• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مٹی یاتراب ہمارے قدرتی ماحول کا حصہ ہے اور اسے زمانہ قدیم سے بے کیف دنیا اور حیات کے مابین ’’پل‘‘ کی حیثیت حاصل رہی ہے ،کیوں کہ اگر مٹی نا ہوتی تو کرہ ٔارض کے چاروں طرف زندگی نام کی کوئی شے بھی نہیں ہوتی لیکن یہ قدرت کی فیاضی ہے کہ اس نے اتنی قدر و قیمت والے وسیلہ کو لامتناہی طور پر ایک غلاف کی صورت میں زمین کی سطح پر پھیلا دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی طور پر حیات کا انحصار نباتاتی اجزاء پر ہوتا ہے اور ’’مٹی‘‘ نباتاتی زندگی کی کفالت کرتی ہے ،کیوں کہ یہ قدرتی لحاظ سے غذائیت بخش معدنی اجزاء، نمکیات، نمی اور ہوا کا پیچیدہ آمیزوں کا مخزن ہے، جس کی وجہ سے حیات اور حیات نو کا سلسلہ جاری ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ماضی کی صنعتوں کے لئے خام مال فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور ’’ایلومینیم‘‘ دھات کے حصول کا سبب بھی۔جب زمین کی تخلیق (چار یا پانچ ارب سال پہلے) ہوئی تھی تو اس وقت ’’مٹی‘‘ زمین پر ناپید تھی۔ ہاں البتہ ’’پری کیمبرینا دور‘‘ (یعنی زمین حیات سے مبرا) کی قدیم آتشی چٹانونی سلسلوں مثلاً گرینائیٹ (Granite)  کے سوا کوئی بھی ذی روح کا وجود میلوں میل تک نہیں تھا۔ 

چوں کہ ان چٹانوں میں پیدائشی طور پر نباتاتی غذائیت مین کیلشیم، پوٹاشیم، سوڈیم موجود تھیں ،جس کی وجہ سے بعض سمندری کائی مثلاً ’’لائی کن‘‘ (Lichen) اور ’’ہوائی سلورسمورڈ‘‘ (Hawaii silver sword) نے ساحلی چٹانوں کےاطراف جنم لینے کی ابتداء کی۔ 

یہ نباتاتی سمندری انواع (Species) غذائیت کی تلاش میں براہ راست ’’مٹی‘‘ کے بغیر چٹانی سطح پر چسپاں ہوگئے اور ان کی باریک باریک جڑوںنے پیوست ہو کر خوراک حاصل کرنا شروع کردیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے خون چوسنے والے دلدلی کیڑے جانوروں کی کھال پر چپک کر غذائیت حاصل کرتے ہیں ،پھر ساتھ ہی کچھ حصوں کو جھلکوں اور پرتوں کی طرح اکھیڑنا شروع کردیتے ہیں۔ جب یہ گل سڑ گئے تو یہ چٹانی جھلکوں اور ذرّات کے ساتھ مل کر نامیاتی اور غیر نامیاتی مادّوں کا ایک پیچیدہ آمیزہ بن گئی اور ان کی جگہ دوسرے کائی نما درخت یا پودے چٹانی سطح پر چپک گئے۔

مجموعی طور پر یہ عمل صدیوں جاری رہا۔ اس کے ساتھ ہی موسمی عوامل خصوصی طور پر آب و ہوا کے طبعی اور کیمیائی اجزا نے بھی چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کی زیادہ تر حصوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ رفتہ رفتہ وقت گزرنے کے ساتھ حد نگاہ تک مٹی ہی مٹی نظر آنے لگی، جس نے قوانین قدرت کا باقاعدہ مشاہدہ کرنے والے افراد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

چناں چہ سترویں صدی کے مابین اورتحقیق کار نے اس قدرتی آپریشن کو ابتدائی نظریز ’’فرسودگی ‘‘(weathering)کے نام سے متعارف کرواتے ہوئے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ ’’مٹی‘‘ چونکہ سابقہ چٹانوں کی شکست و ریخت سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس لئے دونوں کی اجزا ترکیبی میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ’’مٹی‘‘ کو قدیم چٹانوں کا اعداد کہا جا سکتا ہے۔ 

گویا ’’مٹی‘‘ اپنے ماحول اور میراث کی امین ہے۔ دور قدیم کے حوالے سے یہاں سائنسی شعور اور وسائل کی کمی تھی وہیں یہ ’’سائنسی فکر‘‘ ترقی کی منزل پر فائیز ہوتی نظر آنے لگی، جس کی وجہ سے میدانی مشاہدات اورتجربہ گاہ کے تجربات میں تیزی آگئی ،جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ 1774 ءمیں جرمنی کے شہر ’’فرے برگ‘‘ (Freiberg) حالیہ ’’مرے برگ‘‘ یونیورسٹی اور سابقہ ’’مائنگ ٹائون‘‘ میں معدنیات (Mineralogy)کی اولین تدریسی عمل کا آغاز ہوا۔

تدریسی عمل اتنا زیادہ متاثرکن تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے یورپ سے طلباء حصول علم کے لیےنہ صرف جمع ہوگئے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ 1859-1879 ءکے دوران سابقہ چٹانوں کی کیمیائی، طبعی اور ارضی کیمیائی تجزیوں کو بڑی وسعت اور فوقیت دی گئی۔ نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ 1966ء میں ایک بین الاقوامی ارضی کیمیائی رپورٹ میں’’مٹی‘‘ کے حوالے سے کئی انکشافات سامنے آئے۔ جن میں سے دو پہلوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔

پہلا پہلو ان شواہد پر مشتمل ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ نباتات براہ راست ’’مٹی‘‘ سے غذائیت حاصل کرتے ہیں جو بعد میں جانوروں سے ہوتا ہوا انسانی جسم تک پہنچتا ہے۔ مثلاً گوشت یا مچھلی کے قتلے (Steak) اپنی اجزاء ترکیبی میں 12.5 فی صد فاسفورس، لوہا اور کیلشیم (بالحاظ وزن) پر مشتمل ہوتے ہیں جب کہ ایک پونڈ ’’قتلے‘‘ میں دو اونس چٹانی اجزاء موجود ہوتا ہے جو نباتات زمین پر موجود ’’مٹی‘‘ سے حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح سے الفلف(Alfalfa) جو ترفل کی پتی (Clover) جیسی نباتات ہوتی ہے ،جسے مویشی خشک خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں یہ بھی فاسفورس، کیلشیم، پوٹاشیم اور دوسرے حیات بخش عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں ،جسے نباتات ’’مٹی‘‘ سے حاصل کرتے ہیں۔ 

جب کہ دوسرے پہلو کا اطلاق معدنی اجزاء کے اندرونی کارکردگی سے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ایک اوسط درجے کی ’’مٹی‘‘ میں 45فی صد چٹانی و معدنی ذرّات بشمول چکنی مٹی 50فی صد گلے سڑے نامیاتی مواد اور 50فی صدمسامی خلاء (Pare Space) ہوتے ہیں جو الگ الگ اپنے امور بڑی خوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ مٹی میں موجود چٹانی اور معدنی ذرّات نباتات کی جڑوں کو ایک لنگر گاہ (Anchoring) کے طرز کی جگہ مہیا کرتا ہے، تاکہ وہ اپنی جگہ قائم و دائم رہ سکیں۔ 

چکنی مٹی یعنی کلے پانی کے سالمات اور غذائی آئین کو اپنی طرف کشش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نباتاتی جڑوں میں سرائیت کرنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں جب کہ گلے سڑے نامیاتی مواد/ جیومس کمزور ایسڈ خارج کرتے ہیں جو تیزاب میں ’’کیمیائی فرسودگی‘‘ کے دوران نباتاتی غذائیت بھی پیدا کرتے ہیں اور ’’مٹی‘‘ میں موجود پانی کو روکنے (Retention) کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ مسامی خلاء حتمی اور ضروری ترکیبی جز ہوتا ہے۔ 

اس کے ذریعہ ’’مٹی‘‘ میں موجود پانی چکر لگاتا رہتا ہے جو حل پذیر غذائیت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسے نباتات کی افزائش کے حوالے سے نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ یہاں پر موجود ’’مسامی خلاء‘‘ کے اطراف چٹانی ذرّات کی نوعیت بھی ایک اہم حیثیت رکھتی ہے ،جس میں ریت، چکنی مٹی اور سلٹ(silt) کا نام نمایاں ہے۔ ریت کے ذرّات عام طور پر قدیم چٹان‘‘ گرینائیٹ‘‘ میں موجود معدن ’’کوارٹز‘‘ (سلیکا + آکسیجن) کی طبعی فرسودگی (physical weathering) کی وجہ سے بنتی ہے اور مٹی کو نرم اور ٹھنڈا رکھتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پانی کی نکاسی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ایسی ’’مٹی‘‘ جس میں ریت بہت زیادہ موجود ہوتی اس میں پانی کی نکاسی بہت تیز ہوتی ہے، جس سے نباتات مطلوبہ پانی سے محروم ہو جاتے ہیں جب کہ چکنی مٹی بھی قدیم چٹان میں موجود معدن ’’فلسپار‘‘ (پوٹاشیم، سوڈیم، کیلشیم سیلیکیٹ) کی کیمیائی فرسودگی سے دستیاب ہوتی ہے اور خصوصی اہمیت کی حامل پائی گئی ہے۔ چکنی مٹی خوردبینی پلیٹ یا شیٹ کی صورت میں موجود ہوتی ہے جو اپنی سطح پر منفی چارج رکھتی ہے جب کہ پانی کے سالمات پر مثبت چارج ہوتا ہے جو قوت کشش کی وجہ سے چکنی مٹی(کلے) کے ساتھ چپک جاتا ہے، جس کی وجہ سے پانی مٹی میں قیام کرلیتا ہے جسے نباتات استعمال کرتے ہیں۔ 

نباتات کی جڑیں نامیاتی تیزاب (ہیلومک ایسڈ) سے ہائیڈروجن کو آزاد کرتے ہیں اور اس کا تبادلہ کیلشیم اور پوٹاشیم سے کر دیتے ہیں جو نباتات کی صحت مند افزائش کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ مٹی جو ایک پیچیدہ آمیزہ ہوتا ہے، اگر اس میںچکنی مٹی کی کثیر تعداد شامل ہوجائے تو مسامی خلا ء کی تعداد کو کم کردیتی ہے ،تاکہ پانی کی نکاسی خاص مقدار اور انداز میں ہو سکے لیکن ’’مٹی‘‘ میں بہت زیادہ پانی اور ہوا کی کمی پودوں اور درختوں کی جڑوں کو گلا دیتی ہے، جس سے وہ مردہ ہو جاتے ہیں۔ سلٹ ذرّات جسامت کے اعتبار سے ریت اور چکنی مٹی کے درمیان کے ذرّات ہوتے ہیں۔ 

ایسی مٹی جس میں ریت، چکنی مٹی اور سلٹ تقریباً مساوی مقدار میں موجود ہوں تو اسے نباتاتی کھاد والی زرخیز مٹی (loam)کہتے ہیں۔ اس مٹی میں نکاسی بہتر ہوتی ہے اور اس میں نباتاتی اشیا بھی موجود ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بہت زرخیز اور سود مند ہوتی ہے، کیوںکہ یہ پیداواریت کو جلا بخشتی ہے۔

صنعتی ترقی کے حوالے سے ہر دور میں ’’مٹی‘‘ کو بڑی فوقیت حاصل رہی ہے۔ ابتدائی دور میں اسے برتن بنانے کے علاوہ وسیع پیمانے پر ’’کوزہ گری‘‘ اور بعد میں اینٹیں بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مٹی (کلے) ہی بڑے پیمانے پر معدنی صنعت کی بنیاد بنی ایک ایسی صنعت جو زمانہ کی ترقی یافتہ تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل بڑھتی گئی اور جب سے جدید دور میں ایلومینیم دھات کی واحد کچ دھات ’’باکسائٹ‘‘ (Bauxite)کی دریافت عمل میں آئی تو مٹی کی اہمیت دوچند ہو گئی، کیوںکہ دنیا بھر میں ’’باکسائٹ‘‘ سے ’’ایلومینیم‘‘ کے حصول کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا لیکن یہ دنیا کے ہر خطے اور مٹی میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے 90 فی صدذخائر ’’ٹراپیکل‘‘ ممالک میں کیمیائی فرسودگی کے نتیجے میں دستیاب ہوتے ہیں۔

ٹراپیکل خطوں میں بلند درجۂ حرارت اور شدید بارش کی وجہ سے مٹی کی نہایت موٹی تہہ کی تشکیل کرتاہے،جس میں ہریالی بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن مٹی بذاز خود غیر زرخیز ہوتی ہے۔ جیسے ہی اس گرم خشک آب و ہوا میں پانی نیچے کے نیچے سرائیت کرتا ہے تو نباتاتی غذائیت حل ہو جاتی ہیں یہاں تک کے اس ماحول میں سلیکا بھی حل ہو جاتا ہے۔چناں چہ ان خطوں میں (ٹراپیکل )میں موجود مٹی حتمی طور پر آئرن اور ایلومینیم آکسائیڈ پر مبنی ہوتا ہے۔ جسے عام طور پر ’’لیٹیرائیٹ‘‘ (Laterite) یعنی ’’لوہا آکسائیڈ‘‘پر مشتمل مٹی لیکن اس میں شاذونادر ہی اتنا موجود ہوتا ہے کہ اسے کانکنی کے ذریعے حاصل کیا جاسکے ۔

ہاں البتہ سطح کے قریب ایلومینیم کچدھات کی سودمند ذخائر موجود ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے عمل رسائو (leaching) مزید جاری رہتا ہے ’’ایلومینیم‘‘ کی خالص کچ دھات کی وافر مقدار سطح کے قریب تہہ نشین (deposit)ہوتی ہے جسے باکسائٹ یعنی ’’ہائیڈرس ایلومینیم آکسائیڈ کی تخلیقی عمل میں آتی ہے جو اوسطاً6-4 میٹر موٹی اور کئی اسکوائر میٹر پر محیط ہوتی ہے۔ دنیا کا 80فی صد ایلومینیم دھات کو اسی قسم کے ذخائر کی کانکنی سے حاصل کئے جا رہے ہیں جن میں مغربی افریقا، آسٹریلیا، جنوبی امریکا، انڈیا اور پاکستان شامل ہیں۔ یہ ممالک ’’باکسائٹ‘‘ دھات کو دھو کر صاف کرتے ہیں جو اس کو کچل کر سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے کاسٹ محلول میں بلند تپش اور دبائو میں حل کرتے ہیں۔

ناحل پذیر باقیات زیادہ تر لوہا سلیکا اورٹیٹانیم تہہ میں جمع ہو جاتے ہیں اور سوڈیم ایلومینیم محلول کورسوبی دان (precipitators) میں پمپ کیا جاتا ہے۔ استعمال شدہ سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کو پروسیس کے آغاز میں واپس حاصل کرلیا جاتا ہے۔ باکسائٹ کی قلموں کو دوسرے پروسیس سے گزارا جاتا ہے جو پانی کو باہر نکال دیتا ہے ،تاکہ ایلومینیم پاوڈر تیار ہو سکے۔ ایلومینیم پائوڈر سے الیکٹرک کرنٹ گزارتے ہیں ،تاکہ یہ پگھل جائے اور دھاتی ایلومینیم کو آکسیجن سے الگ کیا جا سکے۔

اس دھات میں ’’میگنیز‘‘ (maganeese) شامل کرکے ایلومینیم کا بھرت تیار کیا جا تاہے۔ ایسا کرنے سے اس دھات میں زیادہ سے زیادہ نرمی آجاتی ہے جسے شیٹ کی صورت میں لپیٹ کر ایلومینیم کے بعد ڈبوں کی صنعت کے کار خانوں میں بھیج دیا جاتا ہے،تاکہ مشروبات کے بند ڈبے تیار کیے جاسکیں ۔آج کل پوری دنیا میںیہ بکثرت استعمال ہورہا ہے ۔مجموعی طورپرایک کافی ہلکی اور بہت مضبوط دھات ہونے کی وجہ سے ان مقامات پر فوقیت دی جاتی ہے جہاں مضبوطی کے ساتھ ہلکا پن بھی درکار ہوتا ہے۔