• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کیا امریکی صدر جو بائیڈن کے خاندان کا تعلق ہندوستان سے ہے؟


کیا امریکی صدر جو بائیڈن کے خاندان کا تعلق ہندوستان سے ہے؟ یہ سوال جو بائیڈن کےذہن پر سوار ہے اور مودی بائیڈن ملاقات کے موقع پر بھی انہوں نے بھارتی وزیراعظم سے پوچھا کہ آیا وہ ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں، نریندر مودی کے جواب نے دلچسپ صورت حال پیدا کردی۔

امریکا کےصدر بائیڈن نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ بائیڈن نے نریندر مودی سے پوچھا کہ کیا ہم ایک دوسرےکے رشتہ دار ہیں جس پر نریندر مودی نے ازراہ مذاق کہا کہ جی ہاں۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ جب وہ 1972 میں رکن کانگریس بنے تھے تو انہیں کسی نے ممبئی سے خط بھیج کر بتایا تھا کہ بائیڈن فیملی کا کوئی شخص ممبئی میں مقیم ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بتایا کہ انہوں نے بعد میں پتہ چلایا کہ کیپٹن جارج بائیڈن کے نام سے ایک شخص ایسٹ انڈیا ٹی کمپنی میں کیپٹن تھا۔ ساتھ ہی یہ جملہ بھی کسا کہ ایک آئرش شخص کے لیے ایسا تسلیم کرنا بڑا مشکل کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ طویل تنازعات کے سبب آئرلینڈ سے تعلق رکھنےوالوں کے لیے یہ پسندیدہ عمل نہیں کہ وہ یہ سب کے سامنے مان لیں کہ ان کے آبا و اجداد کسی انگلش کمپنی سے منسلک رہے ہیں جیسا کہ اس معاملےمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔

آئرلینڈ اور انگلینڈ کے درمیان ماضی کے اسی تنازعے کے سبب آئرش لوگوں کی بڑی تعداد امریکا سمیت مختلف ممالک منتقل ہوگئی تھی۔ خود امریکا کےصدر جوبائیڈن کا آبائی تعلق بھی آئرلینڈ ہی سے ہے۔ بائیڈن کے پڑ دادا جیمز فنیگن 1850 میں آئرلینڈ سے منتقل ہوگئے تھے۔

بائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ وہ کیپٹن ہندوستان ہی میں رہ گیا تھا اور بھارتی خاتون سے شادی کرلی تھی۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اس بارے میں مزید پتہ نہیں چلاسکے تھے اس لیے اس میٹنگ کا مقصد ہی نریندر مودی کا انہیں یہ بتانے میں مدد دینا ہے کہ آخر وہ کیپٹن جارج بائیڈن تھا کون؟

نریندر مودی نے جواب دیا کہ بائیڈن اس بارے میں پہلے بھی ان سے ذکر کرچکے ہیں۔ اس لیے انہوں نےکچھ ایسی دستاویز تلاش کیں جن سے شجرے کے بارے میں معلوم ہوسکے اور کڑیاں مل سکیں۔ وہ کچھ دستاویز ساتھ لائے ہیں، شاید یہ بائیڈن کے کام آسکیں۔ جس پر بائیڈن اور مودی کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید