• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہسپانوی زبان کے کلاسیکل ادیب ’بینیتو پیریز گالڈوس‘

عالمی ادب میں جو مقام برطانوی ادیب ’’چارلس ڈکنز‘‘ فرانسیسی ادیب ’’ہنری بلزاک‘‘ اور روسی ادیب’’لیو ٹالسٹائی‘‘ کو حاصل ہے، ہسپانوی زبان کے کلاسیکی ادب میں وہی حیثیت’’بینیتو پیریز گالڈوس‘‘ کی ہے۔ ان کی پیدائش 1843 جبکہ وفات کا سال 1920 ہے، وہ انیسویں صدی کے اہم ترین ادیب تسلیم کیے گئے ہیں۔ اسپین میں پیدا ہونے والے اس ادیب نے 76 سالہ زندگی میں ایسی کہانیاں تخلیق کر ڈالیں، جنہوں نے ان کو عالمی ادب کی تاریخ میں امر کر دیا۔

بین الاقوامی سطح پر ادب اور مصوری میں جاری رہنے والی نظریاتی تحریک ’’حقیقت پسندی‘‘ کے صفِ اول کے ادیبوں میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا، انہوں نے زندگی کے تلخ اور شیریں احساسات کو اپنے قلم سے کاغذ پر اتارا۔ رفتہ رفتہ ان کی شہرت ہسپانوی زبان کے ساتھ ساتھ تراجم کی بدولت انگریزی دنیائے ادب میں بھی پہنچی اور پھر مزید تراجم کے ذریعے دنیا کی کئی بڑی زبانوں میں بھی ان کو شناخت ملی۔ آج کے اسپین میں ان کا نام کلاسیکی ادب کے معیار کی ضمانت ہے، ان کی یاد میں قائم کئے گئے میوزیم سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسپین میں ان کا ادبی مقام کتنا بلند قامت ہے۔

’’بینیتو پیریز گالڈوس‘‘ نے اپنی ادبی زندگی میں تقریباً 46 مختصر تاریخی ناول، 31مفصل ناول، مختصر افسانوی ادب کی 20 جلدیں، تھیٹر کے لیے لکھے گئے 21 کھیلوں کے سنگ صحافت اور دیگر شعبوں میں بھی اپنے قلم کا جادو جگاتے رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اسپین میں ان کے ناولوں سے زیادہ ان کے کھیلوں کی شہرت ہے، جس نے ان کو ہسپانوی تھیٹر میں جداگانہ پہچان اور شہرت دی۔ 1892 میں ان کا لکھاہوا ایک کھیل’’حقیقت‘‘ ہسپانوی تھیٹر میں حقیقت پسندی کا ایک مرکزی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

ان کا مشہور زمانہ ناول’’تریستانا‘‘ ہے۔ اس کی پہلی اشاعت 1892 ہسپانوی زبان میں ہوئی۔ یہ ایسی کم عمر خاتون کی کہانی ہے، جو اپنی والدہ کی رحلت کے بعد ترکے میں ملنے والی وراثت کو قانونی طور پر حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتی ہے، زندگی کے اس موڑ پر اسے رویوں اوررشتوں کے مختلف نشیب و فراز سے بھی گزرنا پڑتا ہے، مگر وہ ہمت نہیں ہارتی۔ اس کے علاوہ وہ زندگی کو بہتر طور سے بسر کرنے کے خواب بھی دیکھتی ہے۔ 

وہ فنون لطیفہ بشمول موسیقی کی تربیت حاصل کرنا چاہتی ہے، مگروہ کس طرح اپنی زندگی کے جڑے ہوئے محبت اور نفرت کے رشتوں سے نبرد آزما ہوتی ہے، اس کشمکش کو کہانی میں بہت مہارت سے قلم بند کیا گیا ہے۔ یہ کہانی انیسویں صدی کے ہسپانوی سماج کی حقیقی اور بھرپور عکاسی کرتی ہے، جس میں ایک کم عمر خاتون کی جدوجہد کو شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اس ناول پر 1970 میں ایک فلم بھی بنائی گئی، جس کے ہدایت کار، معروف ہسپانوی فلم ساز’’لوئیس بنویل‘‘ تھے۔ یہ فلم تین ممالک کے اشتراک سے بنی، جس میں اسپین کے علاوہ اٹلی اور فرانس بھی شامل تھے۔ فلم اپنی تکمیل کے بعد ان ممالک کی زبانوں میں ڈب بھی کی گئی، اس میں تینوں ممالک کے اداکاروں اور ہنرمندوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس فلم کے ہدایت نے ’’جولیوایلگزینڈ‘‘ کے ساتھ مل کرفلم کا اسکرپٹ لکھا اور فلم کی ضرورت کے مطابق کہانی میں معمولی ردوبدل بھی کیا۔

اس فلم کے فنکاروں میں فرانس کی معروف اور حسین اداکارہ’’کیتھرین ڈینو‘‘ اور اطالوی اداکار’’فرانکونیرو‘‘ سمیت ہسپانوی اداکار ’’فرنانڈورے‘‘ نے فلم میں اپنی دلکش اداکاری سے چار چاند لگا دیے۔ فلم ساز نے اس فلم کو بنانے کے لیے اپنی زندگی کے کئی برس صرف کیے اور آخر کار ایک اچھے ناول کی کہانی پر عمدہ فلم بھی بنالی۔ اس فلم کو اکادمی ایوارڈز میں بہترین غیر ملکی فلم کے لیے بھی اسپین کی طرف سے نامزد کیا گیا، جبکہ 1970 میں فرانس کے فلمی میلے’’کانز فلم فیسٹیول‘‘ میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

اسپین کے ادب میں چاہے، چاہے یہ ناول ہو، یا پھر سینما ، یہ فلم دونوں جگہ اپنی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ کلاسیکی ادب کو سینما کے پردے میں پیش کرنے کے لیے یہ فلم ایک اچھی مثال ہے کہ کس طرح کلاسیکی ادب اور اس کی تاریخ کو فلم بینوں کے لیے پیش کیا جائے۔ جس طرح پچھلی صدی پڑھنے کی صدی تھی، اب ایسا لگتا ہے کہ موجودہ صدی دیکھنے کی صدی ہے، تو تمام ایسی کتب اور خیالات، جن کی کلاسیکیت انسانی زندگی کو متاثر کر گئی، اس کو سینما اور اسکرین پر منتقل کرنا چاہے، یہ تجربہ کیسا ہوگا، یہ فلم اس کی بہترین مظہر ہے۔