Advertisement

فلموں سے تانگے والا، ٹیکسی ڈرائیور اور حویلی کا نوکر کیوں غائب ہوگیا؟

September 03, 2019
 

فلم کو سستی اور عوامی تفریح کہا جاتا ہے۔ وہ بھی کیا حسین دور تھا، جب پاکستانی فلموں کی ٹکٹس کے لیے لمبی لمبی لائنیں لگتی تھیں۔ فلموں کا ہیرو رکشا ڈرائیور، تانگے والا، ٹیکسی ڈرائیور، حویلی کا وفادار نوکر، مزدور یونین لیڈر، محنت کش کسان، گدھا گاڑی چلانے والا مزدور، قلی، ہوٹلوں کا ویٹر، تماشا دکھانے والا مداری، بینڈ باجے والا، موٹر میکینک، گھروں میں خط ڈالنے والا ڈاکیا، جوگی، سپیرا، مچھیرا اور کوئلوں کی کان میں کام کرنے والا مزدور لیڈر کے رُوپ میں نظر آتا تھا۔ آہستہ آہستہ پاکستانی فلموں سے ان دل چُھو لینے والے کرداروں کو غائب کر دیا گیا۔ فلموں میں مزدور کی نمائندگی کو ختم کر دیا گیا۔ بڑے بڑے بنگلے، مہنگی ترین گاڑیاں اور لاکھوں روپوں کے قیمتی لباس فلموں کی اوّلین ترجیح بن گئے۔ فلموں سے دیہات اور دہقانوں کے مناظر غائب ہونے لگے۔ آج کل کی فلم کا ہیرو تھری پیس سوٹ کے بغیر نظر ہی نہیں آتا،یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فلمیں ماضی کی طرح سپرہٹ ثابت نہیں ہو رہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک فلموں میں مزدور طبقے کی نمائندگی نہیں ہوگی، فلم انڈسٹری کا مکمل احیاء ممکن نہیں ہے۔

آج کی فلموں میں عام آدمی کے کردار نظر نہیں آتے۔ ماضی کی فلمی دُنیا میں جھانکیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فلمی کہانیوں میں ہی نہیں، کرداروں میں بھی نمایاں فرق نظر آتا ہے۔اب تانگے والا، ٹیکسی ڈرائیور اور مزدور کے کردار ہی ختم نہیں ہوئے، پُرانی حویلیاں بھی نہیں دکھائی جاتیں اور نہ حویلی کے نوکر۔ایسا کیوں ہوا؟ عام آدمی جو آج بھی مزدور ہے، وہ گدھا گاڑی بھی چلاتا نظر آتا ہے اور تانگہ چلاتا بھی ۔ایسا کیوں ہوا کہ کل کے مقبول کردار آج کے کہانی نویسوں کو نظر ہی نہیں آتے، وہ کردار کیوں غائب ہوگئے؟ یہی سوال لے کر ہم نے معروف فلمی کہانی نویس ناصر ادیب، سید نور اور اداکار توقیر ناصر کے پاس لے کر گئے۔ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے کیا کہا،آپ بھی پڑھ لیں۔

سید نور

معروف ہدایت کار اور ان گنت فلموں کے مصنف سید نور نے جیوا، سرگم، ہوائیں ، گھونگھٹ دیوانے تیرے پیار کے اور ’’چوڑیاں‘‘ جیسی شاہ کار فلموں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ہمارے موضوع پر بات کرتےہوئے بتایا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ اب فلم کا مزاج کافی حد تک بدل گیا ہے۔ ہماری پاکستانی فلموں پر بالی وڈ کا زیادہ اثر ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور، کسان، مزدور، نوکر اور تانگے والےکے کردار پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ماضی میں فلمیں ان کرداروں کے گرد گھومتی تھیں۔ اب ٹیکسی ڈائیور بھی وہ نہیں رہا۔ ڈرائیورز آن لائن گاڑیاں چلا رہے ہیں۔

ان کے رنگ ڈھنگ بدل گئے ہیں۔ ہم لوگ غربت کا شور تو مچاتے ہیں، لیکن میرے نزدیک ہمارےملک سے غربت کسی حد تک ختم ہو گئی ہے۔ تانگے شہروں سےختم ہو گئے ہیں، گاؤں میں رکشا زیادہ چل رہا ہے۔ گدھا گاڑی کی جگہ موٹر گاڑیوں نے لے لی۔ مشینری دور آگیا ہے۔ اب گائوں اور گوٹھوں میں بھی کچے گھر دیکھنے کو نہیں ملتے، زیادہ تر پکے گھر بنے ہوئے ہیں۔ پہلےبیل کی مدد سے کسان ہل جلاتا تھا۔ اب بیل کی جگہ ٹریکٹر آگئے۔ فلم’’پنجاب نہیں جائوں گی‘‘ میں گائوں بھی دکھایا گیا اور بھینسوں کے باڑے بھی۔ دنیا بدل گئی ہے۔ معاشرے میں ماضی والے کردار ہی نہیں رہے۔ جن کو فلموں میں فوکس کیا جائے۔ سب سے پہلے ہمیں عام آدمی کےلیے سینما گھر بنانے ہوں گے۔ دُنیا کےساتھ چلنا پڑتا ہے۔ دنیا کا سارا نظام بدل رہا ہے۔ ہمیں بھی بدلنا ہو گا۔ مثبت سوچ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

پاکستان فلم انڈسٹری میں تاریخ رقم کرنے والی فلم’’ مولا جٹ‘‘ کے مصنف ناصر ادیب کا کہنا ہےکہ ایک مرتبہ پھرکسان ، مزدور ، ٹیکسی ڈرائیور ، فلموں میں ہیرو کے روپ میں پیش ہوں گے۔ وہ دور پھر سے آئے گا۔ماضی کی فلمیں زندگی سے قریب تر اور حقیقت کا رنگ پیش کرتی تھیں۔ اب مصنوعی کرداروں سے فلمیں بن رہی ہیں۔ ماضی میں پروڈیوسرز ہم سے معاشرے کی ناہمواریوں اور سچائیوں پر مبنی کہانی کی بات کرتے تھے۔ ان کو اچھی اچھی کہانیاں چاہیےتھیں۔ اب پروڈیوسر ہمارے پاس کہانی اور فلم کا ٹائٹل تک لے کر آتا ہے۔ ایسے میں ہم لکھاری کیا کریں۔ میں نے ’’مولا جٹ‘‘ سمیت سینکڑوں فلمیں لکھی ہیں۔ میرے فلموں کے کردار بھی مقبول ہوتے تھے۔ پنجابی فلمیں بننا شروع ہو ئیں تو عام آدمی کو ہیرو کے روپ میں دیکھیں گے۔ آج کل کی فلمیں میرے سمجھ سے باہر ہیں۔ فلم انڈسٹری کو مسائل سے نکلنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ آج کی فلمیں مقبول اور کام یاب ہو رہی ہیں، مگر کسی فلم لکھنے کا نام ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ ابھی بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کو اچھی کہانیوں کی تلاش ہے‘‘

توقیر ناصر

پاکستان شو بزنس انڈسٹری میں 40برس گزارنے والے نامور اداکار توقیر ناصر کہتے ہیں کہ اب شوبزنس انڈسٹری کی ترجیحات بدل گئی ہے۔ میں نے ٹیلی ویژن کے لیے تقریباً چار سو کردار ادا کیے اور کئی فلموں میں کام کیا۔ ایک فلم جنگ جاری رہے گی، میں سینئر اداکار ندیم کے ساتھ گدھا گاڑی میں ساحل سمندر پر گانا بھی فلمایا۔ ہمارے زمانے میں فیض احمد فیض ،احمد ندیم قاسمی اور حبیب جالب اور ریاض شاہد جیسے عظیم لکھنے والے تھے۔ اب ایسے لکھاری نہیں رہے۔ اور چند جو باقی بچے ہیں، ان سے کام نہیں لیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا بھی بہت طاقت ور ہوگیا ہے۔فلمیں زیادہ تر سوشل میڈیا پر دیکھی جاتی ہیں۔آج بھی اچھی اور معیاری فلمیں بنائی جاتی ہیں، تو اسے سب دیکھتے ہیں۔ ماضی کے فن کار اپنے کرداروں میں جان ڈالتے تھے،اب گلیمر زیادہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہیرو کا خُوب صورت ہونا زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں رنگا رنگی زیادہ آگئی ہے۔ مجھے نئی نسل کے فن کاروں سے بہت امیدیں ہیں۔ چند برس بعد فلم انڈسٹری اپنی ساکھ بحال کر لے گی۔اگر فلم انڈسٹری کو عام آدمی تک پہنچانا ہے، تو سب سے پہلے سینما گھروں کی مہنگی ترین ٹکٹیں سستی کرنا ہوں گی ۔

چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی سینما گھر قائم کیے جائیں اور فلموں میں ٹیکسی ڈرائیورز، نوکر، کسان، قلی، ہوٹلوں میں کام کرنے والے ویٹر کو مرکزی کرداروں میں پیش کرنا ہوگا تا کہ فلمیں حقیقت سے قریب تر نظر آئیں، جیسے ماضی میں فلمیں بنا کرتی تھیں۔ ان کے کردار بھی سپرہٹ ہوتے تھے اور موسیقی بھی مقبول ہوتی تھی۔ نئے فلم ڈائریکٹرز کو ایسے رائٹرز تلاش کرنے ہوں گے جو فلموں کے لیے یادگار اور جاندار کردار لکھ سکیں۔ ماضی میں فلموں میں ڈائیلاگز بھی مشہور ہوتے تھے۔ نئے فلم میکر کوفلموں میں مزدوروں کی نمائندگی دینا ہوگی۔ اس کے بغیر فلم انڈسٹری کا احیاء ممکن نظر نہیں آتا۔ نئی فلموں میں فواد خان، علی ظفر، دانش تیمور، شہریار منور، فہد مصطفیٰ اور ہمایوں سعید کو عوامی نوعیت کےکردار ادا کرنے ہوں گے۔

فلموں میں عوامی کردار کرنے والے مقبول فن کار

محمد علی، مشہور فلم ’’راجا جانی‘‘ میں باجے والے کے کردار، فلم ’’دل کے ٹکڑے‘‘، ’’بڑا آدمی‘‘ اور ’’کنارا‘‘ میں محنت کش تانگے والے کے رُوپ میں نظر آئے۔ فلم ’’ایک پھول ایک پتھر‘‘ میں تماشا دکھانے والا ’’مداری‘‘ بنے۔ فلم ’’آدمی‘‘ میں مزدور بن کر فلم بینوں کی بھر پور توجہ حاصل کی۔ندیم نے فلم ’’اناڑی‘‘ اور ’’پہچان‘‘ میں نوکر کا یادگار کردار ادا کیا۔ سپرہٹ فلم ’’دل لگی‘‘ میں موٹر میکینک، فلم ’’روشنی‘‘ میں ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا، جو لوگوں کو دفاتر میں کھانا پہنچا کر اپنی روزی کماتا ہے۔ اس فلم کا ایک گانا ’’میرے دو پہیوں کے گھوڑے چل‘‘ اس زمانے میں بہت مقبول ہوا۔ وحید مراد نے فلم ’’وقت‘‘ میں رکشا ڈرائیور ،فلم ’’خریدار‘‘ میں ٹیکسی ڈرائیور، فلم ’’سیّو نی میرا ماہی‘‘ میں ٹرک ڈرائیور کے رُوپ میں جلوہ گر ہوئے، جب کہ سپرہٹ فلم ’’مستانہ ماہی‘‘ میں ’’ڈاکیا‘‘ کا کردار ادا کیا۔ فلم ’’سمندر‘‘ میں ’’مچھیرے‘‘ کے رُوپ میں جلوہ گر ہوئے۔ فلم بہن بھائی، جال، خواب اور زندگی، ’’پھر صبح ہوگی‘‘ میں بھی مزدوروں کی نمائندگی کی۔عوامی ہیرو کا خطاب پانے والے علائو الدین نے بھی مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہوئے فلم ’’امانت‘‘ میں ’’ڈاکیا‘‘ کا رُوپ اختیار کیا۔ فلم ’’انتقام‘‘ میں ’’مداری‘‘ بن کر تماشا دکھا کر فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ فلم مہتاب میں ’’گول گپّے بیچنے والے‘‘ کا رول کیا۔ اس فلم کا ایک گانا آج بھی گلی گلی کوچہ کوچہ سُنائی دیتا ہے۔ گول گپّے والا آیا، گول گپّے لایا۔

وہ فلم بدنام میں تانگے والا اور سُسرال میں باجے والا بنے۔برصغیر کے سب سے بڑے اداکار دلیپ کمار ،اپنے کیریئر کی کئی فلموں میں مزدور بن کر سامنے آئے، خواہ وہ ’’پیغام‘‘ ہو یا پھر ’’نیا دور‘‘ کے باغات میں کام کرنے والا مالی ہو یا پھر فلم ’’مزدور‘‘ کا یادگار کردار ہو۔ سب میں حقیقت کے رنگ بھرے۔ امتیابھ بچن اور گووندا نے ’’قلی‘‘ نامی فلموں میں علیحدہ علیحدہ کام کیا۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار شاہد نے بھی کئی فلموں میں عوامی کردار ادا کیے۔ فلم سُسرال، میں ’’شیدا قلعی گر‘‘ کا دل چسپ اور یادگار رول ادا کیا۔ فلم ’’ماضی حال مستقبل‘‘ میں وہ ویٹر بنے۔ فلم ’’بہت خُوب‘‘ میں عوامی پولیس والا اور خواجہ سرا کے رُوپ میں نظر آئے۔ پنجابی فلموں کے غیر معمولی ہیرو سلطان راہی نے بھی دل لگی اور بابل صدقے میں محنت کش مزدور کا کردار نبھایا۔ محمد علی، شاہد اور وحید مراد نے مختلف فلموں میں سپیروں کے کردار بھی ادا کیے۔


مکمل خبر پڑھیں