• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی( نیوز ڈیسک) عالمی معیشت جیسے جیسے کورونا کے اثرات سے باہر آنے لگی ، 2021 میں ویسے ویسے خام تیل کی عالمی مانگ بڑھتی چلی گئی اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی ایک اور وجہ اوپیک+ گروپ ممالک کی طرف سےمحدود سپلائی کو جاری رکھنا ہے، وبائی مرض کورونا کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والی یہ معیشتیں پیداوار میں سستی سے اضافہ کر رہی ہیں جس کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.

اس وقت یورپ اور ایشیا میں گیس کی قلت ہے جس نے بجلی کی پیداوار کے لیے تیل کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔ اسکے علاوہ جیسے جیسے کوئلے کی سپلائی چین کم ہوئی ، اس کے نتیجے میں بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی مانگ میں اضافہ ہوا.

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے بھی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا،تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب کئی اشیا کی پیداوار اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہے.

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ایکویٹی مارکیٹوں میں بھی قلیل مدتی گھبراہٹ پیدا کرسکتا ہے۔ 

ماہرین کاکہناتھاکہ موسم سرما سے قبل گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،جس نے کچھ صارفین کو گیس سے خام تیل کی طرف آنے پر آمادہ کیا.

ایک اور تجزیہ کار بجارنے شیل ڈروپ کااس حوالے سے کہناہےکہ قدرتی گیس کی انتہائی زیادہ(مہنگی) قیمتیں قدرتی گیس کی جگہ تیل کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کرسکتی ہیںلیکن ہم نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کی صورتحال کا تجربہ نہیں کیا جس میں قدرتی گیس کی قیمتیں تیل کی قیمت سے دوگنی ہوں۔

اہم خبریں سے مزید