• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پیپلز پارٹی نے سندھ کے مسائل حل کرنے کی ٹھان لی

سندھ میںآئندہ کے انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ایک بڑا اتحاد بنانے کے لیے غیر محسوس طریقے سے کوشیش تیز کر دی گئی ہیں اس ضمن میں سابق وزیر اعلی سندھ سید غوث علی شاہ اور غلام ارباب رحیم نے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کشمور ،گھوٹکی ،سکھر ، خیرپور،شکارپور، لاڑکانہ ، بدین حیدرآباد میں سیاسی شخصیات سمیت ان افراد کو پارٹی میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو پی پی پی سے قدرے ناراض ہیں جبکہ باقی اضلاع کے با اثر افراد سے بھی رابطے کئے جائینگے۔ دوسری جانب پی ٹی ا ٓئی کو سندھ میں سیاسی طور پر مضبوط بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر اہم تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔ 

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی سندھ کا صدر سید غوث علی شاہ کو بنایا جائے گا جبکہ انتخابات میں جی ڈی اے کے ساتھ بھی سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی جائے گی، عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے وفاق کے رکے منصوبے بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ 

دوسری جانب پی پی پی اس صورت حال سے باخبر ہے اور وہ وفاق کی اس حکمت عملی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پی پی پی گذشتہ تقریباـ چودہ برس سے سندھ پر بلا شرکت غیرے حکومت کر رہی ہے تاہم اسکی کارکردگی پر سیاسی اور عوامی حلقے اب بھر پور احتجاجی آواز بلند کر رہے ہیں۔ 

پی پی پی کی کارکردگی کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ نے بھی مختلف مقدمات کے سماعت کے دوران جو ریمارکس دئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی پی پی کی کارکردگی سندھ میں اچھی نہیں رہی ہے تاہم بعض حلقوں کے مطابق پی پی پی خراب کارکردگی کے باوجود الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پی پی پی کی قیادت نے سندھ بھر کے تمام وڈیرے اور بااثر افراد کو یا تو پارٹی میں شامل کر لیا ہے یا پھر انکے مسائل فوری حل کر دئے جاتے ہیں جس کے بدلے یہ افراد الیکشن میں اپنے زیر اثر افراد کے ووٹ پی پی پی کو دلوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

وجہ چاہے کچھ بھی ہو تاہم سندھ کے بڑے شہروں میں اس رویے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ وفاق اور سندھ میں حکومت کرنے یا حکومت میں شامل جماعتیں اپنی کس کارکردگی کی بنا پر عوام میں جائینگی؟

یہ حقیقت ہے کہ سندھ کو وفاق اور صوبائی حکومت نے سراسر نظر انداز کیا ہے، وفاق میں برسراقتدار پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اصل الیکشن کا معرکہ پنجاب میں ہو گا جو پنجاب میں جیتے گا وہ ہی حکومت بنائے گا جبکہ سندھ پر حکومت کرنے والی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ سندھ میں اس کا مدمقابل کوئی نہیں ۔ اسی لیے سندھ میں دیگر صوبوں کی نسبت ترقیاتی کام کم ہوئے ہیں تاہم اب پی پی پی نے بھی سندھ پر توجہ دینے کے اہم اقدمات کرلئے ہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی وزراء مشیر اور معاون خصوصی سندھ بھر میں کھلی کچہریاں لگا رہے ہیں جہاں عوام کی شکایت سنی جا رہی ہیں، دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دماغی معالجے کے جدید ترین علاج کیلئے ڈاؤیونیورسٹی ہسپتال ، اوجھا کیمپس میں پبلک سیکٹر کی پہلی گاما نائف سہولت کا افتتاح کرتے ہوئے مفت علاج فراہم کرنے کا اعلان کیاہے ۔ 

یہ ایک بہت مہنگا علاج ہے اور فی شخص کے علاج پر 250000 روپے خرچ ہوتے ہیں اور ایک سال میں تقریباً 500 لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ، اس لیے صوبائی حکومت اس کا پورا خرچ اٹھائے گی اور مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 400 سے زائد یونٹ نصب ہیں اور یہ پاکستان کے پبلک سیکٹر میں ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں نصب ہونے والا پہلا گاما نائف ہے جوکہ فخر کی بات ہے انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھی اپوزیشن اراکین ہماری حکومت پر تنقید کرتے رہیں ہیں لیکن ہم سندھ کے لوگوں کی خدمت کریں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی ہے کہ پے درپے تمام انتخابات میں عوام نے اسے زیادہ ووٹ دے کر نشستیں دلوائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے مخالف کیا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ، ہم صوبے کے لوگوں کی خدمت اور غریب لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے پر یقین رکھتے ہیں ادھر سندھ اور وفاق کے درمیان شکوے شکایتوں کا سلسلہ جاری ہے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی اور وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں اس وقت پانی کے مسئلے پر پاکستان پیپلز احتجاج کر رہی ہے ارسا معاہدے کے تحت عمل نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے سندھ میں پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔اگرپانی کی کمی کا سامنا ہے تو 1991 کے ایکارڈ کے تحت جس طرح تقسیم کرنا ہے اس طرح سے کریں۔

اسمبلی کو ایکٹ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیاہے اور ارسا کہتی ہے وہ اس پر عمل نہیں کرے گی۔سی سی آئی کے تحت کوئی بھی حکومت صوبے کا حق نہیں کھا سکتی۔ جام خان شورو نے کہا کہ ارسا سال میں دو میٹنگ کرتا ہے ایک خریف اور دوسری ربیع کے حوالے سے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ پانی کی تقسیم میں ناانصافی کے باعث کاٹن اور چاول کی فصلیں ہماری تباہ ہوگئیں اور اب جبکہ گنے کی فصل سے قبل ہمیں 28 فیصد پانی کی کمی کا کہا جارہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت 14.87میلن گیلن پانی ایکارڈ کے حساب سے ملنا ہے لیکن ہمیں ربیع کی فصل کے لئے 10.36 ایم ایف پانی کا کہا جارہا ہے اس سے ہمیں کم و بیش ساڑھے چار ایم ایف پانی کی قلت کا سامنا ہوگا، جو کہ ہمارے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے وفاق سے پی ایم سی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پی ایم سی میڈیکل کے طلبہ وطالبات کا مستقبل تباہ کررہاہ ے اسے فوراً ختم کیا جائے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید