• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قلعہ اور قدیم عمارتیں سندھ کی تہذیب و تمدن کی پہچان ہیں ۔ صدیوں سے پھیلی ماضی کے اسرار کی دبیز دھند میں لپٹی وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب، عمارتوں کے کھنڈرات تاریخ سے شغف رکھنے والے افراد کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان مقامات سے منسلک یادیں خوش گوار ہیں یا روح فرسا، لوگوں کی دل چسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ سندھ میں تعمیراتی فن سے وابستہ کاریگروں کی فن کارانہ صلاحیتوں کا پتہ موئن جو دڑو ،بھنبھور اور دیگر مدفون شہر وں کی باقیات، کھنڈرات اور دبی ہوئی عمارتوں سے ملتا ہے۔ 

وادی مہران میں جابجا قدیم آثار بکھرے ہوئے ہیں، جن میں سے بعض قلعے اور کوٹ عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ لیکن کچھ عمارات ایسی بھی ہیں جوارضی و سماوی آفات اورموسمی تغیرات کے باعث مٹ چکی ہیں۔ ان میں سے چندکا ذکر صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے، جب کہ زیادہ تر عمارات وقت کے دھندلکوں میں گم ہوچکی ہے۔ کھنڈرات کی کھدائی کے دوران ان کے آثار برآمد ہوتے ہیں۔ان ہی میں سے سنجر چانگ گوٹھ کے قریب فاضل خان کوٹ کے آثار ملے ہیں۔ 

قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق یہ کوٹ بھی تقریباً تین ہزار سال قدیم ہے، جس کا نام اس دور میں کچھ اور تھا لیکن کلہوڑا حکمرانوں نے سندھ پر قبضے کے بعد اسے اپنے نام سے موسوم کرلیا۔ یہ قلعہ مخصوص طرز تعمیر کی بدولت سندھ کے دیگر قلعوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے جوکہ بالائی سندھ سے لے کر ملتان تک پھیلے ہوئے دریائے سندھ کی ساحلی پٹی کے ساتھ اپنے وجود کو کھنڈرات کی صورت میں قائم رکھے ہوئے ہیں۔ 

آبادی کی حفاظت اور معاشی ترقی کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے مخصوص حالات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہر دور کے حکم راں نے قلعوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی، انہی میں سے یہ قلعہ بھی ہےجو قدیم تعمیری فن کی وجہ سے اپنی جداگانہ شناخت رکھتا ہے۔ سندھ کے دیگر قلعوں کی بہ نسبت، فاضل خان کوٹ کم و بیش 20 ایکڑ پر مشتمل ایک وسیع و عریض رقبے پر تعمیر کیا گیا تھا۔

اس میں ایک چھوٹا سا شہر آباد تھا جس کے مکانات ، گلیاں، سڑکیں اور چوراہے اس دور کے مروجہ اصولوں کے مطابق تعمیر کیے گئے تھے ۔فاضل خان کوٹ میں فراہمی و نکاسی آب کا بہترین نظام تھا ۔ یہاں حمام ،بازار، عبادت گاہیں اور اس دور کی ضروریات کے مطابق زندگی کی تمام سہولتیں موجود تھیں۔ اس کے باسی خوش حال زندگی بسر کرتے تھے۔

دریائے سندھ کے کنارے روشنی کا مینار بنا ہوا تھا، جو چھوٹے دخانی جہازوں اوربادبانی کشتیوں کی رہنمائی کے لیے تعمیرکیا گیا تھا۔ قلعے میں موجود آبادی کی تعداد ہزاروں نفوس پر مشتمل تھی جو مختلف پیشوں اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ مؤرخین کے مطابق جس مقام پر اس قلعہ کی تعمیر کی گئی، اسے ’’وہولہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ یہ علاقہ پرفضا اور حسین مناظر کے علاوہ دفاعی و تجارتی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا ۔

سندھ و بیرونی ممالک سے آنے والے سیاح، تاجر،اسے ہندوستان جانے کے لیے آسان ذریعہ سفر تصور کرتے ہوئے دریائے سندھ کو آبی گزر گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس دور میں مسافر طویل سمندری سفر طے کرکے دیبل اور شاہ بندر کی بندر گاہوں پر اترتے تھے اور اگلی مسافت کے لیے پیدل، بیل گاڑی یا گدھوں پر سفر کرتے تھے جو پرصعوبت تھا، لیکن دریائی راستہ ایک آسان اور آرام دہ سفری ذریعہ تھا۔ فاضل خان شہر کا بازار سکھر اور دیبل تک مشہور تھا۔ یہاں کے تاجرایمان داری ، تہذیب و شرافت اور خوش گفتاری کی وجہ سے تجارتی حلقوں میں موضوع سخن بنے رہتے تھے۔

711 ء میں محمد بن قاسم دیبل فتح کرکےملتان کی تسخیر کے لیے روانہ ہوا۔ اپنے لشکر کے ساتھ جب فاضل کوٹ پہنچا تو قلعہ دار نے اس کی آمد کی خبر ملتے ہی ،بغیر جنگ و جدل اور مزاحمت کے اس کی اطاعت قبول کرتے ہوئے ، قلعے کی چابیاں اس کے حوالے کردیں۔ اس حکمت عملی سے اس نے شہر یوں کو ہلاکت سے بچا لیا۔ محمد بن قاسم نے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، قلعہ دار کو،جس کا نام تاریخی کتب میں ’’بُوہل‘‘ درج ہے، قلعے کی چابیاں واپس کردیں۔ 

بعض مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہےکہ محمد بن قاسم نےاگلی مہم سے قبل اپنی فوجی طاقت کو کسی نقصان سے بچانے کی خاطر، فاضل کوٹ میں جنگ و جدل سے گریز کیا اور افہام و تفہیم کی پالیسی بروئے کار لاتے ہوئے ’’بوہل ‘‘ کو قلعہ داری کے منصب پر برقرار رکھا۔ اس نے ملتان روانگی سے قبل چند ماہ شہر میں قیام کیا۔ یہاں رہائش کے دوران اس نے ایک مسجد تعمیر کرائی ، جس کی تعمیر میں کچی اینٹیں اور چکنی مٹی کا گارا استعمال کیا گیا تھا۔

مسجد تیار ہونے کے بعد اس نے اپنے نائب سپہ سالارابوحارث کو مسجد کا امام مقرر کیا اور اس کی امامت میں نماز ادا کی۔ محمد بن قاسم نے ملتان کے لیے رخت سفر باندھا تو اس نے ابو حارث کو بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا لیکن ابو حارث اور اس کے 2 بیٹوں کی درخواست پر انہیں فاضل کوٹ میں ہی رہنے کی اجازت دے دی۔ 

ایک روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اہالیان شہر کے پرزور اصرار پر محمد بن قاسم نے ابو حارث کوبا حالت مجبوری قلعہ فاضل خان میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ سات سو سال بعد کلہوڑا خاندان نے جب سندھ پر اپنی حکومت قائم کی تو ایک شہزادے ، فاضل خان کلہوڑا نےتباہی سے دوچار قلعے کی ازسر تعمیر کرائی اور اسے اپنے نام سے موسوم کرکے ’’فاضل کوٹ ‘‘ کا نام دیا۔ اس نے ’’روشنی کےمینار‘‘ کی بھی مرمت کروائی اوراس کی فصیل کو کچی مٹی کی بجائے پختہ اینٹوں سے تعمیر کرایا۔

مؤرخین کے مطابق فاضل خان قلعہ 1857ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کی قتل گاہ بنا۔ سندھ کے مہر قبیلے کے حریت پسندوں اور ہندوستان بھر سے آزاد وطن کی جدوجہد کرنے والے افراد کوگرفتار کرکے فاضل کوٹ لایاگیا اور وہاں عدالت لگا کر انہیں انتہائی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ قلعہ میں بنائے گئے پھانسی گھاٹ پر لاتعداد حریت پسندوں کو تختہ دار پرلٹکایا گیاجب کہ فاضل کوٹ میں کرفیو لگا کرکے شہریوں کو ان کے گھروں میں مقید کرکے گلی محلوں میں پہرے بٹھائے گئے۔ 

بعدازاں برطانوی سرکار نے اس قلعہ کو جیل خانے میں تبدیل کردیا اور اس میں کچھ عرصہ توپ خانہ بھی رکھا گیا۔ حریت پسندوں کے علاوہ ہندوستان بھر سے خطرناک مجرموں کو گرفتار کرکے خفیہ طور سے اس جیل میں لاکر قید کیا جاتا تھا۔ کال کوٹھریوں میں بند کرکے، ان پر بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے تفتیش کی جاتی اور اکثر قیدیوں کو اذیتیں دے کرقتل کیا جاتا تھا۔

قلعے کی حالت زار دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہم اپنے تاریخی ورثہ اور تعمیرات کےتحفظ کے معاملے میں کس قدر ناسمجھ ہیں۔ قیام پاکستان کے بعدراجستھان سمیت مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے افراد نے فاضل کوٹ اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں میں ڈیرا ڈال دیا۔ اس وقت مختلف قبائل اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے گوٹھ بنا کر وہاں قبضہ مستحکم کرلیا جب کہ قلعے سے ملنے والے تاریخی نوادرات بھی برباد کردیئے۔

کلہوڑا دور میں فاضل کوٹ میں رحمت شاہ غازی نامی بزرگ کا مزار اور ہندوؤں کا مندر بھی تعمیر کرایا گیا تھا، لیکن اب ان کےصرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ قدیم آثاراورثقافت کے محکمےکی ذمہ داری ہے کہ ملک کی تہذیب و ثقافت کی ان نشانیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور قلعہ فاضل خان کو سرکاری طور پر لوک ورثہ قرار دے کر معدومیت سے بچایا جائے اور یہاں سیاحت کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے۔