• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

س: سب سے پہلے ہمارے قارئین کو اپنی تعلیم اور خاندان کے بارے میں بتائیں؟

ج: میرا تعلق کراچی کے شہر لیاری سے ہے ،میں نے بی کام کیا ہے ۔ آگے مزید تعلیم نہیں کرسکی۔ میرا تعلق ایک قدامت پسند سوچ رکھنے والے خاندان سے ہے ۔ جہاں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ہی انہیں کسی قسم کی آزادی دینا بھی بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی میڑک یا انٹر کرلے تو والدین چاہتے ہیں کہ اب جلد ازجلد اس کی شادی کردی جائے ۔اگر کوئی لڑکی بہت ضد کرکے گریجویشن کرلے تو اس کو بڑی عمر کا تصور کیا جاتا ہے ۔

 باکسنگ کا شعبہ اپنا کر’’ نیشنل چیمپئن شپ‘‘ میں گولڈ میڈل اپنے نام کرنے والی پُر عزم، رضیہ بانو سے گفتگو 

یونیورسٹی جانے کا تو سوچنے کی بھی اجازت نہیں ہے ،یہ سمجھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی جاکر لڑکی بہت آزاد خیال ہوجائے گی ۔لیکن اس معاملے میں میری امی نے میرا بہت ساتھ دیا ۔جب میں 16 سال کی تھی تو ابوکا انتقال ہو گیا ۔ان کا موتیوں کا کاروبار تھا ،جس کو بعد میں میرے بڑے بھائی نے سنبھالا،مگر آہستہ آہستہ کاروبار ڈبوتا چلا گیا بالآخر بند ہی ہو گیا۔ اس وقت گھر کے مالی حالات کافی خراب ہوگئے تھے ۔بعض اوقات کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا تھا ،جب کہ ابو کی زندگی میں ہمیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ، بہت عیش و عشرت کی زندگی گزاری ۔ہم بہن ،بھائی جو بھی فرمائش کرتے تھے ،ابو لازمی پوری کرتے تھے ۔

مالی پریشان کیا ہوتی ہے، یہ تو معلوم ہی نہیں تھا ۔مہنگائی کس بلا کا نام ہے یہ تو ہم جانتے تک نہیں تھے ۔مہنگا ،سستا ہوتا کیا ہے، اس کا پتا ہی نہیں تھا۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کسی بھی چیز کو حاصل کرنا میرے لیے کوئی مشکل نہیں ہے ۔لیکن ابوکے انتقال کے بعد گھر کی کایا ہی پلٹ گئی ،آرام دہ زندگی کاتصور کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔

بڑا بھائی امی سے ہر وقت کہتا تھا کہ کام نہیں چل رہاہے ،حالاں کہ ایسا نہیں تھا کاروبار اس کی اپنی غفلت کی وجہ سے ڈوب رہا تھا ،خیرابو کے انتقال کے چار سال بعد کاروبار مکمل طور پر بند ہوگیا۔ تو امی نے حالات کو دیکھتے ہوئے رسی لپیٹنے کا کام شروع کردیا ،میں ان کی اس میں مدد کرتی تھی۔ 

میرا دل چاہتا تھا کہ حالات بہتر کرنے کے لیے کچھ کروں۔لیکن میرے بھائیوں کی سوچ بھی خاندان کے دیگر مردوں کی طر ح ہی تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اعلٰی تعلیم حاصل کروں یا کوئی کام کروں ،شاید ان کو بھی یہ ڈر تھا کہ اگر میں کچھ بن جائوں گی تو مجھے سے شادی کون کرے گا ۔ یہ ان کی ایک الگ ہی فکر تھی میرے حوالے سے ۔لیکن میں ہمیشہ ان سےا یک بات کہتی تھی کہ میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھ پر ترس کھا کر مجھ سے شادی کرے ۔

آپ یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے غم ، پریشانی اور تکلیف میں کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے گا ۔جب ہم محنت کریں گے ،آگے بڑھیں گے ،ترقی کریں گے تو جو آج ہمارے مخالف ہیں وہ کل نہ صرف ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے ،بلکہ ہماری مثال دیں گے۔ یہ بھی بتانا چاہو ں گی کہ ابو کے انتقال کے بعدچچا ئوں نےصرف اس ڈر سے ہم سے ملنا چھوڑ دیا تھا کہ کہیں ان کو ہمارا خرچانہ اُٹھانا پڑجائے ۔وہ وقت ہمارے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں ہر وقت یہی سوچتی رہتی تھی کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟

ایک دن میں نے قر آن میں پڑھا کہ،’’ جب کبھی بھی مشکل میں پڑ جائوں تو صبر اور نماز سے کام لو‘‘یہ پڑھنے کے بعد میرے اندر ایک عجیب سا سکون آگیا،پھر میں نے سوچ لیا تھا کہ اب میں خوب محنت کرکے اپنے آپ کو مالی طور پر مستحکم کروں گی ۔ میں نے نوکری تلاش کرنی شروع کردی ،بہت جدوجہد کے بعد بھی کہیں نوکری نہیں ملی ۔اسی دوران بی کام کے داخلے شروع ہورہے تھے میں نے امی سے کہاکہ مجھے بی کام میں داخلہ لینا ہے ۔امی کو یہ فکر تھی کہ ہم فیس کہاں سے دیں گے ۔

میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور داخلے کے لیے کوچنگ چلی گئی ،جب گھر واپس آئی تو پڑوس سے دو بچے ٹیوشن پڑھنے کے لیے آئے۔امی اور میں بہت خوش ہوئے کہ اب مجھے فیس دینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔لیکن ایک ہفتے بعد ہمارے گھر میں آگ لگ گئی ،جس کی زد میں آکر امی بہت بری طر ح جل گئی تھیں، جو فیس کے پیسے آئےتھے وہ امی کے علاج میں خرچ ہوگئے، اسی طر ح ایک سال گزر گیا ۔

امی کافی بہتر ہو گئ تھیں لیکن ٹیویشن ختم ہوگئی ۔ایک دفعہ پھر نوکری کی تلاش میں نکلی ۔ لیکن لاکھ کوشش کے باوجود نوکری نہیں مل رہی تھی ،بہت دھکےکھانے کے بعد ایک اسکول میں ملازمت مل گئی ،تو میں نے دوبارہ تعلیمی سلسلہ بھی شروع کردیا اور باکسنگ کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا ۔

باکسر رضیہ بانو ایک مقابلے کے دوران
باکسر رضیہ بانو ایک مقابلے کے دوران

س: باکسنگ کے شعبے میں آنے کاخیال کیسے آیا ؟

ج : 2016 ءمیں جب باکسر محمد علی کا انتقال ہواتوٹی وی چینلز پر پاکستانی باکسرز اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے ۔اس میں کچھ لڑکیاں باکسرز بھی تھیں ۔ ان کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ ایسے شعبے میں ہیں ،جس پر مردوں کا قبضہ سمجھا جاتا تھا ۔پھر میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی باکسنگ شروع کردوں ،تا کہ میرا ذہن بٹے اور اس ’’کیوں‘‘ سے باہر آسکوں کہ ہمارا ساتھ لوگوں نے ،رشتے داروں نے ایسا کیوں کیا؟ 

ہر وقت دماغ میں ایسے ہی سوالات چلتے رہتے تھے ۔میری طبیعت میں چڑ چڑاپن آگیا تھا،ہر بات پر غصہ کرتی تھی۔ مجھے خود سمجھ نہیں آتا تھا کہ مجھے کیا ہو رہا ہے،میں ایسا کیوں کررہی ہوں ۔ سو ایک دن بھڑاس کو نکالنے کے لیے میں نے باکسنگ کی دنیا میں قدم رکھنےکا سوچا ،پھر میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے کہا اگر کر سکتی توضرور کرو ں ،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ میرے علاقے میں ایک باکسنگ کلب ہے ،اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے گئی ۔اُس وقت وہاں کوچ بھی تھا۔ میں نے اُن سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ اگر میں باکسنگ کروں گی تو مجھےنوکری مل جائے گی ۔

انہوں نے کہا آسانی سے مل جائے گی ،اس میں بہت چانس ہیں ،یہی وہ لمحہ تھا جب میرے اندر اُمید کی ایک کرن جاگی تھی ۔میں نے کلب جوائن کیا خوب محنت کی ،جوش و جذبے سے ٹریننگ کی۔ میرے انگلش کے ایک استاد تھے، سر سید شاہد خان ،انہیں جب پتا چلا کہ میں باکسر بنناچاہتی ہوں ۔اور ٹریننگ لے رہی ہوں تو انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی ۔

وہ ہمیشہ مجھے سے کہتے تھے، کبھی بھی ہمت نہیں ہارنا ،محنت سے جی نہیں چرانا ،کیوں کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اوراپنے آپ کو کبھی بھی کسی سے کمتر نہیں سمجھنا ۔میں نے ان کی یہ باتیں ذہن نشین کر لیں،ج ب بھی میں اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتی تو سر کی باتوں کو یاد کرکے اپنے اندر ہمت پیدا کرتی۔ ان کی باتوں نے مجھے بہت زیادہ مضبوط بنا دیا۔اسی لیے آج میں نہ محنت کرنے سے گھبراتی ہوں ،نہ ہارنے سے ڈرتی ہوں اور نہ کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنے کاخوف ہے۔

ہر طر ح کے حالا ت کا سامنا پوری بہادری سے کرتی ہوں۔آج باکسنگ میں کام یاب ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ بچپن میں اسپورٹس میں بہت دل چسپی تھی ، کھیلتی بھی تھی ،اُس وقت کرکٹ میں آنے کا سوچتی تھی لیکن باکسنگ میں آنے کا کبھی نہیں سوچاتھا ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجھے اس فیلڈمیں آنے کے لیےفیس کی فکر نہیں تھی ،کیوں کہ لڑکیوں کو ٹریننگ مفت دی جاتی ہے ۔

س: اس کی باقاعدہ تربیت کہاں سے حاصل کی ؟

ج: شروعات تو علاقے کے باکسنگ کلب سے کی تھی لیکن بعد میں کچھ اختلافات کی وجہ سے مجھے کلب سے نکال دیا گیا ۔ اُس وقت بہت زیادہ پریشان ہوگئی تھی ،کیوں کہ میری ایک اُمید بن گئی تھی کہ میں باکسنگ کی بدولت اپنے گھر کے حالات بہتر کرسکتی ہوں۔ خیرایک ہفتے بعد میں نے پولو گراؤنڈ میں پرٹیکس شروع کی ۔لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں ۔تھوڑا وقت گزرنے کے بعد مجھے کسی نے بتا یا کہ ککری گراؤنڈ میں ایک کوچ ہیں جو بہت اچھی باکسنگ سکھاتے ہیں۔

میں وہاں گئی۔ کوچ سے ملاقات کی اور باکسنگ کی ٹریننگ لینے لگی ۔اس کے بعد جو پہلی لڑائی لڑی وہ میں جیت گئی۔ دوسرے مقابلے میں میرے ساتھ پرانے کلب کی لڑکیاں تھیں ،میری امی ،بھائی اور کوچ کے علاوہ پورا اسٹیڈیم چاہتا تھا کہ میں یہ مقابلہ ہار جاؤں ۔اُس وقت مجھے پر بہت زیادہ پریشر تھا۔ میرےذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔اور یہ مقابلہ ہار گئی۔ اُس وقت میں بہت افسردہ ہوئی ،وہ لمحہ میرے لیے بہت دل تکلیف دہ تھا۔لیکن اس ہار نے میرے اندر ایک جوش وجذبہ پیدا کردیا۔ 

باکسنگ کے جنون میں مزید اضافہ ہو گیا۔بعد ازاں دسمبر 2017ء میں رینجرز نے ایک ٹورنامنٹ کروایا ،میں نےا س میں حصہ لیا ۔اس کے دو رائونڈ میں جیت گئی ۔تیسرا راؤنڈ اُس لڑکی کے ساتھ کھیلنا تھا ،جس سے میں پہلی دفعہ ہاری تھی ،پوری ہمت اور بہادری کے ساتھ اس مقابلے میں حصّہ لیا اور میں جیت گئی ۔اس ٹورنامنٹ میں سند ھ باکسنگ ایسویشن کے سیکرٹری بھی موجود تھے ۔انہیں میرا کھیل بہت پسند آیا ۔یہاں یہ بات بتادوں کہ یہ ٹورنامنٹ ’’نیشنل چیمپئن شپ ‘‘ کے لیے اہم تھا ۔

سیکرٹری صاحب نے میرا مقابلہ دیکھ کر مجھے نیشنل چیمپئن شپ کے لیے منتخب کیا ،جب کہ وہ لڑکی جو مجھے سے ہاری تھی اس کا نام پہلے سے نیشنل چیمپئن شب کے لیے منتخب کیا جا چکا تھا ۔اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں کے درمیان ایک مقابلہ کروایا جائے جو جیت گیا وہ نیشنل چیمپئن شپ کھیلنے کی حق دار ہو گی ۔ 

اس مقابلے میں بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جیت گئی۔ میں خود بھی حیران تھی یہ میں نے کیسے کیا ۔ وہ مجھے سے اتنی بر ی طر ح ہاری تھی کہ اس نے میرے ساتھ کھیلنے سے خود منع کردیا، جس دن نیشنل چیمپئن شب کے لیے جانا تھا ،اْسی دن میرا بی کام کا امتحان بھی تھا۔ پہلے تو اس کشمکش میں رہی کہ کیا کروں کیسے جاؤں ۔

پہلی دفعہ لڑکیوں کا باکسنگ کا مقابلہ قومی سطح پر ہورہا تھا ،میں اس موقعے کو گنوانا نہیں چاہتی تھی ،وجہ یہ بھی تھی کہ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا کہ باکسنگ کے مختلف ادارے کھیلنے کے لیے منتخب کرلیتے ہیں ،جس کی ماہانہ تنخواہ بھی ملتی ہے ۔بہت سوچ بچار کےبعد میں نےٹیم کوچ کو درخواست دی کہ مجھے امتحان دینے کے بعد مقابلے میں شرکت کی اجازت دےدی جائے ۔ 

اجازت مل گئی اور امتحان دینے کے بعد لاہورچلی گئی۔ مقابلے کے پہلے دو راؤنڈ میں ناک آؤٹ سے جیتی لیکن تیسرے میں پوائنٹ سے جیت کر ’’نیشنل چیمپئن شب ‘‘ کی ٹرافی اپنے نام کرلی۔

س: باکسنگ کو خالصتاً مردوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے ۔جب آپ نے اس شعبے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو خاندان والوں کا ردعمل کیا تھا ؟

ج: خاندان تو بعد میں آتا ہے،گھر میں ہی تینوں بھائیوں نے مخالفت کی ۔وہ کسی صورت راضی نہیں تھے کہ میں باکسنگ کروں لیکن امی نے اُن کی ایک نہ سنی مجھے ہر طر ح سے سپورٹ کیا، اسی لیے میں ہر مخالفت کا سامنا بہادری سے کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہی۔ اب تو بھائی خوب حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔

س: کسی لڑکی کا اس شعبے میں آنا بہت چیلنجنگ ہوتا ہے ؟آپ کو کس حد تک چیلجنز کا سامنا کرنا پڑا ؟

ج: بالکل ایک لڑکی کے لیےاس طر ح کے پروفیشن میں آنا بہت چیلنجنگ ہوتا ہے ۔مجھے مختلف قسم کے چیلنجز کاسامنا ماضی میں بھی کرنا پڑا تھا اور ابھی بھی کررہی ہوں ۔پہلے تو خواتین اس شعبے میں زیادہ نہیں تھیں ،مگر اب آرہی ہیں۔

س: اس شعبے میں آئے ہوئے کتنا وقت ہوگیا ہے اوراب تک کتنے مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں ؟

ج: اس شعبے میں آئے ہوئے تقریباً پانچ سال ہو گئے ہیں ۔اب تک دو بین الاقوامی اور تین قومی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہوں ،جن میں نیشنل چیمپئن شپ، انٹر پرتگال گیمز، ایشن گیمز اور ساؤتھ ایشن گیمز شامل ہیں ۔

س: سُنا ہے آپ پاکستان کی پہلی خاتون باکسر ہیں ، نیشنل گولڈ میڈل بھی جیتا ہے ،اس بارے میں کچھ بتائیں ؟

ج: جی ،میں پاکستان کی پہلی خاتون باکسر اور نیشنل گولڈ میڈل یافتہ ہوں۔مجھےفخر ہے کہ یہ میڈل جیت کر میں نے پاکستان کا نام روشن کیا ۔یہاں یہ بھی بتانا چاہوں گی کہ اب میں باکسنگ کی ٹریننگ بھی دیتی ہوں۔ ککری گراؤنڈ میں ایک کلب ہے ،جہاں لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کو بھی ٹریننگ دیتی ہوں۔

س: عام زندگی میں آپ کو دیکھ کر لوگ ڈرتے ہیں ؟

ج: ڈرتے تو نہیں ،البتہ بات کرنے سے پہلے سوچتے ضرور ہیں،کیوں کہ ان کو بہت اچھے سے پتا ہے کہ میں کوئی غلط بات برداشت نہیں کرتی ۔

س: اس کے علاوہ اور مصروفیات کیا ہیں؟

ج: صبح سات سے دو بجے تک ایک جم میں ملازمت کرتی ہوں ،دوپہر میں ٹریننگ پر جاتی ہوں ،اس کےبعد ہوم ٹریننگ دینے جاتی ہوں۔ یہ ان خواتین کو دیتی ہوں جو جم نہیں جاپاتیں۔

س: اس شعبے میں خواتین کے آگے بڑھنے کے امکان ہیں؟کیا آپ سمجھتی ہیں کہ خواتین کو اس شعبے میں آنا چاہیے ؟

ج: امکان تو بہت ہی کم ہیں ،اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں نوکری ملنے کے مواقعے بھی کم ہیں اور خواری بھی زیادہ ہے ۔ میں نہیں سمجھتی کہ اپنا مستقبل بنانے کے لیے ابھی اس میدان میں خواتین کو آنا چاہیے۔ مستقبل میں اگر حالات بہتر ہوئے تو ضرور آئیں ۔

س: اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے کیا کرتی ہیں ؟کیا پہلوانی کی طرح اس میں بھی کھانے پینے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ؟

ج: رات کو جلدی سوتی اور صبح جلدی اُٹھتی ہوں ۔زیادہ مرچوں والی چیزیں نہیں کھاتی ۔باہر کے کھانے بہت ہی کم کھاتی ہوں۔ فٹ رہنے کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ میں زیادہ تر گھر کا کھا نا کھاتی ہوں۔

س:خواتین کے لیے کتنے باکسنگ سینٹرز ہیں ؟خواتین انسٹر کٹرز ہیں یا مرد ٹریننگ دیتے ہیں ؟

ج: ایک دو سے زیادہ نہیں ہیں ۔لیکن مرد انسٹرکٹرز ہیں ابھی تک کوئی خاتون انسٹر کٹر نہیں ہیں ۔

س: مقابلے یا پریکٹس کے دوران کوئی دل چسپ ،خوش گوار یا ناخوش گوار واقعہ پیش آیا ؟

ج: میرے سارے مقابلے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں کسی ایک کے بارے میں بتانا مشکل ہے ۔

س: مستقبل میں کیا ارادہ ہے ؟

ج: میرا تو بہت دل چاہتا ہے کہ میں کامن ویلتھ گیمز ،اولمپکز اورورلڈ چیمپئن شپ مقابلوں میں حصہ لوں ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا ساتھ ہی نہیں دیا جاتا، گورنمنٹ تو بالکل بھی سپورٹ نہیں کرتی ۔ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ اپنے بل بوتے پر کرتے آئے ہیں اور مستقبل میں بھی خود ہی کریں گے۔ گورنمنٹ سے تو کوئی اُمید نہیں ہے۔