• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں تین وفاقی وزراء کے بارے میں حکومتی ارکان اسمبلی میں پائے جانے والے ’’تحفظات‘‘ کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں وفاقی وزراء کو کابینہ میں ’’فیورٹ‘‘ وزراء کا درجہ حاصل ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ دو درجن سے زائد حکومتی ارکان اسمبلی نے متعدد مرتبہ ان تینوں وزراء کے ’’ناروا رویے‘‘ کے بارے میں پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو اپنی شکایات سے آگاہ کیا ہے۔ دو وفاقی وزراء تو ’’عسکری پس منظر‘‘ رکھتے ہیں جبکہ ایک سابق گورنر پنجاب کے فرزند ہیں۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ گزشتہ دنوں حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر کی ’’لاڈلے‘‘ نوجوان وفاقی وزیر سے ایک معاملہ پر سخت ’’تلخ کلامی‘‘ ہو گئی تھی۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے حکومتی ارکان اسمبلی کے ایک گروپ نے بھی مذکورہ وفاقی وزراء کے رویے سے ’’دلبرداشتہ‘‘ ہو کر حکومت سے علیحدگی کا بھی عندیہ دیا تھا؟

حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے بیک ڈور رابطے؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے ’’بیک ڈور رابطوں‘‘ کے بارے میں کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ فرزند راولپنڈی کی شہرت رکھنے والے وفاقی وزیر اس سلسلہ میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔ 

واقفان حال کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے وفاقی دارالحکومت کے ’’کلیدی عہدوں‘‘ پر براجمان ایک ’’سپر بیوروکریٹ‘‘ بھی اپنے مخصوص انداز میں مذکورہ کشیدگی کی خلیج کو دور کرنے میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ مذکورہ بیوروکریٹ کو یہ ’’خصوصی ٹاسک‘‘ اوپر سے تفویض کیا گیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقوں کی نمائندگی کرنے والے ایک سابق وفاقی وزیر بھی اس معاملہ میں اپنا ’’اثرورسوخ‘‘ استعمال کر رہے ہیں؟

اعلیٰ بیوروکریٹوں کی نجی محفلیں؟

٭صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں اعلیٰ بیوروکریٹوں کے ایک گروپ کی ’’نجی محفلوں‘‘ کی سرگرمیوں کے بارے میں کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے ’’کلیدی عہدوں‘‘ سے وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہونے والے بعض اعلیٰ سرکاری افسران مذکورہ گروپ میں شامل ہیں اور ان تمام دوستوں کا تعلق ’’پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروس‘‘ سے ہے۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ایف سیون میں واقع ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں یہ اعلیٰ افسران اکٹھے ہو کر رنگین محفلیں سجاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ مذکورہ اپارٹمنٹ ایک ایسے اعلیٰ بیوروکریٹ کی ملکیت ہے جو اپنی ’’پارسائی‘‘ کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک وفاقی خفیہ ادارے کی رپورٹ میں بھی اِس کا انکشاف کیا گیا ہے؟