• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بلوچستان میں سیاسی بحران: وزیر اعلیٰ جام کمال ڈٹ گئے

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 14 ستمبر کو جمع کرائی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد سے بلوچستان میں سیاسی بحران بدستور جاری ہے ، ایک جانب وزیراعلیٰ جام کمال خان کسی بھی دباو میں آکر مستعفی ہونے کے کسی بھی امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ڈٹ گئے ہیں تو دوسری جانب ان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان بھی اپنے موقف پر سختی سے نہ صرف قائم ہیں بلکہ ہفتہ رفتہ کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی کے دو ناراض صوبائی وزرا میر ظہور احمد بلیدی ، سردار عبدالرحمٰن کھیتران اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے میر اسد بلوچ ، دو مشیروں حاجی محمد خان لہڑی ، اکبر آسکانی ، چار پارلیمانی سیکرٹریز بشریٰ رند ، مہ جبین شیران ، لالہ رشید بلوچ اور میر سکندر عمرانی نے گورنر بلوچستان کو اپنے استعفے پیش کیے تھے۔ 

گورنر بلوچستان نے تین صوبائی وزراء ظہور بلیدی ، سردار عبدالرحمٰن کھیتران ، میر اسد اللہ بلوچ کے استعفے تو منظور کرلئے جبکہ مشیروں اور پارلیمانی سیکرٹریز کے استعفے جنہیں منظور کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں تھا وہ وزیراعلی کو بھجوا دئیے ہیں جن پر تاحال وزیراعلیٰ نے کوئی ایکشن نہیں لیا تاہم اس دوران بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی ، جمعیت علما اسلام اور پشتونخوامیپ پرمشتمل متحدہ اپوزیشن نے گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر طلب کرکے وزیراعلیٰ جام کمال خان کو اعتماد کا ووٹ لینے کا پابند کیا جائے۔ 

اپوزیشن رہنماوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں موقف اختیار کیا کہ چونکہ وزیراعلیٰ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں 26 اتحادی ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ 65 رکنی بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے پاس نصف ارکان یعنی 33 ارکان کی سادہ اکثریت ہونی چاہیے جو اس وقت جام کمال خان کے پاس نہیں لہذا انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا پابند کیا جائے۔ 

ایسا ہی مطالبہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان نے بھی گورنر بلوچستان سے کیا ہے ، ایک جانب بلوچستان حکومت کے حوالے سے سیاسی بحران جاری ہے تو دوسری جانب وزیراعلیٰ جام کمال خان کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت چھوڑنے کے بعد پارٹی کی قیادت بھی اس وقت وزیراعلیٰ جام کمال خان سے ناراض نظر آتی ہے۔ 

بلوچستان عوامی پارٹی کے عہدئے داروں کی مدت کافی عرصے سے پوری ہوچکی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پارٹی قیادت کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی ہدایت کی جاچکی ہے تاہم انٹرا پارٹی انتخابات کے لئے بار بار مہلت لی جاچکی ہے گزشتہ دنوں جام کمال خان کے پارٹی کی صدارت سےمستعفی ہونے کے بعد پارٹی کے مرکزی چیف آرگنائزر سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں جلد پارٹی کے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے ، پارٹی کے ناراض پارلیمانی ارکان جام کمال خان کو پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے عہدئے سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں اس تمام تر صورتحال میں وزیراعلیٰ جام کمال خان اپنے بیانات اور باڈی لینگوئج سے خاصے پر اعتماد نظر آتے ہیں۔ 

جبکہ ان کے ساتھیوں سمیت قریبی اتحادی ساتھی بھی بحران پر جلد قابو پانے کے حوالے پراعتماد نظر آتے ہیں ، یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ بلوچستان کی مخلوط صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ماسوائے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے باقی اتحادی جماعتیں اب تک وزیراعلیٰ جام کمال خان کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں ،گزشتہ دنوںکوئٹہ میں سنیئر صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات میں وزیراعلیٰ جام کمال خان پر اعتماد نظر آئے اس دوران انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ وہ کسی دباؤ میں آکرمستعفی نہیں ہوں گے ، ان کا واضح موقف تھا کہ چند لوگوں کی خواہش پر تبدیلی سے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا جس کا بلوچستان متحمل نہیں ہوسکتا۔ 

اتحادی ان کے ساتھ ہیں تمام آپشنز استعمال کرتے ہوئے معاملات کو بہتر بنائیں گے ، سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور نہ ہی سیاست میں بات چیت کا راستہ بند کیا جاتا ہے ، پارٹی صدارت اور دیگر معاملات مشاورت اور گفت و شنید سے حل کرنا چاہتے ہیں ، ہمارے تین سالہ دور اقتدار کی پی ایس ڈی پی اور ماضی کی حکومتوں کی پی ایس ڈی پی کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ہم نے اپوزیشن کو کتنے فنڈز دیئے ہیں اور سابق دور میں اپوزشین کو کتنے فنڈز ملے تھے ، اس دوران انہوں نے اپنی جماعت کے ناراض ارکان کو کھل کر پیش کش کی کہ ناراض دوست وزارتوں سے مستعفی ہونے کے بعد واپس آسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے جو وعدے کئے تھے وہ پورے کیے ۔

یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا قیام گزشتہ انتخابات سے قبل باضابطہ طور پر اس نعرئے کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ اب بلوچستان کے حوالے سے تمام فیصلے بلوچستان میں ہوں گے ، پارٹی کے قیام کے موقع پر پارٹی رہنماوں کے اس حوالے سے تحفظات تھے کہ بلوچستان کے فیصلے اسلام آباد ، لاہور سمیت کہیں اور ہوتے ہیں اور اس ہی نعرئے کے تحت قائم ہونے والی جماعت میں شامل ہونے والے رہنماوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تھا اور موجودہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اپنی ہی جماعت کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ خان زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے اور نواب ثنا اللہ خان زہری کے عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے سے عہدئے سے مستعفی ہونے کی صورت میں کامیابی حاصل کرچکے تھے۔ 

تاہم اس بار وزیراعلیٰ جام کمال خان ڈٹ گئے ہیں اور اپنے عہدئے سے مستعفی ہونے کے ہر قسم کے امکانات کو جس طرح مسترد کرچکے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بحران کے آخر تک جانے کے لئے تیار ہیں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید