• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علم، ادب، تاریخ دانی، مذہب ، موسیقی، تصوف تنظیم شعر اور دانشوری کو یکجا دیکھنا ہو تو برصغیر کی تاریخ میں ایک ہی نام پر نظر پڑتی ہے۔ اور وہ نام ہے امیر خسرو کا۔ میرتقی میرنے ’’نکات الشعراء‘‘ میں انہیں ’’مجمع کمالات‘‘ کے علاوہ ’’صاحب حالات‘‘ بھی گردانا ہے۔ 

برصغیر خصوصاً مسلمانان ہند کی تاریخ میں امیر خسرو کا نام بذاتہ ایک ادارہ ہے۔ ایک تہذیب کی علامت اور ایک ثقافت کا اشاریہ ہے۔ وہ ادارہ، وہ تہذیب اور وہ ثقافت جس میں شاہ و گدا ،خاص و عام ، عالم و جاہل، صوفی ورنہ سبھی کی جھلک سبھی کا عکس ہے۔

خسرو نے اپنے اطراف،اپنے ماحول ، اپنے زمانے ، اپنے سماج اور اپنی معاشرت سے جو کچھ حاصل کیا تھا، اسے اپنےتدبر، فراست، فنکاری، ریاض، عمل ، حسن نظر، مطالعے، مشاہدے، تجربات اور سوزدروں سے نکھار کر ، سنوار کر دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ موجودہ علم، ادب، شعر ، موسیقی، تصوف اور دوسرے کتنے ہی شعبوں پر ان کے اثر کی گہری چھاپ لگی ہوئی ہے اور اس عمل کے پس منظر میں دراصل خسرو کی زندگی کے ساتھ وہ ردیہ اور محسوسات ، میلانات اور رجحانات کی وہ عوامیت ہے جو ان کےرگ و پےمیں بس گئی تھی۔ جس طرح وہ تنا ور درخت جس کی چھائوں میں قافلے ٹھہرتے ہیں اپنا آذوقہ زمین سے لیتا ہے، اسی طرح علم و ادب کے اس گھنی چھائوں والے درخت خسرو نے بھی زمین یعنی عوام سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔

تاریخ وفات: اکتوبر 1325
تاریخ وفات: اکتوبر 1325

جس طرح نظیر اکبر آبادی کو ان کے عوامی رجحانات کی وجہ سے ترقی پسند گردانا جاتا ہے اسی طرح خسرو کو اپنی عوام پسندی کے لئے اصطلاحاً’’ترقی پسند‘‘ تسلیم کر لینا چاہیے۔

خسرو کا ایک گائوں کے گھاٹ پر پانی طلب کرنا اور گائوں کی گوریوں کا خسرو سے کھیر۔ چرخے۔ کتے اور ڈھول کے الفاظ سے ایک ’’ڈھکوسلہ‘‘ نظم کرنےکی فرمائش کرنا اور خسرو کا فی البدیہ یہ کہنا کہ :

کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

ممکن ہے الحاقی بات ہو یا زیب داستان ۔ لیکن خسرو کی ذات سے اس طرح کے واقعات منسوب کرنا اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ وہ عوام اورخواص کے مشترکہ محبوب تھے اور یہ محبوبیت انہیں عطا ہوئی تھی اس در سے جہاں شاہوں کی پیشانیاں جھک جاتی تھیں۔ دلی کے سلطان حضرت نظام الدین اولیا ءکی قدم بوسی کے فیض نے امیر خسرو کے سر پر مقبولیت عام کا تاج رکھا تھا۔ امیر خسرو کو بھی ان قدموں کی عظمت اور کفش کی وقعت کا احساس تھا۔ 

انہوں نے گیارہ شاہوں کا زمانہ دیکھا، بہت سوں کے دربار سے وابستہ رہے۔ دربار سے وابستگی کا سلیقہ انہوں نے اپنے نانا عماد الملک سے سیکھا تھا جو اگرچہ بادشاہ نہ تھے لیکن ’’بادشاہ گر‘‘ ضرور تھے۔ کجلاہوں نے امیر خسرو کی قدردانی کی۔ انہیں دل کھول کر نوازا لیکن خسرو کے لئے دام ودر ہم سے بڑھ کر شیخ کی محبت تھی۔ اور اسی کا یہ کرشمہ تھا کہ خسرو نے ایک قصیدے کے صلے میں ایک شاہ کے دربار سے ملنے والے 5لاکھ روپے کے عوض ایک مسافر سے اپنے مرشد کے جوتے خرید لئے۔ مرشد بھی وہ جن سے شرف بازیابی کی تمنا لے کر جلال الدین خلجی اس دنیا سے سدھار گیا۔ یہ آگ یہ لگن یکطرفہ نہ تھی۔جب خسرو سر پر استاد کے جوتے رکھ کر نظام الدین اولیاء کے دربار میں پہنچے تو مرشد کہہ اٹھے ۔ میرے ترک سستے خریدلیے۔ جواباً خسرو نے اپنی غزل چھیڑی

