احمق پھپھوندوی

July 13, 2022

احمق پھپھوندوی 1896ء میں یو۔پی کے قصبے پھپھوند میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام محمد مصطفیٰ خان تھا۔ پہلے مداح تخلص کرتے تھے بعد میں احمق بھی شامل کرلیا لہٰذا دو تخلص ہوگئے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص رنگ تھا جس کی تقلید کرنا آسان نہیں۔ اکبر کے بعد ظرافت کی حلاوت اور سودا کے بعد طنز کی نشتریت سب سے زیادہ احمق کے کلام میں ملتی ہے۔ ان کا سیاسی کردار بھی بہت نمایاں اور قابل فخر رہا ہے۔

وہ ہندوستان کی فوجی تحریکوں سے ہمیشہ وابستہ رہے اور بڑے خلوص کے ساتھ آزادی کی جنگ میں حصہ لیا۔ کئی بار جیل بھی گئے، ہندی زبان اور ادبیات پر بھی عبور تھا۔ گاہے گاہے ہندی میں بھی لکھتے تھے۔ انجمن ترقی اردو (ہند) نے جو ہندی اردو لغت شائع کی ہے، اس کی ترتیب و تدوین اور تالیف میں بیشتر حصہ جناب احمق پھپھوندوی کا ہے۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں ’’سنگ دخشت‘‘ اور ’’نقش حکمت‘‘ ’’زندان حماقت‘‘ اور ’’جوش عمل’’ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے قومی شاعری بھی کی اور عصرحاضر کے اہم سیاسی مسائل پر بہت نظمیں لکھیں۔ اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے سنجیدگی کا دامن مزاح میں بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا یعنی ان کے طنز میں نشتریت ہے، تعصب نہیں۔ مزاح میں خلوص ہے، چھچھورا پن نہیں۔ شاعری میں روانی، جوش بیان، حسن ادا اور ندرت خیال ہے محض قافیہ بندی نہیں۔ احمق پھپھوندوی محض ہنسنے ہنسانے والے شاعر نہیں تھے۔ انہوں نے ادب میں بعض نئی راہیں کھولیں، کچھ انفرادی اسلوب بھی پیش کیے ان کا آخری دورعسرت اور تنگدستی میں بسر ہوا، بیماری نے مفلوک الحال کردیا۔

جنگ آزادی کے مجاہد اور قومی نظریات کے پرستار کا عسیرالحال اور تنگ دست ہونا قابل صد افسوس ہے۔ بہرحال زندگی کی کشاکش سے نبردآزمائی کرتے ہوئے برصغیر کے مشہور قومی شاعر جناب احمق پھپھوندوی 8؍اگست 1957ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

ادب نوازی… احمق صاحب ایک مشاعرے میں بن بلائے گئے جس میں اکثر شعراء ان کی پسند کے نہ تھے۔ انہوں نے اپنے تخلص کا سہارا لے کر یہ مقطع پڑھا؎

ادب نوازی اہل ادب کا کیا کہنا

مشاعروں میں اب احمق بلائے جاتے ہیں

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔

تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ قارئین کے پرزور اصرار پر نیا سلسلہ میری پسندیدہ کتاب شروع کیا ہےآپ بھی اس میں شریک ہوسکتے ہیں ، ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی