Advertisement

مہمند ڈیم: بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوگا

May 09, 2019
 

گوھر علی خان، پشاور

وزیر اعظم عمران خان نے بالاآخر کثیرالمقاصد مہمند ڈیم ’’ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھ دیا، ماہرین کے مطابق ڈیم سے 800 میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ 1.2 ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی جس سے چارسدہ ، مہمند اورخیبر پختونخواکے دیگر ملحقہ علاقوں کے باشندے مستفید ہونگے، مذکورہ منصوبہ تین ارب ڈالر کی لاگت سے پانچ سال میں مکمل کیا جائیگا۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں گورنر خیبر پختونخوا وزیر اعلیٰ محمودخان ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر ۔ چیئر مین واپڈالیفٹیننٹ جنرل (ر)مذمل حسین اور ڈیم کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیر اعظم کو ڈیم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تکمیل کے بعد مہمند ڈیم سے سالانہ دو ہزار 862 گیگا واٹ بجلی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ں1.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی ملے گی اور اس سے 17 ہزار ایکڑ بنجر زمین بھی زیر کاشت لائی جاسکے گی۔مہمند ڈیم دریائے سوات پر چارسدہ اور ضلع مہمند کے سنگم پر تعمیر کیا جارہاہے جو پشاور سے 48 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مہمند ڈیم سے صوبائی دارالحکومت کو 13.32 ملین کیوبک میٹر پینے کا صاف پانی بھی مہیا کیا جائیگا۔ چیئر مین واپڈا کا کہنا تھا کہ ڈیم سے ضلع مہمند میں پانی کی کمی کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہوجائیگا اور پشاور ،چارسدہ ،نوشہرہ اوردیگر اضلاع سیلابوں سے محفوظ ہوجائیںگے۔منصوبہ 183 ارب روپے کی لاگت سے پانچ سال میں مکمل کیاجائیگا ' منصوبے پر کام کے آ غاز سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی میسر آنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں غربت میں کمی واقع ہو گی۔وزیر اعظم کو مہمند ڈیم کے حوالے سے جو بریفنگ دی گئی ہے اللہ کرے یہ تمام باتین سچ ثا بت ہوجائیں اور ایسا ہی ہو ، کیونکہ سنگ بنیا د سے قبل بعض عناصر نے اس منصوبے کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی ۔اس سے قبل کالاباغ سیمیت دیگر منصوبے سیاست کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جس کا خمیازہ اس ملک کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی صورت میں بھگت چکے ہیں ۔حقیقت یہ ہے مہمند ڈیم کا منصوبہ کوئی نیا نہیں بلکہ تاریخی شواہد کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر کا فیصلہ بھی بدقسمتی سے ایک فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا یہ سابق قبائلی علاقہ ضلع مہمند اور ضلع چارسدہ کے سنگم پر علاقہ ’’پٹی بانڈہ ‘‘میں واقع ہے ۔ مرحوم صدر ایوب خان کے دور میں اس ڈیم کے سائٹ پر کام ہوا اور مقامی لوگوں کے مطابق اس ڈیم کیلئے سروے مکمل کرانے کے لئے مقامی قبائل کو اسکی حفاظت پر بھی مامور کیا گیا تھا ۔ایوب خان کا دور ختم ہونے کے بعد یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا جسے اب دوبارہ نہ صرف زندہ بھی کیا گیا بلکہ اس پر باقاعدہ کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو دودومرتبہ ڈھائی ڈھائی سال تک جمہوری حکمران کے بعد ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ ن اب مسلسل دس سال تک ملک پر مکمل جمہوری حکمرانی کی مگردونوں جمہوری حکومتوں کو دس سال میں ایک بھی مرتبہ یہ اتنے بڑے اور اہم منصوبے پر کام کرنے کی توفیق نہ ہوئی بلکہ حسب روایت وہ کالا باغ ڈیم جسے متنازعہ منصوبے پر ہی سیاست کرکے رخصت ہوگئے ۔ اس وقت ملک میں بجلی کی قیمت اور پانی کی قلت کا جو صورت حال ہے وہ خطرنات حد تک پہنچ چکی ہے غریب عوام میں بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی دنیا مانتی ہے کہ سسٹی بجلی صرف پانی سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانی سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے مگرا س کے باوجو د ماضی کے حکمرانوں نے پانی کی بجائے کوئلے اور تیل سے مہنگی بجلی پید ا کرنے کے منصوبوں پر اس ملک کے غریب عوام کے اربوں روپے ضائع کئے گئے جس کا خمیازہ آج بھی اس ملک کے غریب عوام بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ا ب جبکہ مہمند ڈیم منصوبے پر کام کا آغاز کردیا ہے ہو گیا ہے تو تکمیل کے بعد اس منصوبے کے ثمرات بھی نہ صرف مقامی لوگوں کو بلکہ پورے صوبے اور ملک کے عوام کو رائلٹی ،سستی بجلی اور لوڈشیڈنگ میں مذید کمی کی صورت میں ملنے چائیے ۔