ہر دو عالم قیمت خود گفتی

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

آج جب کہ زندگی بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ نقد و نظر اور تحقیق و جستجو کے سانچے بدل گئے ہیں۔ نقادان فن اور محقیقین نے خسرو کے فن کا تجزیہ بھی دقیق نظر اور منطقی استدلال سے کیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق خسرو ،اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں بلکہ یہ سہرا مسعود سلمان کے سر بندھتا ہے، پھر بھی خسرو کی غزل :

زحال مسکین مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجواں ندارم اے جاں نہ یہوکاہے لگائے چھتیاں

شیان ہجراں دراز چوں زلف دروز و صلت چوں عمر کو تاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹون اندھیری رتیاں

چوشمع لوزاں چوذرہ حیراں، زمہتراں مہ بکشتم آخر

نہ نیند نیناں ، نہ انگ چیتاں، نہ آپ آویں نہ بھیجیں بتیاں

یکایک ازدل دو چشم جادو، سفید فریبم یہ بردتسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سنا دے ہمارے پی کو ہماری بتیاں

بحق روز وصال دلبر کہ درد مارا فریب خسرو

سپینت سن کے درائے راکھوں جو جاتےپائوں پیا کےگھتیاں

پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ، یہی وہ زمین تھی جس پر اردو کا لہلہاتا ہوا سبزہ اُگا ہے۔ مسعود سعد سلمان طرز ریختہ کے محرّک ہو سکتےہیں لیکن موجد یقیناً امیر خسرو تھے۔ جب قوال:

نمی داتم کہ منزل بودشب جاتے کہ من بودم

بہرسو رقص بسمل بود شب جاتے کہ من بودم

پری پیک لگا دے سرو قدے لالہ زخسارے

سراپا آفت دل بود شب جانے کہ من بودم

رقییاں گوش ہر آواز اوردرناز و عن ترساں

سخن گفتن چہ مشکل بود شب جانے کہ من بودم

خدا خود میر مجلس لودانہ رلا مکان خسرو

محمدؐ شمع محفل بود شب جاتےکہ من بودم

الاپتے تھے تو بغیر سمجھے ہوئے ایک انجانا سا کیف طاری ہو جاتا تھا۔ یہ پڑھ کر کہ یہ نعتیہ غزل امیر خسرو کے کلام میں الحاقی ہے دل پر دھکا سا لگا۔ یہ مانا کہ ان کے کسی مجموعے میں یہ غزل موجود نہیں ہے لیکن چونکہ کسی اور نےاس غزل پر دعوئی ملکیت نہیں کیا نہ کسی ناقد اور محقق نے یہ ثبوت فراہم کیا کہ یہ غزل فلاں کی ہے تو کیوں نہ اسے امیر خسرو ہی کی تخلیق سمجھا جائے کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بوجوہ یہ غزل کسی مجموعے میں شامل نہ ہو۔ صاحب حال و تال کے لئے میر کی صرف یہی غزل انہیں دیدار محمد ؐ سے سرفراز کر سکتی ہے۔

سر سید احمد خان کہا کرتے تھے کہ روز قیامت جب اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ سرسید ’’دنیا سے کیا لایا ہے‘‘۔ تو میں عرض کرونگا کہ ’’حالی سے مسدس لکھوا لایا ہوں‘‘۔ محبوب الہیٰ خواجہ نظام الدین اولیاء لکھتے ہیں کہ جب قیامت میں مجھ سے یہ سوال ہو گا کہ ’’نظام الدین دنیا سے کیا لایا ہے‘‘ ۔ اس وقت میں خسرو کو پیش کرنے ہوئے عرض کروں گا کہ ’’سوزسینہ ایں ترک مرا بہ بخش (اے پروردگار اس ترک کے سینے میں جو آگے روشن ہے اس کی بدولت مجھے بخش دے) سچ تو یہ ہے کہ سینے میں ایسی ہی آگ رکھنے والا۔

نمی دانم چہ منزل بودشب جانےکہ من بودم

ہر سو رقص بسمل بود شب جانے کہ من بودم

کہہ سکتا ہے۔ خسرو کے سینےکی اس آگ نے خواجہ دلی کے وصال پر ان سے کہلوایا تھا۔

گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈارلے کسی

چل خسرو گھر اپنے سانجھ بھئی چو دیس

خسرو صرف ملکِ ادب ہی کے خسرو نہ تھے مملکت دل کے بھی خسرو تھے اور یہی بات انہیں اوروں سے معزز کرتی ہے۔

خسرو کی رگوں میں ترک باپ کا خون تھا۔ ہندوستانی ماں کے دودھ اور دوابے کی فضا نے ان کی طبیعت میں جو رچائو پیدا کیا تھا اس نے خسرو کو مشرق وسطیٰ اور برصغیر کی تہذیب کا ایسا ستون بنا دیا جو تعصب اور بیگانگی کی فضا میں آج بھی سر بلند ایستادہ ہے۔ ان کی شاعری میں ترک و ایران کی صبحیں ہیں تو لکھنؤاور بنارس کی شامیں۔ شیراز کے نغمے ہیں تو ہند کے گیت۔ فارسی کے قصائد، مثنویاں اور غزلیں ہیں تو ہندی کے دو ہے۔ ان کی شاعری دماغ بھی ہے اور دل بھی، نظر بھی ہے شعور بھی ، جسم بھی ہے جان بھی اور ان کی شاعری کی تابنا کی سے برصغیر ہی کی نہیں ، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی آنکھیں بھی خیرہ ہو گئیں۔ 

حافظ شیرازی نے انہیں طوطیٔ خوش مقال کا لقب دیا، لینن گراڈ کے کتب خانے میں، برٹش میوزیم لائبریری لندن میں،۔ پیرس ، آکسفورڈ کی لائبریری میں اور مشرقی جرمنی کے دو کتب خانوں میں امیر تصانیف اور شعری مجموعے آج بھی ان کی عظمت اور انسان دوستی کی داستانیں سنا رہے ہیں۔ لوگ کہتےہیں کہ میر کا کلام ’’آہ‘‘ ہے اور سودا کا کلام ’’واہ‘‘ میرا خیال ہے کہ امیر خسرو کا کلام آہ اور واہ کا مجموعہ ہے۔ قوالی کے ’’اہے واہ‘‘ سے لے کر وداعی (بدائی) کے گیت:

کا ہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے تک، حال و قال، آنسوئوں، آہوں، مسکراہٹوں ، قہقہوں ، وصال و فراق، بہار و خزاں اور برہا و ملن کے کتنے ہی لمحے، کتنی ہی تصاویر ان کے کلام کا جزو ہیں۔

’’خالق باری سرجن ہار‘‘ کو محقیقین نے ملکیت امیر خسرو سے خارج کر دیا ہے۔ ڈر ہے کہ کل کوئی صاحبِ تحقیق ’’کا ہے کو بیاہی بدیس‘‘ کو بھی امیر خسرو کا کلام ماننے سے انکار کر دے گا۔اور کیسا کرب کا عالم گزرے گا ان لوگوں پر جن کے ذہن میں امیر خسرو اور کا ہے کو بیاہی بدیس ’’ساتھ ساتھ ابھرتے ہیں۔ خسرو اور ترنم۔ خسرواور موسیقیت ۔ خسرو اور عنائیت ایسے لازم و ملزوم ہیں جن کا تجزیہ کرنے کے لئے محقیقین کو برس درکار ہو ںگے۔ مجھے اپنی کم مائیگی اور کم علمی کا اعتراف ہے۔ میں موسیقی اصطلاحات چھند، کبت، پربند دھرپت، قول ، قلبانہ، نقش، گل، نگار، بسیط، ترانہ، خیال دادرامیاں کی توڑی۔ 

شام کلیان، پہاڑی ، بھیرویں، کیدارا، درباری ،ٹھمری وغیرہ سے واقف نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ سارے گاما سے لے کر پادھانی سا تک اکتارے سے لے کر سرتارتک ۔ ڈھولک سے لے کر طبلے تک ہر جگہ خسرو ہی خسرو نظر آتے ہیں۔ اس خسرو سےکم ہی واقف ہوں جسے گیارہ بادشاہوں کے دربار میں جگہ ملی۔ جسے حافظ شیرازی نے سلام کیا۔ جسے خواجہ دلی کے پہلو میں لیٹنے کا افتخار ملا۔ 

آج بھی جس کا نام لےکر بڑے بڑے موسیقار اپنا راگ الاپتے ہیں۔ میں اس خسرو سے بھی واقف نہیں ہوں جو ایک بہادر سپاہی اور تلوار کا دھنی تھا۔ آئینہ سکندری اور ہشت بہشت کے خالق خسرو میری سمجھ میں نہیں آتے۔ میں اسی خسرو کو جانتا ہوں جو سانجھ بھئے اپنےگھر جانا چاہتا تھا۔ وہ اپنےگھر چلاگیا ۔ اس کے خیال کی خوشبو ۔ اس کے طبلے کی دھمک اس کے ستار کی آواز اور اس کے شعر کا اعجاز آج بھی زندہ ہے۔ 

خسرو نے خواص کے مقابلےمیں اپنا رشتہ عوام سے زیادہ استواررکھا تھا۔سادہ زبان خوبصورت اور دلچسپ انداز میں عوام سے باتیں کرتا تھا۔کسی بھی گلی کوچے کے آدمی سے یہ پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں سن لیجیے’’انار کیوں نہ چکھا۔ وزیر کیوں نہ رکھا‘‘۔’’ دانا نہ تھا‘‘۔’’ گوشت کیوں نہ کھایا۔ ڈوم کیوں نہ گایا۔ گلا نہ تھا‘‘۔ غرض کہ خسرو ہماری تہذیب ثقافت سوچ فکر ،مزاج رسوم و رواج، اقدار اور روایات کے بلاشبہ سب سے بڑے نمائندے تھے اور جب تک اردو زبان زندہ رہے گی خسرو بھی زندہ رہیں گے۔

ہے نام ان کا زندہ ثقافت کے باب میں

سر پر حصول علم کی دستار بھی رہی

یہ قصہ مختصر ہے کہ خسرو کے ہاتھ میں

تسبیح بھی، ستار بھی، تلوار بھی رہی