• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک ایک گھر کی مانند ہوتا ہے، جس طرح گھر کے سربراہ اپنے گھر کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر مستقبل کے فیصلے کرتا ہے، اسی طرح ملک کے ادارے بھی ملک کو درپیش مسائل، وسائل اور مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ ان پر عمل درآمد ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے ،جس پر توجہ دینے اور اس کو بہتر بنانے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔خصوصاََ صنعتوں کی ضرورت پر۔ پاکستان میں اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ایسا  کوئی ادارہ نہیں جو اس مسئلے کو حل کرنے میں کوشاں ہو۔

اہم معلومات کی عدم فراہمی اور خاص کر ان کی عام فہم انداز میں لوگوں تک عدم رسائی کی وجہ سے نہ تو صنعت کاروں کو اس بات کی پروا ہے کہ یونیورسٹیاں کیسے گریجویٹس پیدا کر رہی ہیں اور نہ ہی یونیورسٹیوں کو علم ہوتاہے کہ صنعتوں کی ضروریات کیا ہیں نتیجتاً وہ نوجوان جو اپنی اعلیٰ تعلیم کا سفر کسی یونیورسٹی میں شروع کرتے ہیں، وہ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کا مستقبل گریجویشن کے بعد کیا ہوگا ؟ بعض شعبہ جات میں نوجوان گریجویٹس کی بہتات ہے اور بعض میں انتہائی کم ۔

کسی بھی یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم یا طالبہ سے ان کی خواہش کے بارے میں پوچھا جائے کہ وہ اس فیلڈ میں کیوں گریجویشن کر رہے ہیں تو اکثر ان کا جواب ہوتا ہے کہ، دوستوں نے مشورہ دیا تھا یا والدین کی خواہش تھی یا کسی عزیز یا پڑوسی کی ترقی سے مرعوب ہو کر یہ فیلڈ اپنائی وغیرہ وغیرہ۔ صنعتکار یا ان کے نمائندگان کہتے ہیں کہ ، ہمیں گریجویٹس کو کام سکھانا پڑتا ہے۔ تجربہ کار ملازمین کسی گریجویٹ سے بہت بہتر ہوتے ہیں۔ گریجویٹس کو صرف کتابی باتیں آتی ہیں۔ اس طرح کی باتیں سن اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے قیمتی قومی سرمائے ’’ نوجوانوں‘‘ کو ایک بہتر مستقبل دینے میں ناکام ہیں۔

اگر وزارت اُمور تمام اعداد و شمار مختلف اداروں سے لےکر عام فہم انداز میں نوجوانوں کی رہنمائی کریں کہ آئندہ 5 سے 10سالوں میں پاکستان میں کن شعبہ جات میں ملازمتیں بڑھنے اور گھٹنے کا امکان ہے۔ مثلاً حالیہ ترقی کو دیکھتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متعلق شعبہ جات میں ملازمتوں میں اضافہ ہوگا، ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کن کن برانچوں میں ترقی کے امکان روشن ہیں، اس کے لئے کس طرح کی تعلیم اور تجربہ کی ضرورت درکار ہے تو بہتری کے امکان ہوں گے۔ حکومت نے کامیاب جوان پروگرام شروع کیا ہے۔ اس تک نوجوانوں کی پہنچ ہو تو یہ نوجوان ضرور کامیاب ہو سکتے ہیں۔

صنعتوں کو فروغ اور صنعتکاروں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ سیٹھ کلچر، یونیورسٹی گریجویٹس کو اہمیت نہیں دیتا۔ صنعت کاروں کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے اداروں میں انٹرن شپ کی گنجائش پیدا کریں اور یونیورسٹیوں سے رابطے میں رہیں ،تا کہ صنعتوں میں کام کرنے کے خواہش مند نوجوان صنعتی تجربہ بھی حاصل کر سکیں۔ 

تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے لیکن اس طرف قدم بڑھانا ہی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ دنیا اب نالج اکا نومی (Knowlodge Economy ) کی طرف جا رہی ہے۔ ہماری صنعتیں اگر پرانے اصولوں پر چلیں گی تو ان کا اپنا ہی نقصان ہے۔ نوجوانوں کا ٹیلنٹ استعمال کرنے، بڑھانے اور ان کو مواقع فراہم کرنے میں نہ صرف ان کا بلکہ صنعتوں کا بھی فائدہ ہے۔ یونیورسٹی کو اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔

نوجوانوں کو کالج اور یونی ورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے کائونسلنگ فراہم کرنی چاہیے، تا کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ کرسکیں کہ اُنہیں کرنا کیا ہے، پڑھنا کیا ہے۔ نہ صرف نوجوان بلکہ ان کے والدین جو کہ ان کی تعلیم کے لئے پیسہ اور ماحول فراہم کرتے ہیں، ان کی کاؤنسلنگ بھی اہم ہے، وگرنہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو سماجی دباؤ اورپرانی خواہشات کے مطابق کوئی خاص مضمون پڑھنے پر مجبور کرتے رہیں گے جو ہوسکتا ہےکہ اُن کے بچوں کے لئے فائدہ مند نہ ہو۔ یونیورسٹیوں کو اپنے نصاب میں بھی بھر پور تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ تھیوری اور پریکٹیکل مناسب توازن میں رکھے جائیں، تا کہ نوجوان گریجویشن کرنے کے بعد اپنا ذاتی کاروبار بھی شروع کرسکیں۔

ہمیں یہ بات بھی ماننا ہوگی کہ بہت سے نوجوان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک ملازمت یا کاروبار کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا ضرورت صرف اس امر کی نہیں کہ ہمارے اداے اور یونیورسٹیاں ملکی ضروریات کو پیش نظر رکھیں بلکہ دنیا کی ضروریات کی طرف بھی متوجہ ہوں۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے ،جن کے پاس نوجوان اثاثہ ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی ہوگی اور ان کے مستقبل کے لئے بہترین اقدامات کرنے ہوں گے، ان کی ترقی ہی میں ملک و قوم کی ترقی ہے۔