• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اسلام

پیارے بچو! آپ جانتے ہیں نا، شیر بہت طاقت ور جانور ہے اور تقریباً سب ہی جانور اس سے ڈرتے ہیں، وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے سے کئی گنا بڑے جانوروں کا بھی شکار کرلیتا ہے اور اگر کسی شیر نے جوانی کی حدود میں نیا نیا قدم رکھا ہوتو اس کی طاقت کچھ سوا ہوتی ہے۔

یوں تو شیر کوئی بھی ہو وہ جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے ایسا ہی ایک طاقت ور اور جوان شیر ایک جنگل میں رہتا تھاوہ بہت مغرور تھا۔ اسی لئے سب جانور اسے مغرور شیر کہتے ہیں۔ دراصل اسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ غرور اور تکبر نے اسے بدمست بنادیا تھا۔ جب وہ چلتا تھا تو اس کی چال ڈھال سے ہی اس کا تکبر جھلکتا تھا۔

بچو! آپ کو معلوم ہےنا،غرور اور تکبر کسی کو زیب نہیں دیتا ، مگر وہ مغرور شیر اس برائی میں بری طرح مبتلا ہوچکا تھا، اس سے جنگل کے سب جانور ڈرتے تھے وہ جب چاہتا کسی بھی جانور کو چیرپھاڑ دیتا۔

عام طور پر وہ اپنی طاقت کا بے جا استعمال کیا کرتا تھا، اس کے تکبر اورغرور سے سب ہی واقف ہوگئے تھے، یہی وجہ تھی کہ ایک دن ایک بزرگ اور سمجھ دار شیر نے اسے اپنے پاس بلایا اور پیار سے سمجھایا کہ یہ ٹھیک ہے کہ تم جوان ہو ،طاقت ور ہو اور بلاشبہ جنگل کے باشاہ بھی ہو۔مگر تمہیں اپنی جوانی اور طاقت پر غرور نہیں کرناچاہیے، کیوں کہ غرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے لہذا جتنی جلدممکن ہو تم اس بری عادت سے نجات حاصل کرلو۔ورنہ اس کا انجام ایک نہ ایک دن بہت برا ہوگا۔

بزرگ شیر کی باتیں سن کر مغرور شیر نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس کی نصیحت کو ہوا میں اڑا دیا، بزرگ شیر کواس کی اس حرکت پر بڑا افسوس ہوا مگر اس نے خاموشی اختیار کرلی۔

ہم جو کچھ کرتے ہیں عام طور پر اس کا نتیجہ ہمیں اس دنیا میں ہی بھگتنا پڑتا ہے ایسا ہی کچھ اس مغرور شیر کے ساتھ بھی ہوا ۔ہوا کچھ یوں کہ ایک دن دوپہر کا وقت تھا اور شیر درخت کے نیچے آرام کررہا تھا کہ اچانک اس کی نظر دور سے آتے ہوئے ایک موٹے تازے بھینسے پر پڑی، بس پھر کیاتھا، مغرو رشیر نے سوچا کہ آج میں اس بھینسے کو اپنی طاقت ضرور دکھاؤں گا اور اسے بے بس کرکے چیرپھاڑ کرکھا جاؤں گا ۔

یہ سوچ کر وہ بہت خوش دکھائی دےرہا تھا۔ دوسری طرف بھینسا بھی بہت طاقتور تھا، مگر وہ بے دھیانی میں مغرور شیر کی طرف بڑھتا چلا آرہا تھا۔

دوسری جانب شیر اس تاک میں بیٹھا تھا کہ جیسے ہی وہ بھینسا قریب آئے تو اس پر حملہ کردے۔ جب بھاری بھرکم بھینسا مغرور شیر کے قریب پہنچا تو اس نے اس پر حملہ کردیا۔

مگر یہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ سیر کو سوا سیر ضرور ملتا ہے لہذٰا بھینسے نے مغرور شیر سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اس سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جوں ہی شیر بھینسے کی گردن پر حملہ آور ہوا بھینسے نے اسے اپنے بڑے بڑے سینگوں کی مدد سے اوپر اٹھایا اور زور سے زمین پر پٹخ دیا، شیرکے خواب وخیال میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بھینسا ایسا بھی کرسکتا ہے۔

اسے بھینسے پر بہت غصہ آیا۔بچو ! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں نا، کہ غصے میں عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ یہی مغرور شیر کے ساتھ ہوا وہ غصے کی حالت میں ایک بار پھر بھینسے پر اس طرح حملہ آور ہوا کہ اسے خیال ہی نہ رہا کہ وہ کیا کررہا ہے۔دراصل وہ بھینسے کی طرف اس انداز سے بڑھا کہ بھینسے کا بڑا سا سینگ اس کے پیٹ میں پورا پیوست ہوگیا۔ جس سے اس کا پیٹ پھٹ گیا بس جناب، پھر کیا تھا مغرور شیر کےجسم سے تیزی سے خون بہنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ نقاہت کا شکار ہونے لگا۔

اس صورت حال کا بھینسے نے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے بڑے بڑے مضبوط سینگوں سے مغرور شیر پر پے درپے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔ کچھ دیر بعد مغرور شیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےمرگیا ۔اسے مردہ حالت میں چھوڑ کر بھینسے نے اپنی راہ لی۔

پیارے بچو! جب بوڑھے شیر کو اس واقعہ کا علم ہوا تواس نے برجستہ کہا ،’’ غرور اور تکبر کا یہی انجام ہوتا ہے‘‘۔