گزشتہ دنوں پشاور کے ایک مقامی اسکول میں بچوں کو پولیو قطرے پلانے کے دوران بعض بچوں کی حالت خراب ہونے کی افواہوں اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال اگرچہ تھم چکی ہے مگر ان افواہوں کے نتیجے میں پولیو مہم کوجو نقصان پہنچا اس کا ازالہ کرنے میں شاید سال لگ جائے۔ان افوہوں کے بعد نہ صرف صوبے میں جاری پولیو امہم روک دی گئی ہے بلکہ پولیو کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والوںکی حوصلہ افزائی ہوئی جس کے نتیجے میں انکاری والدین کی تعدادمیںتشویشناک حدتک اضافہ ہوچکاہے جس نے محکمہ صحت کو بھی چکرادیا ہے اگرچہ صوبائی حکومت او ر محکمہ صحت نے والدین کو مطمئن کرنے کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا پر مسلسل ان افواہوں کو بے بنیاد اور سازش قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر پولیوکے خلاف منفی پراپیگنڈ ا کرنے والوںاس کو کوئی اثر ہوا نہ ہی انکاری والدین کومطمعین کیا جاسکااور یوں انکاری والدین کی تعداد بڑھتی گئی جس میں سوشل میں میڈیا بھی منفی کے نتیجے میں اس ڈرامے کی حقیقت جانے بغیر ہزاروں کی تعداد میں بچے اور انکے والدین مختلف ہسپتالوں میں پہنچ گئے تھے کیونکہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے پولیو قطروں سے بے ہوش ہونیوالے بچوں کے بارے میں افواہیں پھیلائیںجس نے اسکول جانے والے بچوں کے والدین کو تشویش میں مبتلا کردیا کہ کہیں انکے بچوں کو تو پولیو سے بچاو کے قطرے نہیں پلائے گئے ان افواہوں کے پلانے میں جہاں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا وہاں بعض نجی اسکولوں کے سربراہان نے بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے حکومتی ٹیموں کو اسکول نہ آنے اور بچوں کو انکے گھروں میں قطرے پلانے کیلئے میڈیا کا سہارا لیا ۔حکومتی بے حسی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان افواہوں کے باعث ہزاروں بچوں اور والدین کو اذیت میں مبتلا کرنے والے مٹھی بھر چند عناصر اور بعض نجی اسکولوں کے ذمہ داروں کی کوئی خاص سرزنش دیکھنے میں نہیں آئی، جہاں حکومتی اہلکار نہ صر خاموش رہے بلکہ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں بھی ناکام رہے اسی طرح پولیو کے خاتمے کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ اور چار چار لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر پر کشش مراعات لینے والے پولیو افسران بھی متحرک نہ ہوسکے بلکہ اس تمام ڈرامے کے دوران ان کی کارکردگی محض’’ واٹس ایپ‘‘ پیغامات تک ہی محدود رہی ۔ ابھی تک پولیو کے حکام یہ بھی بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر مذکورہ اسکول میں ریکشن ہوا ہے یا بچے بے ہوش ہوئے ہیں تو یہ پولیو ویکسین سے ہوا یا پھر وٹامن ڈی سے ہوا ہے ۔تاہم محض خانہ پوری کے لئے ایک شخص کوگرفتار کرکے کاروائی ڈالی گئی مگر وہ بھی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے۔ 2019پولیو کا آخری سال قرار دیا جارہا تھا اور غالب امکان تھا کہ اس سال پورا ملک پولیو سے پاک قرار دیا جائیگا لیکن جب پولیو کے خاتمے کے دن قریب آگئے تو ’’نامعلوم‘‘ قوتیں اسکے خلاف متحرک ہوگئیں ۔مختصر عرصے کے دوران پولیو کے کارکنوں اور انکی حفاظت پر مامور پانچ پولیو اہلکاروں پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔ پولیو کے حوالے اس تازہ واقعے کے بعد بھی تادم تحریر پولیو ڈیوٹی پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو شہید کیا جاچکا ہے جبکہ اس سے قبل ضلع مہند میں نوجوان پولیو کوآرڈنیٹر واجد مہند کو ان کے گھر کی دہلیز پر بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ مگر ابھی تک بے گناہ پولیو ورکرز کونشانہ بنانے والے ملک دشمن عناصر کو سزا دی جاسکی ہے نہ ہی شہیدہونے والے کسی پولیو ورکرز کے بچوں کے لئے کسی قسم کی مالی پیکج کا اعلان کیا جاسکا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے سابقہ قبائلی علاقوں میں انتخابات کے تمام انتظامات مکمل کردئیے ہیں۔ صوبے میں ضم ہونے والے ان سابقہ قبائلی اضلاع میں 16عام ،چار خواتین اورایک اقلیتی مخصوص نشست پر انتخابات ہونگے ۔صوبائی الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کیا کہ یہ انتخابا ت 2018کے انتخابی قوانین کے تحت ہورہے ہیں اور جو قوانین اس وقت لاگو تھے وہ ان انتخابات میں بھی لاگو رہیں گے ۔


مکمل خبر پڑھیں