• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب ترمیمی آرڈیننس، ملزمان کی LNG ریفرنس خارج کرنیکی استدعا، نیب کی مخالفت


ایل این جی ریفرنس کے ملزمان نے نیب ترمیمی آرڈیننس کی بنیاد پر ریفرنس خارج کرنے کی استدعا کردی، جبکہ نیب نے ریفرنس ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، نیب پراسیکیوٹر سمیت وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ۔

احتساب عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو حاضری لگا کر عدالت سے جانے کی اجازت دیدی، جبکہ ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت میں نیب ترمیمی آرڈیننس پیش کیا گیا، جج احتساب عدالت کو بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کی کاپی دی گئی۔

وکیل شریک ملزم نے کہا کہ نیب کا نیا آرڈیننس آیا ہے، ہمیں جائزہ لینے کا وقت دیا جائے، ایڈووکیٹ قاسم عباسی نے کہا کہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت بریت درخواست دائر کریں گے، نیب آرڈیننس کے سیکشن بی کے مطابق کیس نہیں بنتا۔

بیرسٹر ظفراللّٰہ نے کہا کہ آرڈیننس کے بعد نیب اور احتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم کردیا گیا ہے، نیب ترمیمی آرڈیننس میں نان پبلک ہولڈر کو بھی نکال دیا گیا ہے۔

وکیل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ٹیکس کا مسئلہ ہے تو ٹیکس ٹریبونل میں کیس چلا جائے گا۔

عدالت میں نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا نے ملزمان کے وکلاء کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے نیب ریفرنس ختم کرنے کی مخالفت کر دی اور کہا کہ کابینہ فیصلوں کو جو نیب سے استثنیٰ دیا گیا وہ 6 اکتوبر کے بعد ہوگا۔

اس موقع پر احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید