• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نابینا پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم کے چرچے


 اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی رکن، پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے انتہائی ٹھوس انداز میں کشمیر کا کیس پیش کیا جس کے چرچے سوشل میڈیا پر ہر جانب پھیلے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے تقریر میں صائمہ سلیم نے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ بھارت کے پاس چھپانے کے لیے اگر کچھ نہیں تو اسے مقبوضہ کشمیر کیلیے اقوام متحدہ کی انکوائری قبول کرنی چاہیے۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ جموں کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، نہ ہی اُس کا اندرونی معاملہ۔ جموں کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکلنا چاہیے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی صائمہ کی پزیرائی میں ایک ٹوئٹ کیا۔

صائمہ سلیم، دنیا کی نظروں میں نابینا ہیں پر دل کی آنکھ سے مظلوموں کے دکھ ناصرف دیکھ سکتی ہیں، بلکہ اُن کیلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔

صائمہ سلیم نے ابتدائی تعلیم نابیناؤں کے اسکول ’ عزیز جہانگیر بیگم ٹرسٹ‘ سے حاصل کی۔ ان کے بھائی یوسف سلیم پاکستان کے پہلے نابینا جج ہیں۔

صائمہ نے کنیئرڈ کالج لاہور اور پھر جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

سی ایس ایس کے امتحان میں چھٹی پوزیشن حاصل کر کے صائمہ نے فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ مصنفہ بھی ہیں، اور جموں کشمیر کے تنازع پر کتاب لکھ چکی ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید