• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی، گھی مہنگے، گوشت، ٹماٹر، چاول، چائے، صابن مصالحے کی ہفتہ وار قیمتیں بڑھ گئیں، آٹا، چینی، مرغی، پیاز، دالیں، انڈے سستے

بجلی، گھی مہنگے، گوشت، ٹماٹر، چاول، چائے، صابن مصالحے کی ہفتہ وار قیمتیں بڑھ گئیں


کراچی، اسلام آباد،لاہور ( جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)بجلی، گھی مہنگے، گوشت، ٹماٹر، چاول، چائے، صابن، مصالحے کی ہفتہ وار قیمتیں بڑھ گئیں، آٹا، چینی، مرغی، پیاز، دالیں، انڈے سستے، بجلی کی قیمت میں 1.39روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹور پر خوردنی تیل 15، گھی 18 روپے مہنگا۔

ادارہ شماریات کاکہناہےکہ مہنگائی کی شرح 12.66 ہوگئی، ادھر حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، فرخ حبیب کے ہمراہ حماد اظہر کاکہناہےکہ ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر پابندی لگا رہے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنمائوں نے قیمتیں بڑھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان نے IMF کیلئے معیشت کو قربان کردیا،شہباز شریف کاکہناہےکہ مہنگائی منی بجٹ،حکومت چلے گی تو غریب کی روٹی، روزگار اور کاروبار نہیں چلے گا،شیری رحمان کاکہناہےکہ عوام پر اربوں کا بوجھ ڈالا جارہا۔

تفصیلات کےمطابق ادارہ شماریات پاکستان نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق 14 اکتوبر کو اختتام پذیر ہونے والے ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح12.66فیصد جبکہ گزشتہ ہفتہ کے مقابلے میں یہ شرح 0.02فیصد بڑھ گئی ، ملک کے 17 بڑے شہروں سے 51 اشیاء کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیاگیا جس میں سے 22 اشیاء کی قیمتوں میں مزیداضافہ 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

اس ہفتےکے دوران ملک میں بڑا گوشت، چھوٹا گوشت، ٹماٹر، صابن، ویجیٹیبل گھی، گھی (کھلا) کوکنگ آئل، آلو، لہسن، سرسوں کا تیل، چاول اری 9 /6، جارجٹ، شرٹنگ، کلاتھ، جلانے والی لکڑی، چاول باسمتی، ایل پی جی سلنڈر، واشنگ سوپ، چائے کی پتی، بیف پلیٹ، دال پلیٹ، گڑاور مصالحہ جات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ چینی، آٹا، برائیلر مرغی، پیاز، کیلا، دال چنا، دال مسور، دال ماش، دال مونگ اور فارمی انڈے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ڈبل روٹی، تازہ دودھ، دہی، سرخ مرچ پسی، سگریٹ، پٹرول سپر، ہائی اسپیڈ ڈیزل، ماچس، خشک دودھ، نمک، گندم، مٹی کا تیل ،سینڈل، چپل، لان، مردانہ و زنانہ سینڈلز، گیس چارجز، الیکٹرک جارجز، لوکل کال کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز پرمختلف برانڈز کا گھی 15 سے 49 روپے فی کلو ،کوکنگ آئل کی قیمت میں 14 سے110 روپے فی لیٹر اضافہ ہوگیا،کپڑے دھونے کے 2 کلو پاؤڈرکی قیمت میں بھی 10 سے 21 روپے تک کا اضافہ ، باڈی لوشن کی 100 گرام قیمت 20 روپے تک بڑھ گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جوتے چمکانے والی 42 ملی گرام کریم کی قیمت میں 10 روپے ،کپڑوں کے لیے 500 ملی لیٹر لیکوئڈ بلیچ کی قیمت میں 20 روپے اور ایک لیٹر ٹائلٹ کلینرکی قیمت 41 روپے تک بڑھادی گئی۔

مختلف برانڈز کے شیمپوز کی 180 ملی لیٹر قیمت میں 4 روپے،نہانے کے صابن کی 60 گرام قیمت میں 15 روپے ، ہینڈ واش کی 228ملی لیٹر قیمت میں 9 روپے ،شربت کی 800 ملی لیٹر بوتل کی قیمت میں 40 روپے اضافہ ہوگیا۔

اچارکی 300 گرام قیمت 20 سے 44 روپے تک بڑھا دی گئی ہے ، نوڈلز اور کیڑے مار ادویات ، ڈش واش سمیت متعدد اشیائے ضروریہ بھی مہنگی کردی گئی ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملنے والے ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے اور 10 لیٹر کین میں 1090 روپے کا ہوشربا اضافہ کیا گیا ۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈالڈا گھی کا 10لیٹر کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت میں 475 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت 2885 سے بڑھا کر 3360 روپے مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ترجمان یوٹیلیٹی اسٹور کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا اثریوٹیلٹی اسٹورزپربھی پڑاہے۔

ادھر وفاقی وزیر توانائی محمد حماد اظہر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کہا کہ ہم نے نیپرا کو ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافہ کی سمری ارسال کر دی ہے، ایسے صارفین جن کا بجلی کا استعمال 200 یونٹ سے کم ہو گا، اس اضافہ کا اطلاق ان پر نہیں ہو گا، انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹریل پیکیج پر بھی اس اضافہ کا اطلاق نہیں ہو گا۔

جمعہ کووزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی محمد حماد اظہر نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے غلط فیصلوں کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے، سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور بجلی کے مہنگے معاہدوں کے باعث توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضہ کا بوجھ حکومت اور عوام کو برداشت کر نا پڑ رہا ہے ، بجلی کی قیمت خرید اور صارفین کیلئے قیمت فروخت میں اب بھی ڈیڑھ سے 2 روپے کا فرق ہے۔

یہ فرق سالانہ اربوں روپے میں بنتا ہے جو گردشی قرضوں کی ایک بنیادی وجہ ہے،گردشی قرضہ میں سب سے بڑا حصہ کیپسٹی پیمنٹس کا ہے جو 700 تا 800 ارب روپے تک بڑھ چکے ہیں جبکہ 2013ء میں کیپسٹی پیمنٹس کا حجم 150 ارب روپے تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ 2030ء تک گردشی قرضہ 2500 تا 3 ہزار ارب روپے تک بڑھ جائے گا کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے ملک میں مہنگے اور غیر ضروری پاور پلانٹس لگوائے تھے۔ 

حماد اظہر نے کہا کہ گیس کی قلت کی بڑی وجہ گیس کے مقامی ذخائر کا خاتمہ ہے جس کے نتیجہ میں حکومت گھریلو صارفین کیلئے تمام جاری منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہے، سسٹم میں درآمدی آر ایل این جی شامل کرنے سے سالانہ 25 تا 40 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور گیس کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے نتیجہ میں یہ خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم قیمتوں کے تعین کے طریقہ میں تبدیلی کر رہے ہیں جس کے تحت پائپ لائنز کے قومی نیٹ ورک میں درآمدی گیس شامل کی جائے گی۔ 

قیمتوں کے تعین کے حوالہ سے وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گیس کی قیمتوں کے حوالہ سے قانون میں بھی ترمیم کرنے جا رہی ہے، جب تک قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار طے نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہم نے گھریلو صارفین کو کنکشن دینے کی تمام اسکیمیں روکی ہیں۔ 

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے 2 نئے آر ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر کیلئے لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ گیس کی فراہمی کی استعداد کار کی بڑھوتری کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں تاکہ ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب پر حماد اظہر نے کہا کہ غذائی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اس لئے کھاد تیار کرنے والی فیکٹریوں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر مملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ نواز شریف حکومت نے 45فیصد مہنگے بجلی گھر لگا کر قومی جرم کیا ، اگر انہوں نے اپنی فیکٹریاں لگانی ہوں تو سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں لیکن قومی منصوبوں کے ساتھ ہمیشہ ظلم کیا ،ماضی کی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے 2030تک ٹیک او پے کی مد میں 3ہزار ارب ادا کرنے پڑ رہے ہیں ،شریف خاندان ایسے منصوبوں کے ذریعے عوام کے گلوں پر پھندا لگا کر گیا اور ہم آج اسے بھگت رہے ہیں۔

ترجمان وزیراعظم و معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ہے کہ چھوٹے میاں نے جن غریبوں کو لوٹ کر تجوریاں بھری ہیں انکے نام پر سیاست کر رہے ہیں، مہنگائی اور معاشی تباہی اس قوم کو شریف خاندان کے دئیے ہوئے تحائف ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے بجلی، پٹرول اور ٹیکس میں اضافے کو منی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ حکومت منی بجٹ لائے گی، اب یہ بات سچ ثابت ہوگئی،حکومت نے بجٹ کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا، یہ حکومت چلے گی تو غریب کی روٹی، روزگار اور کاروبار نہیں چلے گا،عمران نیازی آئی ایم ایف کی قربان گاہ پر معیشت اور قوم کو قربان کررہے ہیں، عمران نیازی ظالم ، کرپٹ اور نااہل حکمران ہے۔ 

یہاں پیپلزپارٹی نے بھی بجلی مہنگی کئے جانے کی شدید مذمت کی ،پی پی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری کی مذمت کرتے ہیں، عوام پر اربوں روپے کا بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے، حکومت نے 3 سال میں بجلی کی قیمت میں 40 فیصد سے زائد اضافہ کیا۔

پیپلزپارٹی کی سینئر رہنماء اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے بجلی مہنگی کر نے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہاکہ عوام پر بجلی مہنگی کرکے بجلی بم گرانے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، حکومت فوری طور پر بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ واپس لے۔ 

اہم خبریں سے مزید