• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں بچپن میں بہت شرارتی ہوا کرتی تھی۔ سوائے کھیل کود کے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ والدین اور ٹیچرز پڑھائی پر توجّہ دینے کو کہتے، تو سُنی اَن سُنی کردیتی۔ خیر، بچپن کے دن گزرے اور کچھ شعور آیا تو تعلیم کی اہمیت سے آشنا ہوئی، اور یک سوئی و دل چسپی سے تعلیم کی طرف راغب ہوگئی۔ مگر آج جب ماضی میں جھانکتی ہوں، تو احساس ہوتا ہے کہ تعلیم کے حصول کے ضمن میں جہاں میرے والدین کی تگ و دو شامل تھی، وہیں میرے اساتذئہ کرام کا بھی بھرپور احسان ہے کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ مَیں اگرچہ بچپن میں بہت شرارتی تھی، مگر قابلِ اساتذہ کی رہنمائی میں ہمیشہ پوزیشن لیا کرتی۔

اُس زمانے مَیں نواب شاہ کے جس اسکول میں زیرِ تعلیم تھی، اُسے پی ٹی وی کے معروف اداکار اور پروڈیوسر منظور قریشی کی ہمشیرہ مس ناہید قریشی نے بحیثیت ٹیچر جوائن کیا۔ تیکھے نین نقوش کی حامل مس ناہید بہت خُوب صُورت خاتون تھیں، ان کے آنے سے گویا اسکول میں بہار سی آگئی تھی۔ وہ ہمارے لیے ایک بہترین ٹیچر ثابت ہوئیں۔ اُن کے پڑھانے اور سمجھانے کا انداز اس قدر دل نشیں تھا کہ پڑھائی سے دُور بھاگنے والی طالبات بھی دل چسپی لینے لگیں۔ اس تبدیلی پر ساری ٹیچرز بھی حیران تھیں۔ 

ایک بار اسکول میں سالانہ تقسیمِ اسناد کی تقریب ہوئی، جس میں مقابلہ تقریر، ملّی نغمات اور ٹیبلوز کے مقابلے بھی رکھے گئے۔ اس موقعے پر مس ناہید قریشی نے ٹیبلو کے لیے بطورِ خاص مجھے منتخب کیا، اور اس میں مجھے ’’حور‘‘ کا کردار دیا، جسے مَیں نے بخوبی نبھانے کی کوشش کی۔ اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود جب وہ ٹیبلو اور اس کا کردار یاد آتا ہے، تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کہ ُاس زمانے میں سارا سارا دن دھوپ میں آئوٹ ڈور گیمز کی وجہ سے میرا رنگ کافی سیاہ ہوگیا تھا، مگر نہ جانے کیا سوچ کر مس ناہید قریشی نے مجھے حُور کا کردار دے دیا۔ 

شاید میں اُن سے بے پناہ محبت کرتی تھی، اسی وجہ سے میرا وجود انہیں حُور لگتا تھا، یا پھر اللہ تعالیٰ نے میری بے پناہ محبت اُن پر آشکار کردی تھی۔ کچھ عرصے بعد مس ناہید قریشی کی چھوٹی بہن، مس زاہدہ قریشی نے بھی ہمارا اسکول جوائن کرلیا۔ وہ بھی اپنی بہن کی طرح انتہائی شفیق اور مہربان تھیں۔ اب ہمارے اسکول میں پیار و محبت سے پڑھانے والی دو ٹیچرز ہوگئی تھیں۔ بہرحال، خلوصِ دل سے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری تھا کہ میرے والد کا ٹرانسفر دوسرے شہر ہوگیا، جس کے باعث اسکول چُھوٹ گیا اور میں پیار و محبت کی علامت اِن دونوں ٹیچرز کی محبت سے محروم ہوگئی۔

جب میں فرسٹ ایئر میں گئی، تو ایک روز اچانک یہ افسوس ناک خبر ملی کہ مس ناہید قریشی سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوکر اللہ کو پیاری ہوگئیں، اگرچہ ان سے بچھڑے کافی برس بیت چکے تھے، مگر یہ اندوہ ناک خبر سن کر یوں محسوس ہوا جیسے میرا کوئی سگا اس دنیا سے چلا گیا ہو۔ 

اب تو اُن کی وفات کو بھی کئی برس بیت گئے ہیں، لیکن آج بھی وہ میری یادوں میں زندہ ہیں۔ اللہ ربّ العزّت مس ناہید کو جنّت الفردوس میں خاص مقام عطا فرمائے، اور اُن کی چھوٹی بہن مس زاہدہ قریشی کو ہمیشہ خوش، شاد و آباد رکھے۔ (آمین) (فوزیہ گل حسن قریشی، نواب شاہ)