکم دیا اور کہا کہ آپ لاہور کا دورہ کریں وہاں پر تاریخی پارک کو دیکھے اس طرح یہاں پر بھی پارکوں کو خوبصورت بنائیں۔عدالت نے قراردیا کہ مغل دور کے تاریخی پارکوں کی حفاظت یقینی بنائیں، بعدازاں عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پر تفصیلی پورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
پشاور سے مزید