سیالکوٹ واقعے پر سوشل میڈیا صارفین شدید برہم

December 04, 2021

سیالکوٹ میں پیش آنے والے وحشتناک اور بے رحم واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

گزشتہ روز صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک نجی فیکٹری کے ورکرز نے توہینِ مذہب کے نام پر اپنی ہی فیکٹری کے سری لنکن مینجر پریانتھا کمارا کو بےرحمی سے قتل کرکے لاش کو جلادیا تھا۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا پر سفاک مجرمان کے خلاف شدید ردّعمل دیا جارہا ہے اور ساتھ ہی پاکستانی عوام شرمندگی کا اظہار بھی کررہے ہیں ۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز سے ہیش ٹیگ ’سیالکوٹ‘ ٹاپ ٹرینڈ ہے جہاں صارفین اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے واقعے پر ردّعمل دیتے نظر آرہے ہیں۔

فجر نامی صارف نے وزیراعظم عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’سر! میرا خیال ہے کہ آپ کو سیالکوٹ کے واقعے کی ناصرف مذمت کرتے ہوئے ایک مضبوط عوامی بیان دینا چاہیے بلکہ قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کیا صحیح ہے اور کیا سراسر غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے۔‘

صارف نے کہا کہ ’ہمارے یہاں اکثریت مذہب کے بارے میں اندھی جذباتی ہے، پھر بھی اپنے اخلاق سے ناواقف ہے۔‘

آمنہ نامی صارف نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ’3 دسمبر 2021 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، ہم سری لنکا سے معذرت خواہ ہیں۔‘

حمزہ کیانی نامی صارف نے کہا کہ ’سیالکوٹ میں کل کے المناک واقعے پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس قدر شرمندہ ہوں کہ میں آپ کو اپنے جذبات سے آگاہ نہیں کر سکتا۔‘

ہمایوں نامی صارف نے پنجاب پولیس سے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’جب یہ واقعہ ہو رہا تھا تو پولیس کہاں تھی؟ کیا علاقے میں کوئی ڈی پی او نہیں ہے؟ کیا پولیس اتنی کمزور ہے کہ ایسے معاملات میں کوئی ایکشن لے؟

صائمہ نامی صارف نے کہا کہ ’یہاں ہر شخص خدا بننے میں مصروف ہے، یہ تماشا بھی خدا دیکھ رہا ہے۔‘

کیپٹن مجیب نامی صارف نے کہا کہ ’سیالکوٹ میں جو کچھ ہوا اس پر بطور پاکستانی میں شرمندہ ہوں، سری لنکن بھائیو اور بہنو، ہمیں معاف کر دیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی گئی تھی۔

مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