• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

نیب آرڈیننس: مشیر احتساب کو دور رکھا گیا؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ’’نیب آرڈی ننس‘‘ کی تیاری کے دوران پیش آنے والے مختلف مرحلوں کے حوالے سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں مسودہ مرتب کرنے والے ’’حکومتی ٹرائیکا‘‘ نے قابل عمل ترجیحات کو شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ’’مشیر احتساب‘‘ کو دانستہ طور پر تمام مراحل سے دور رکھا گیا ہے اور ’’پراسکیوٹر جنرل‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی ’’مشاورت‘‘ کے طریقۂ کار کو بھی ایک نئے زاویے سے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا سارا ’’گریڈٹ‘‘ کراچی سے تعلق رکھنے والے ’’جدہ کے قانونی جادوگر‘‘ کو جاتا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کاروبار حکومت کو چلانے کے سلسلہ میں ’’بیورو کریسی‘‘ کے خوف کو دور کرنے کا ’’فارمولہ‘‘ بھی دے دیا گیا ہے؟۔

سابق مشیر کی دوبارہ انٹری ؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں حکومت کی ایک سابق مشیر کی ’’دوبارہ انٹری‘‘ کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی مذکورہ خاتون کو کئی وفاقی وزراء ’’حکومتی ترجمان‘‘ کے عہدہ پر دوبارہ لانے کے خواہاں ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب سے ان کی ’’فراغت‘‘ دو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی سخت ناراضگی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ایک اہم وفاقی وزیر کی ’’مخالفت‘‘ ان کے دوبارہ عہدہ حاصل کرنے کی راہ ’’تاخیر‘‘ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’بنی گالہ‘‘ کی آشیر باد سے وہ دوبارہ عہدہ حاصل کرنے کے معاملہ میں ’’خاصی پرامید‘‘ دکھائی دے رہی ہیں؟۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید