• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاوید بسام

جنگل میں گھنے درختوں کے درمیان بے شمار ٹیلے تھے، جن پر جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ ان ٹیلوں پر کچھ دنوں سے جنگلی چوہوں کی ٹولی بل بنا رہی تھی۔ چند ہی دنوں میں وہ وہاں رہنے لگے۔ اس کے بعدوہ ٹیلوں پر بھاگتے دوڑتے اور کھیلتے نظر آتے تھے۔ بہت سے جانور ان کی تاک میں لگ گئےجب کہ کتےبھی ان کی ضیافت اڑانے کے لیے وہاں آ نکلتے، کچھ دور چیلوں کا بسیرا تھا وہ بھی وہاں نظر آتی تھیں۔ سانپ بھی وہاں رینگتے پھرتے۔ ایک چالاک لومڑی نے تو وہیں ڈیرہ ڈال لیا تھا۔

چوہے اس صورتحال سےسخت پریشان تھے، لیکن ان کے پاس اپنے بچاؤ کی کوئی تدبیر بھی نہیں تھی ۔ ان میں ایک چوہا بہت ہوشیار تھا، لیکن ان دنوں اسے بھی اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔ ایک دن وہ خوراک کی تلاش میں گھوم رہا تھا کہ اسے اپنے سر پر کسی چیز کا سایہ محسوس ہوا۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے دوڑا اور قریب ترین بل میں جا گھسا۔ وہ چیل تھی جو مٹی اڑاتی اس کے بل پر آ بیٹھی تھی لیکن بل کے اندر وہ محفوظ تھا۔ 

ایک مرتبہ لومڑی اس کے پیچھے لگ گئی،اس نے دوڑ لگائی، بل دور تھا اور لومڑی اس سے تیز دوڑتی آرہی تھی، اس سے پہلے کہ لومڑی اس پر چھلانگ لگاتی ، اچانک کہیں سے دوسرا چوہا بھاگتا ہوا ان دونوں کے درمیان آگیا۔ لومڑی اس چوہے پر جھپٹی جس کی وجہ سے چالاک چوہے کی جان بچ گئی۔ اب وہ بلاضرورت بل سے باہر نہیں نکلتا لیکن بھوک سے مجبور ہو کر تو باہر جانا ہی پڑتا تھا۔

ایک دن وہ خوراک کی تلاش میں نکلا تو قریب ہی اسے ایک مرا ہوا ٹڈاملا۔ اس نے جلدی سے ٹڈے کو بل میں پہنچایا، پھر مزیدخوراک کی تلاش میں دوبارہ بل سے باہر آیا تو اسےمری ہوئی سیہہ نظر آئی ،جس کا جسم گل چکا تھا لیکن کھال سوکھ کر الگ پڑی تھی۔ اچانک چوہے کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اس نے کھال اٹھائی اور اسے اپنے اوپر ڈل لیا ۔وہ جیکٹ کی طرح اس کے جسم پر فٹ بیٹھ گئی اس نے چل کر دیکھا اور تصور میں خود کو کانٹوں والی سیہہ محسوس کرنے لگا۔

وہ اسے اپنے بل میں لے آیا۔ سیہہ کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں، اسے کانٹوں والا چوہا بھی کہا جاتا ہے، شکاری جانور کوشش کے باوجود اس کا شکار نہیں کر پاتے، شیر اور چیتے بھی اس سے دور رہتے ہیں۔چالاک چوہا جب بھی باہر نکلتا وہ کھال پہن لیتا ، شکاری جانور اس پر توجہ نہ دیتے، لیکن ایک دن لومڑی کو شک ہوا ، وہ اس کے پیچھے آئی اور قریب آ کر اس کے اردگرد گھومتی رہی، پھر وہ آگے بڑھ گئی۔

دن یونہی گزرتے رہے،چوہے کے ساتھی ایک ایک کر کے شکار ہوتے گئے اب ان کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ لیکن شکاری جانور بدستور وہاں گھات لگائے موجود تھے۔ خطرہ بڑھتا جارہا تھا، آخر چوہے نے فیصلہ کیا کہ اسے اب یہ علاقہ چھوڑ کر کسی اور طرف نکلنا چاہئے۔ ایک دن اس نے اپنی کانٹوں بھری جیکٹ پہنی اور وہاں سےروانہ ہوگیا۔ وہ پگڈنڈی پر آہستہ آہستہ چلا جارہا تھا کہ اچانک اس کے سامنے شیر آگیا۔

اسے دیکھ کر چوہے کی جان ہی نکل گئی۔ شیر اس کو دیکھ کر ٹھٹکا اور غور سے دیکھنے لگا۔ دونوں پگڈنڈی پر آمنے سامنے کھڑے تھے، نکلنے کا راستہ نہیں تھا۔ شیر چوہے کے بہت قریب آگیا۔ اس نے غراتے ہوئے اپنا پنجہ ہوا میں گھمایا جو چوہے کی آنکھوں کے آگے سے گزرگیا۔ چوہے کی خوف سےبری حالت تھی۔ تھوڑی دیر تک دونوں اسی طرح کھڑے رہے پھر شیر نے اِدھر اُدھر دیکھا اورچوہے کے راستے سے ہٹا اور دم ہلاتا ہوا جھاڑیوں میں چلا گیا۔چوہا سیہہ کے بھیس میں اپنے راستے پر ہولیا۔

یہ جنگل کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا کہ ایک شیر نے چوہے کے لئے راستہ چھوڑاتھا ۔ چوہا چلتا رہا آخر ایسے علاقے میں جاپہنچا جہاں شکاری جانور نہیں تھے۔ اس نےاپنی جیکٹ اتارپھینکی۔ جلد ہی اسے کچھ چوہے نظر آگئے۔ چالاک چوہا ان سے جا ملا اور ایک نئی زندگی کا آغاز کردیا۔ یوں ایک معمولی سے چوہے نے اپنی دانائی اور ہمت سے کام لے کربڑے بڑے شکاری جانوروں کو دھوکا دیا اور اپنی زندگی بچانے میں کامیاب رہا۔