• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُرّشہوار قادری

زوالوجیکل سروے آف پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی نے سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندوں کی مانیٹرنگ کے لئے ریڈیو ٹیلی میٹرنگ سسٹم کا پروجیکٹ تیار کرلیا ہے۔ منصوبے پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر اخراجات آئیں گے۔ مختلف وجوہات کے باعث مہمان پرندوں کی سردیوں میں پاکستان آمد میں بیس گنا کمی آچکی ہے۔ 1980ء میں اگر 20لاکھ مہمان پرندے پاکستان آتے تھے تو گزشتہ سال صرف ایک لاکھ پرندے پاکستان آئے۔

ایک پرندوں پر ہی کیا موقوف دنیا کی ہر چیز پر جمود طاری ہے۔ کس کس شہ کا رونا روئیں کچھ بھی تو ویسا نہیں رہا جیسا کہ کچھ برسوں پہلے تک تھا۔ ساٹھ ،ستر کی دہائی تک معمولات اور امور زندگی اور طرح سے چلا کرتے تھے جن اہلِ وطن کی یادوں میں وہ دور محفوظ ہو وہ اتفاق کریں گے کہ موبائل فون ہمارے وطن میں اس وقت تک ناپید تھا۔ لینڈ لائن فون بھی اس دور میں خال خال گھروں میں ہوتے تھے۔ لہٰذا مہمانوں کے آنے کے لئے کسی پیشگی اطلاع کی ضرورت نہیں محسوس کی جاتی تھی۔ 

اتوار کے دن صبح صبح دروازے پر دستک ہوئی جاکر دیکھا تو ہمارے کچھ عزیز رشتے دار اپنے اہل و عیال سمیت تشریف لے آئے ہیں۔ ہماری امی جو مہمانوں کو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا تحفہ سمجھتی تھیں۔ باورچی خانے کا رخ کرتیں۔ خاطر تواضع میں لگ جاتیں۔ نہ چہرے پر ملال اور نہ طبیعت میں جلال کہ یہ اتنے بہت سے لوگ بغیر بتائے، بلائے آگئے اور اب ان کے کھانے پینے کا بندوبست کس طرح ہوگا۔ اس زمانے میں مہمان کو خوش آمدید کرتے وقت نہ تو اس کا سماجی مقام Social Status پیش نظر رکھا جاتا اور نہ ہی اپنے مسائل پر نظر ڈالی جاتی۔ 

مہمان داری کرنا ہے تو کرنا ہے اور محض چائے بسکٹ پر ٹرخانے کے بجائے باقاعدہ لنچ یا ڈنر کا بندوبست خلوصِ دل کے ساتھ ہو جاتا۔ کھانا کھاتے ہوئے مہمان اگر کسی ڈِش کی تعریف کر دیتے کہ ذائقہ بہت اچھا ہے ،کیا کیا مسالے ڈالے ہیں بس پھر تو کھانا ٹفن میں باندھ کر بھی ہمراہ کر دیا جاتا یہ نہیں کہ کل کے لئے بچا کر فریج میں رکھ لیا جائے۔ مہمانوں کی آمد ہم بچہ پارٹی کے لئے تو کسی عید بقرعید سے کم نہ ہوتی تھی اور ہم اپنے ہم عمر مہمانوں کے ساتھ اپنی کتابیں و کھلونے شیئر کرنے کے ساتھ دھما چوکڑی مچا کر خوشی کا اظہار کرتے۔ 

طویل بیٹھک اور جی بھر کے باتیں کر لینے کے بعد جب مہمان واپسی کا ارادہ کرتے تو یقین جانئے کہ دل بجھ سا جاتا کہ ابھی سے کیوں جارہے ہیں تھوڑی دیر اور رُک جاتے۔ بہرحال دروازے پر مہمانوں کے سواگت سے لے کر ان کو الوداع کہنے تک گھر کا ہر فرد، بڑے سے لے کر چھوٹا تک سب ہی مہمان نوازی میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہّ ڈالنے میں پیش پیش ہوتے گویا؎

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

پھر وقت نے کروٹ لی۔ سائنسی ایجادات مارکیٹ میں آنا شروع ہوئیں۔ حسبِ توفیق لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھایا اور مشرف بہ ٹیکنالوجی ہوگئے ،مگر اس ترقی کا سب سے کاری وار ہماری روایات و اقدار پر پڑا۔ رشتے ناتے کمزور پڑتے گئے۔ فالورز اور Viewers بڑھتے گئے۔ مہمان نوازی کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ پارٹیاں اب بھی ہوتی ہیں، مگر فون پر پیشگی اطلاع کی روشنی میں۔ مدعوئین وہ ہوتے ہیں جن سے ہمارا مفاد جڑا ہوتا ہے یعنی ’’لو اور دو‘‘ کی پالیسی کےتحت اب ہم مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں۔ رہ گئے کم حیثیت والےرشتے دار تو انہیں دعوت دینا فی زمانہ خسارے کا سودا گردانا جاتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں برگر اور پیزا ،ہماری روایات میں شامل ہوئے۔ اسی دوران کےایف سی اور میکڈونلڈ سےبھی اچھی خاصی شناسائی ہوگئی۔ شہر کی بہت سی اسٹریٹس نے فوڈ اسٹریٹس کا لبادہ اوڑھ لیا۔

ابھی معاشرے میں نام نہاد ترقی کی نئی راہیں زیرآسماں نکلی ہی تھیں کہ فروری 2020ء میں موذی کورونا نے دُنیا میں اپنے قدم رنجہ فرما دیئے پھر اس کے بعد دنیا نے کیا کیا نہ جھیلا یہ ایک دل گداز داستان ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے کوئی کوہنی ملا رہا ہے تو کوئی گھٹنا ملانے کو تیار بیٹھا ہے۔ بشیر بدر کو انہی حالات کے تحت کہنا پڑا؎

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

آج 2021ء کا انسان اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون سے نبردآزما رہتے ہوئے یہ گنگناتا دکھائی دیتا ہے؎

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے

جوش قدم سے بزم چراغاں کئے ہوئے

زمینی حقائق یہی بتا رہے ہیں کہ مہمانوں کی آمد میں مندی کا رجحان جاری ہے خواہ وہ عزیز رشتے دار اور پڑوسی ہوں یا موسمی پرندے۔

ماحولیاتی تبدیلیاں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں جن میں زمینی کٹائو، درجۂ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، پانی کی قلت وغیرہ بھی شامل ہیں۔

ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اجتماعی فتنے اور اللہ کی نافرمانی وبائے عام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کووڈ19- جیسی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لاکھوں زندگیاں موت کے منہ میں چلی گئیں۔ لاتعداد گھرانے مفلسی اور فاقوں کی نوبت پر آ پہنچے۔ کورونا کو اس صدی کی بہت بڑی ارضی و سماوی آفت شمار کیا جا سکتا ہے، جس نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا۔ بے شک جس معاشرے میں شر کی قوتیں غالب آ جاتی ہیں باوجود اس کے کہ وہاں نیک اور صالحین موجود ہوں وہ معاشرے عذابِ الٰہی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