• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید شہزاد ناصر

بھنبھورکا شمار دنیا کے قدیم شہروں میں کیا جاتا ہے۔ یونانی مؤرخین رقم طراز ہیں کہ جب سکندر اعظم سندھ پر حملہ آور ہوا تواس دور میں کراچی کے نزدیک ’’پاتال‘‘ نام کی بندرگاہ تھی جو اصل میں بھنبھور ہی تھا۔ سنکنگ میں کھوٹان نامی ایک علاقہ تھا جو پہلی صدی عیسوی میں ایران، یونان، چین اور ہندستان کے قافلوں کا تجارتی پڑاؤ ہونے کے ناتے ان کے تہذیبی رابطوں کا بھی اہم مرکزمانا جاتا تھا۔ 

یہاں سے دوسری چیزوں کے علاوہ چین کا ریشم روم بھیجا جاتا تھا جو کاشغر اور چترال سے دریائے سندھ کے راستے بھنبھورکی بندرگاہ سے چڑھایا جاتا تھا۔اس تجارتی راستے کو ’’ سندھو ریشم ‘‘راستہ کہا جاتا تھا۔ سندھی مؤرخ ایم ایچ پنہور کا کہنا ہے کہ ’’ وادی سندھ کا ریشم والا راستہ سب سےمختصر تجارتی گزرگاہ تھی۔ کشن حکمرانوں کا سندھ کی’’ لاڑ ‘‘ کے علاقوں کی بندرگاہوں پر کوئی اختیار نہیں تھا کیونکہ اس زمانے میں جنوبی سندھ پر پارتھیوں اور ستھیوں کی حکمرانی تھی۔ اس صورتحال میں انہوں نے سندھ کی طرف آنے والے تجارتی مال کا رخ موڑ دیا تھا اس لئے تیسری صدی تک یہ راستہ ویران ہوچکا تھا‘‘۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق کھدائی کے دوران اس شہر میں چارمختلف ادوار کی تہذیبی و ثقافتی اشیاء اور قلعہ بند بستی کے آثار ملے

سندھ کی قدیم تجارت سے متعلق معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ، تجارتی مال و اسباب خشکی پر اونٹوں کے ذریعے اور سطح آب پر کشتیوں ذریعے مصر کے آرسینو(سوئیز)، میوس، ہورموس یا بیرنس کی بندرگاہوں پرجاتا تھا، جہاں سے جہازوں پر لاد کر صومالیہ کی بندرگاہ پہنچایا جاتا تھا ۔ وہاں سے جنوب میں عربی سمندر کے ساحلی بندر ،اہل موضا سے ہوتے ہوئے آسیلا (اوسیلا )کی طرف روانہ کیا جاتا تھا ۔ 

وہاں جہاز پینے کا پانی کا بھرتے، پھر باب المندیب کا چکر لگا کر بودامون (موجودہ عدن) سے ہوتے ہوئے بھنبھور کی طرف آتے تھےجو دریائے سندھ کےکنارے سمندری بندرگاہ تھی۔ جہازوں کو عدن سے بھنبھور تک پہنچنے میں بیس دن لگتے تھے‘‘ ۔پلینی لکھتا ہے کہ ’’ یہاں تجارت پر محصولات کی مد میں پانچ سو پچاس ملین سیسٹرسز (چاندی کے رومی سکے) جتنا سونا ادا کیا جاتا تھا ‘‘۔ یہ مال بھنبھور کی بندرگاہ سے ’’دیس اور‘‘ کی طرف بھیجا جاتا تھا۔

بھنبھور یا دیبل

بعض تاریخ دان بھنبھور کو ہی دیبل کا شہر لکھتے ہیں ۔ شروع شروع میں اس خیال کو نظر انداز بھی کیا جاتا رہا لیکن بعد ازاں کھدائی کے نتیجے میں جب قلعہ کی فصیل اور بستی کے آثار ملے تو بعض مؤرخین کی اس تحقیق کو تقویت ملی کہ دیبل ہی دراصل بھنبھور ہے۔’’تحفتہ الکرام‘‘ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’جس جگہ پہلے دیبل تھا آج وہاں’’ لاہری بندر‘‘ ہے۔جسے ٹھٹہ کہا جاتا ہے وہ ساکرو کے نزدیک کہیں پر واقع تھا‘‘۔’’ مرئسیدل ‘‘لکھتا ہے کہ ’’دیبل بحیرہ عرب کے کنارے مشہور شہر تھا۔

