• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیبر پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر اسلامو فوبیا موجود ہے، مش رحمان

برمنگھم( پ ر )لیبر پارٹی کے اندر اسلامو فوبیا بڑے پیمانے پر ہے، یہ بات کئی رپورٹوں سے ثابت ہوئی ہے لیکن موجودہ لیڈر شپ اس مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اس کو فراموش کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں لیبر پارٹی کے مسلم ووٹرزاب الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالتے، ان خیالات کا اظہار مش رحمان ممبر آف این ای سی نے برمنگھم سٹاپ دی وار کے زیر اہتمام آن لائن میٹنگ میں کیا، اس میٹنگ سے سٹاپ دی وار کے مرکزی لیڈر جان ریس نے افغانستان میں امریکی اور اس کے حواریوں کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔مش رحمان نے کہا کہ موجودہ لیڈر شپ نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کی بارے میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ ٹوری حکومت سے مختلف نہیں ہے، حالانکہ پارٹی کا نفرنس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیاہے، انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کے اندر کشمیری نژاد ممبر آف پارلیمنٹ اور کونسلرز کیوں خاموش ہیں ۔کشمیر انفارمیشن سنٹر کے خواجہ محمد سلیمان نے مش رحمان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لیبر فرینڈز آف کشمیر کو کیئر سٹارمر سے مل کر اس پالیسی کی وضاحت مانگنی چاہئے کیونکہ اس نئی پالیسی نے کشمیری ووٹروں کو مایوس کیا ہے، جان ریس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی اور اس کے حواریوں کی مسلط کردہ جنگ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا ہے، وہاں پر لاکھوں افغانیوں کا خون بہایا گیا، حالانکہ دہشت گردی کے ساتھ افغانیوں کا کوئی تعلق نہیں تھا اور اسی طرح عراق پر بھی امریکہ نے جنگ مسلط کی تھی وہ بھی غلط اقدام تھا، یہی وجہ ہے کہ سٹاپ دی وار نے اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اس جنگ کے خلاف مغربی ممالک میں ایک اینٹی وار موومنٹ نے جنم لیا، لندن کی سڑکوں پر 2 ملین افراد نے ٹونی بلیئر کے خلاف مظاہرہ کیا تھا سٹاپ دی وار کے سکریٹری سٹیورٹ رچرڈسن نے کہا کہ ہم برمنگھم میں کشمیر اور فلسطین کاز کی بھر پو ر حمایت کرتے ہیں اورہرمظاہرہ میں شریک ہوتے ہیں، ناہیلہ اقبال نے کہا کہ مڈلینڈ میں بسنے والی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کومقبوضہ کشمیر کے حالات کے بارے میں برطانیہ میں بھر پور آواز بلند کرنی چاہئے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام 25 ستمبر کو انڈین قونصیلٹ برمنگھم کے باہر ہونے والے مظاہرے کی بھر پور حمایت کی جائے گی، کیونکہ اس دن انڈین وزیر اعظم نریندر موودی اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
یورپ سے سے مزید