بنیادی طور پر بھنبھور ایک قدیم شہر ہے جس کا ذکر یونانیوں اور مصریوں کی پرانی دستاویزات میں بھی ملتا ہے ۔ یونانیوں نے اپنی کتابوں میں بھنبھور کو ’’ بار بائیک ‘‘لکھا ہے۔ یونانی مؤرخ’’ رومیلا تھاپر‘‘ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ ’’یونانی لوگ سندھیوں کو بہت پسند کیا کرتے جس کی وجہ یہ بتائی کہ سندھی لوگ بہادر ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں ساتھ دینے والے ہیں ‘‘۔

بھنبھور کے رہائشی مکانات اور تعمیرات

بھنبھور کی عمارتوں کی دیواریں غیر معمولی طور پر موٹی اور بنیادیں انتہائی گہری تھیں جنہیں مضبوط رکھنے کے لئے پتھروں کا استعمال بھی کیا گیا ۔ مکانات زیادہ تر کچی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے ہیں جب کہ پکی اینٹوں کی تعمیرات بہت کم ہیں۔ رہائشی علاقے الگ الگ بلاکوں میں تقسیم ہیں جو انتہائی قرینے سے بنائے گئے بلکہ سڑکیں اور گلیاں بھی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی تھیں۔ مکانوں کے کھنڈرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی چھتیں اینٹوں کے بڑے چھوکوں اور لکڑی کے شہتیروں سے بنائی جاتی ہوں گی جن کی اونچائی دس سے بارہ فٹ تک تھی۔

بھنبھور شہر دو حصوں میں منقسم تھا، ایک حصے 19فٹ بلندقلعہ پر مشتمل تھا، جس کی فصیل شمال سے جنوبی سمت تقریباً1200فٹ طویل اور مشرق سے ِ مغرب تک 200فٹ چوڑی رہی ہوگی ۔ اس کی تعمیر انتہائی خوبصورتی سے تراشیدہ بھاری پتھروں اور گارے سے کی گئی ۔ فصیل کو مضبوط بنانے کے لئے مساوی فاصلوں پر بڑے بڑے برجوں اور بھاری بھرکم سنگی پشتوں کے استعمال کے آثار بھی ملتے ہیں۔ قلعہ بندی کے شمال مشرقی دامن میں اور جنوبی دروازے کے پہلو میں ایک پرانی جھیل موجود ہے جس میں برساتی نالوں کے ذریعے پانی جمع ہوتا تھا۔ 

بھنبھور کے باشندے اپنی ضرورت کے لئے اسی جھیل کا پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ بارش اور طغیانی کے دنوں میں جب جھیل میں حد سے زیادہ پانی بھر جاتا توجھیل کی سطح کےاوپر آجاتا ۔ پانی کے بہاؤ سے قلعہ کو بچانے کے لئے جھیل کے کناروں پر مضبوط پشتے تعمیر کیے گئے تھے، جن کے آثار ملے ہیں۔ گھر کےصحن یا برآمدے پر اترنے چڑھنے کےلیے قدمچے بھی بنے ہوئے ہیں ۔

شہر کا دوسراحصہ فصیل کی دیوار سے باہر پھیلا ہوا ہے جو اس قدیم جھیل کےگردو نواح میں ہے۔ یہ سارا رہائشی علاقہ ہے جس میں ہر قسم کی تعمیرات کی گئیں۔ مشرقی ٹیلوں کے دامن میں ایک قبرستان اور میٹھے پانی کے چشموں کے علاوہ چند کنوؤ کے آثار بھی دریافت ہوئے۔

بھنبھور شہر کی کھدائی

بھنبھور کے قدیم آثار کا تحقیقی مطالعہ1930 میں آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے سپرنٹنڈنٹ این جی موجمدار نے کیاجس کے بعد انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’اس بستی کا طرز تعمیر اسلامی ہے اور یہاں سے ملنے والی زیادہ تر اشیاء میں اسلامی فن جھلکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شہر کی کھدائی کے دوران اس قسم کے کوئی آثار نہیں ملے جن سے معلوم ہوتا کہ ، بھنبھور کا وجود مسلمانوں کی آمد سے قبل بھی تھا، جب کہ کھدائی کے نتیجے میں کوئی بھی ایسی چیز ہاتھ نہیں آسکی تھی ،جس پر ہندو یا بدھ مت دور سے تعلق ملا ہو ۔

موجمدار کی رپورٹ شائع ہونے کے کچھ عرصہ بعد’ ’ہنری کزنس ‘‘نے بھنبھور کا دورہ کیا ، اسے یہاں سے مصفا برتنوں کے ٹکڑے اورسکے ملے ۔1951 میں’ ’مسٹر الکوک‘‘ نے بھی مختلف مقامات پر کھدائی کروائی اورانہوں نے بھی موجمدار کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل کی کسی بستی کے آثار نظر نہیں آئے‘‘۔

بھنبھور میں1958سے1962ء تک کھدائی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ۔ اس کے نتیجے میں ایک قلعہ بندبستی کے آثار دریافت ہوئے۔ جیسے جیسے کھدائی کا دائرہ وسیع ہوا، وہاں سے ایسے آثار ملے جو پہلی صدی قبل مسیح سے تیرھویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے تھے۔ کھدائی کے دوران ایک ٹیلے کی سطح سے تیس پینتیس فٹ گہرائی میں’’شاکا پہلوی‘‘ دور کی اشیاءملیں جن میں عنابی اور بادامی پالش کئے ہوئے پتلی اور سیدھی گردن والے نازک کوزے شامل تھے۔

کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء کے مطالعے سے قدیم آثار کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ’’ اس شہر میں چار مختلف تہذیبی و ثقافتی ادوار کی آبادیاں موجود تھیں۔ مٹی کے منقش سفید برتن اور بھاری نیلے و سبز روغنی برتن اموی دورِ حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ،جب کہ ایسے برتن بھی ملے جن میں سے بعض پر مٹی کا لیپ اور بعض پر چمکیلے سیسے کا صیقل جڑا ہوا ہے جو عباسی دور حکومت سے متعلق سمجھے جاتے ہیں۔

یہاں سے ملنے والی کچھ اشیا ءسلاطین دور کی بھی نمائندگی کرتی ہیں، جن میں چینی کے طرو ف قابل ذکر ہیں۔ جھیل کنارے قلعہ کی فصیل کے ساتھ شمالی حصے کی کھدائی کے بعد عمارتوں کے جو کھنڈرات ملے ، ان میں ایک بڑا ہال، ایک وسیع کمرا اور دو چھوٹے کمروں کے آثار شامل ہیں ۔ یہاں ایک کمرے کی دیواریں دھوئیں کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں ، ان کے علاوہ تین برتن ایسے بھی ملے جنہیں دیکھ کر ماہرین نے رائے دی کہ یہاں کوئی کارخانہ ، بھٹی یا صنعتی عمارت رہی ہوگی۔

قلعہ میں تقریباً ایک مربع اراضی پربنی مسجد کے کھنڈرات بھی ملے ہیں جس کے مشرقی اور شمالی سمت میں کھلنے والے دو بڑے دروازوں میں سے مشرقی دروازے کے ساتھ ایک ڈیوڑھی اور تین سیڑھیاں موجود ہیں ۔ اس دروازے کے قریب شکستہ حالت میں کتبہ بھی ملا تھا جس پر خطِ کوفی میں تحریر کی گئی تھی جو پڑھی نہ جاسکی۔ 

شمالی دروازے کے اندر چوبی چوکھٹ اور دہلیز کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ مغرب میں ایک چھوٹے دروازے کے آثار بھی تھے۔ مسجد کی بیرونی دیوار تین سے چار فٹ چوڑی ہے، اس کے مغربی سمت پتھر کے33 ستونوں والا ایک بڑا ایوان ہے جبکہ تین ا طراف میں دالان اور غلام گردشیں موجود ہیں ۔ ستون منقش ہیں جن پر شاید لکڑی کی چھتیںایستادہ ہوں گی جبکہ درمیان میں اینٹوں سے بنا صحن ہے جو75فٹ طویل اور58فٹ عریض ہے۔

مسجد کے شمال مشرقی گوشے میں نمازیوں کے لئے وضوبنانے کا چبوترہ بھی بنا ہواہے جس پر چونے کا موٹا پلسترکیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ وضو کا پانی بہہ جانے کے لئے ایک سنگی نالی بھی موجود ہے۔ وہیں سےمٹی کے برتنوں کے کچھ ٹھیکرےبھی ملے ہیں جو شاید وضو کے لئے استعمال کئے جانے والے برتنوں کے ہوں ۔ اسی چبوترے کے فرش پر چراغوں کا ڈھیر بھی دریافت ہوا۔ مسجد کے شمال میں طویل و عریض غلا م گردشوں والی بڑی عمارت کے آثار موجود ہیں جس کے دونوں اطراف بے شمار کمروں کی قطاروں کے آثار ہیں۔ مسجد کے مشرقی سمت کچی اینٹوں سے بنی ہوئی ایک دوسری عمارت کے کھنڈر بھی ملے ہیں ۔

یہاں سے ہزاروںکی تعداد میں تانبے اور چاندی کے سکے ملے جو زیادہ تر ساسانی حکمرانوں، بغداد کےخلفاء اور ان کے گورنروں کے نام سے جاری کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک طلائی سکہ عباسی خلیفہ ابوجعفر ہارون الواثق باللہ (842ء ۔ 847ء)کے عہدِ حکومت کا ہے۔ ایک اور سکے کے سیدھے رخ پر ساسانی بادشاہ کی مخصوص آدھی مورت اورفارسی زبان میں تحریر موجودہے جبکہ الٹے رخ پرآتش کدہ دارالضرت کا نام اور تقویم یزد گرد کا سنہ درج ہونے کے ساتھ اوپر بسم اللہ لکھا ہوا ہے۔

بھنبھور سے پکی مٹی اور پتھر کی بنی ہوئی انسانی اور حیوانی مورتیاں بھی ملی ہیں۔ کچھ ایسے آثار بھی ملے جنہیں دیکھ کر ماہرین کی رائے ہے کہ بھنبھور میں ہاتھی دانت ، مٹی ، صدف، قیمتی پتھراورجانوروں کی ہڈیوں سے زیورات اور دیگر اشیاء بنانے والےکارخانےاور کاریگر موجود تھے۔ اشیاء میں انگوٹھیاں ، دستے، چوڑیاں، کنگن، کنگھیاں ، جڑاؤزیورات، مختلف ناپ کے منکے، کانٹے، آویزے ملے ہیں۔ قیمتی نگوں سے جڑی ہوئی تانبے کی انگوٹھیوں کے علاوہ سرمے کی سلائیاں اورچوڑیاں بھی ملی ہیں۔ اس کے علاوہ شیشے کی بیشتر چیزیںجن میں عطر کی شیشیاں ، لمبی گردن والی بوتلیں، گلدان، شمعدان، چائے یا قہوہ پینے کی پیالیاں اورآب خورےبھی ملے ہیں۔

’ ’الیگزینڈرکننگھم ‘‘کی رائےہے کہ ’’دیبل1256ءمیں تباہ ہو چکا تھا ‘‘۔ یہاں دیبل سے مراد بھنبھور ہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جلال الدین خوارزم کے1221ءمیں کئے گئے حملے اور1333ء میں ابنِ بطوطہ کے سندھ میں آنے تک یہ شہر تباہی سے دوچار ہونے کے بعد ویران ہو چکا تھا۔ اگر’ ’الیگزینڈر کننگھم ‘‘ کا بیان درست تسلیم کر لیا جائے تو پھرابنِ بطوطہ نے جو بندر گاہ دیکھی تھی اور جس کے متعلق اپنے سفر نامے میں لکھا تھا کہ ’’یہ سندھ کی ایک مصروف ترین بندر گاہ ہے ‘‘۔ وہ لازمی طور پر بھنبھور نہیں بلکہ لاہری بندر ہوگی۔

یہ خیال بھی خارج از امکان نہیں کہ مختلف دور میں آباد ہوکر برباد ہونے کا فلسفہ اس شہر کی تاریخ میں بھی شامل ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محمد بن قاسم نے جس دیبل پر حملہ کیا اس کا نام بھنبھور رکھ دیا ہوجسے بعد ازاں جلال الدین خوارزم نے تاراج کیا تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شہری زندگی کے آخری وقتوں میں یہاں ایسی کوئی سیاسی یا سماجی بد نظمی پھیل گئی ہوگی جس کا سبب خارجی حملہ یا دریا ئے سندھ کا رخ بدلنا بھی ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ وسیع ساحلی شہر تباہ و برباد ہوگیا اورکچھ عرصہ بعد اس کی جلی ہوئی کوکھ سے ایک چھوٹے سے گاؤں نے سمٹتے ہوئے جنم لیا، مگر اپنے بندرگاہ کی ویرانی کے سبب آہستہ آہستہ وہ بھی ناپید ہوگیا یوں صدیوں کی روایات کے وارث شہر کے شاہد یہ کھنڈرات رہ گئے۔